طاہر القادری نے جنرل راحیل کو اپنے تنازع میں گھسیٹ لیا

طاہر القادری نے جنرل راحیل کو اپنے تنازع میں گھسیٹ لیا
طاہر القادری نے جنرل راحیل کو اپنے تنازع میں گھسیٹ لیا

  

 تجزیہ: چودھری خادم حسین

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ اور ادارہ منہاج القرآن کے چیئرمین ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کے حوالے سے عرض کی تھی کہ وہ دھرنا ختم کر کے کینیڈا تشریف لے جائیں گے اور پھر وہاں سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر کے پریشان کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ قبلہ کے بارے میں ان کے معتقد حضرات تو آنکھیں بند کر کے یقین رکھتے ہیں اس لئے ان کو تو نظر نہیں آتا لیکن جو لوگ فہم و فکر کے مالک ہیں اور حالات سے تنگ آ کر محترم کی طرف جھکے وہ اب ان کی کہہ مکرنیوں اور نئے نئے مطالبات سے بے زار ہونے لگے ہیں۔ قبلہ نے نہ تو جنرل (ر) پرویز مشرف کے چیف ایگزیکٹو بننے پر اپنی خوشی کو چھپایا تھا اور نہ ہی اب جنرل راحیل شریف کی تعریف میں بخل سے کام لے رہے ہیں اور اسی آڑ میں سارا وزن بھی جنرل ہی کے پلڑے میں ڈالے چلے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو مسترد کر دینا تو سمجھ میں آتا ہے کہ شاید وہ خود بھی 17جون کے سانحہ کی تحقیقات کو آگے نہیں بڑھنے دینا چاہتے کہ شاید اس طرح کچھ ایسے گوشے بھی سامنے آ جائیں جواب تک نہیں آئے لیکن تعجب تو اس پر ہوا کہ انہوں نے اب براہ راست بوجھ سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی طرف منتقل کر دیا ہے وہ کہتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے دوران جنرل نے تین وعدے کئے تھے ایک یہ کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف مستعفی ہوں گے۔17جون کے سانحہ کی شفاف تفتیش ہو گی اور ایف آئی آر درج ہو گی ان میں سے صرف ایف آئی آر والا وعدہ پورا ہوا ہے۔ باقی دو ابھی تک نہیں مانے گئے۔ جنرل یہ بھی پورے کریں اور انصاف دلائیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری اس ملاقات کا حوالہ دے رہے ہیں جو کنٹینر سے نکل کر انہوں نے راولپنڈی میں کی تھی اور کافی انتظار کے بعد ان کو اجازت دی گئی اور وہ خوشی سے چھلانگیں لگاتے ہوئے گئے اور واپس آ کر خوشخبری کا کہا لیکن بتا نہ سکے کہ وہ کیا ہے اسی روز محترم عمران خان بھی مل کر آئے تھے اب ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی روایت پوری کی اور اپنے تینوں مطالبوں کو جنرل راحیل شریف کے وعدے سے منسوب و منسلک کر دیا ہے۔ وہ خود کینیڈا میں تشریف رکھتے ہیں۔ یہاں ان کے نائب ڈاکٹر رحیق عباسی کہتے ہیں وہ 20نومبر کو واپس آئیں گے جس میں جرا¿ت ہے ان کو گرفتار کر لے۔ اگرچہ وہ اب بھی ویسی ہی اشتعال انگیز گفتگو کر رہے ہیں جیسی کنٹینر کے دور میں کرتے تھے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح عمران خان کی طرف سے بھی ایسی ہی پوزیشن اختیار کی گی تاہم عمران خان کم از کم صفائی دینے لگے ہیں کہ ان کا کوئی کارکن پی ٹی وی نہیں گیا اور وہ کنٹینر میں سو رہے تھے۔ عمران خان بھی بھول گئے کہ انہوں نے کہا تھا ۔ میرے چیتے نکلیں گے۔ میں خود آگے قیادت کروں گا“ جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری نے تو قبضے کا اعلان کر دیا تھا اب یہ حضرات الگ پوزیشن لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خاں سٹیٹس کو توڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر وہ خود بھی اسی حالت کے حامی نظر آتے ہیں۔ خیبرپختون خوا کے بارے میں چھپنے والی خبریں بھی مظہر ہیں کہ وہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ڈاکٹر قادری تو انقلاب لائے بغیر کینیڈا چلے گئے حالانکہ وہ خالی ہاتھ واپسی پر شہادت کا درجہ پانے کی بات کرتے تھے۔

بار بار لکھا کہ موجودہ دور میں تبدیلی کے سارے راستے پارلیمنٹ سے ہو کر گزرتے ہیں اور یہ حضرات پارلیمنٹ کے فورم کو استعمال ہی نہیں کر رہے اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے خود کو ہر قانون اور اصول سے بالاتر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ ان کو اب عدلیہ سے رجوع کر لینا چاہئے تھا۔

دوسری طرف حکمران سنبھل جانے کے باوجود مخمصے کا شکار ہیں، حکومتی رٹ کے نفاذ کی بات کرتے ہیں لیکن عملی طور پر یہ ممکن نہیں ہو رہا، اب اگر عدالتوں نے وارنٹ جاری کئے ہیں تو پھر صرف یہ کہنا کہ گرفتاری کا کام پولیس کا ہے کافی نہیں۔ حکومت کو جہاں عوام اور پاکستان کے بنیادی حقوق کا بھرم رکھنا ہے وہاں ریاستی رٹ قائم کرنا اور قانون کی حکمرانی کو ترجیح دینا بھی اسی کا فرض ہے۔ اب اگر پھر نعشیں حاصل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تو حکومت کو بھی اپنی حکمت عملی تیار کرنا ہو گی۔ بنیادی حقوق کے حوالے سے جلسے اور احتجاج حق ہی ہیں لیکن انداز کیا ہے۔ 30نومبر کا کہا جا رہا ہے۔ اس کے بعد پہیہ جام کی کال دی گئی تو مسائل اور بڑھ جائیں گے۔ اس پس منظر میں پالیسی بنائی جائے تو بہتر ہو گا۔

مزید :

تجزیہ -