قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس، وزارت کی کاوشوں میں تعاون کی یقین دہانی

قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس، وزارت کی کاوشوں میں تعاون کی یقین دہانی

  

لاہور( سٹاف رپورٹر) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے وزارت ریلوے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ریلوے کی بحالی کے لیے وزیر ریلوے اور ان کے رفقاءکی کاوشوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ قائمہ کمیٹی نے سپریم کورٹ سے رائل پام کلب کیس کو جلد نمٹانے کی درخواست بھی کی ہے۔ ہفتے کے روز ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر میر محمد علی رند نے کی اور اس میں وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق قائمہ کمیٹی کے ارکان احمد حسن، مختیار احمد دھمرا، محمد ادریس خاں صافی، کامل علی آغا، مسزنسرین جلیل، ایم حمزہ اور تاج حیدر کے علاوہ چیئرپرسن پاکستان ریلویز مسز پروین آغا، سیکریٹری ریلوے بورڈ ہمایوں رشید، جنرل منیجر آپریشنز محمد جاوید انور، جنرل منیجر ڈویلپمنٹ محمد خالد، انسپکٹر جنرل ریلویز پولیس منیر احمد چشتی، ایڈیشنل جنرل منیجر ٹریفک مقصودالنبی، منیجنگ ڈائریکٹر ریڈیمکو ارشد اسلام خٹک اور ڈائریکٹر جنرل لیگل افیئرز طاہر پرویز سمیت سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی کے اجلاس میں بزنس ٹرین اور رائل پام کلب کے معاملات، مہر ایکسپریس میں ایک مسافر کی پولیس ملازمین کے ہاتھوں ہلاکت، انسدادِ دہشت گردی کے لیے ریلوے پولیس کی تربیت کے علاوہ گوادر میں ریلوے کے لیے زمین کے حصول ، کوئلے کی نقل و حمل اور کراچی سرکلر ریلوے کے مسائل زیربحث آئے۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ بزنس ٹرین کے ساتھ ریلوے کے معاملات اور واجب الوصول رقوم کے سلسلے میں حتمی لائحہ عمل کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس ٹرین بنیادی طور پر ایک ”سیاسی سودا“ تھا جس میں ریلوے کے مفادات کی بجائے پرائیویٹ کمپنی کے مفادات کا اہتمام کیا گیا جس میں بدقسمتی سے اُس دور کی ریلوے انتظامیہ کے اعلی حکام بھی شریک تھے۔انہوں نے بتایا کہ بزنس ٹرین اصل معاہدے کے مطابق ایک ارب روپے جبکہ ای سی سی کے فیصلے کی رو سے 40کروڑ کی نادہندہ ہے اور اِسے ڈیفالٹر قرار دینے کا کیس نیب میں بھی موجود ہے۔ رائل پام کلب کا ذکر کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ اس معاہدے میں بھی ریلوے انتظامیہ پرائیویٹ کمپنی سے ملی ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بغیر ٹکٹ مسافروں کے خلاف کاروائی میں بہتری آئی ہے، تاہم فول پروف سسٹم کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے ابتدائی طور پر 5بڑے ریلوے اسٹیشنوں کا تعین کیا گیا ہے۔

مزید :

علاقائی -