میاں بیوی کی طلاق کروانے میں ساس پیش پیش ہوتی ہے، تحقیق

میاں بیوی کی طلاق کروانے میں ساس پیش پیش ہوتی ہے، تحقیق
 میاں بیوی کی طلاق کروانے میں ساس پیش پیش ہوتی ہے، تحقیق

  

برمنگھم (نیوز ڈیسک) طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر ماہرین عمرانیات اس کی وجوہات سمجھنے کیلئے مسلسل کوشاں ہیں اور ایک تازہ ترین تحقیق نے اہم ترین وجہ وہی قرار دی ہے جس کا اکثر لوگوں کو پہلے سے خدشہ تھا۔ عائلی قوانین میں مہارت رکھنے والی کمپنی سلیٹر اینڈ گورڈن کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ دو تہائی طلاقیں (تقریباً 66 فیصد) ساس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔طلاق شدہ خواتین اور مردوں کی بھاری تعداد نے بتایا کہ ان کے گھریلو حالات میں تلخی پیدا ہونے کے بعد ان کی ساس نے اپنے بیٹے یا بیٹی کو طلاق کا فیصلہ کرنے کو کہا۔تریسٹھ فیصد شرکاء4 کا کہنا تھا کہ ان کی ازدواجی زندگی پر ان کے گھر والوں کے بہت اثرات تھے۔ چھ فیصد نے بتایا کہ ان کے بچے طلاق کے حق میں تھے جبکہ صرف ایک فیصد نے کہا کہ ان کے بہن بھائیوں نے طلاق کا مشورہ دیا۔خواتین کی بھاری تعداد نے بتایا کہ ان کی والدہ کا شادی کے بعد بھی ان کی زندگی میں گہرا اثر و رسوخ رہا اور وہ اکثر والدہ سے مشورے لیتی رہیں۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ گھریلو حالات خراب ہونے پر والدہ نے خود ہی انہیں طلاق کا مشورہ دیا اور چونکہ والدہ معاملات کو بہتر سمجھتی ہیں اس لئے انہوں نے طلاق لے لی۔

مزید :

عالمی منظر -