محکمہ داخلہ سے کالعدم تنظیموں اور دہشتگردوں سے متعلق حساس ریکارڈ سمیت اہم رپورٹس غائب

محکمہ داخلہ سے کالعدم تنظیموں اور دہشتگردوں سے متعلق حساس ریکارڈ سمیت اہم ...

  

 لاہور(کرائم سیل)محکمہ داخلہ پنجاب سے کالعدم تحریک طالبان ودیگر تنظیموں اور 112دہشت گردوں سے متعلق حساس ریکارڈ اور اہم رپورٹس کی 290سے زائد فائلیں غائب ہونے کا انکشاف جبکہ 1990 میں سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری پر قاتلانہ حملے کے الزام کی تحقیقاتی رپورٹ بھی غائب ہے جس کا وزیر اعلیٰ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم دے دیا۔ اعلیٰ بیورو کریسی میں ہلچل مچ گئی تاہم معاملہ چھپایا جا رہا ہے محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق پہلے ڈاکٹر طاہر القادری کی فائل غائب ہونے کا علم ہوا 24سال قبل ہونے والے واقعہ کی انکوائری رپورٹ ایف آئی آر سمیت کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے چیف سیکرٹری کو تحقیقات کا حکم دیا جس پر چیف سیکرٹری نے معاملہ سیکرٹری میجر (ر) اعظم سلیمان کے سپرد کر دیا اور آگے انہوں نے سیکرٹری صحت جواد رفیق ملک کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی بعد ازیں چھان بین کی گئی توپتا چلا کہ طالبان سمیت کالعدم تنظیموں اور ان کے دہشت گردوں کا ریکارڈ جبکہ وزارت داخلہ، انٹیلی جنس، پولیس و دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے آنے والی اہم ر پورٹس بھی غائب تھیں ۔ بتایا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے نفیس الرحمن، حافظ محمد صغیر، مطیع الرحمن، استاد طلحہ، تنویر احمد، روزہ دین، سعید اللہ، اعجاز سلمان ڈار، عزیزجہان، ارشاد اللہ بٹ، منصور، ابراہم عرف چھوٹا، قاری احسان، رانا ا8ھمد افضل ، قاری عبیداللہ، محمد ہارون، طیب عرف بابا جی، فیض عرف قاسم ، اکرام اللہ، قاری یاسین عرف اسمہ، نورالامین عرف خالد پٹھان، عبدالحمید عرف ابو، بلالا عرف عبدالرحیم اور محمد زبیر عرف مغیر اے فاروق سمیت متعدد خطر ناک دہشت گردوں سے متعلق کوئی تفصیل اب محکمہ کے پاس نہیں جبکہ افسروں سمیت تمام ملازموں کو معاملے پر کوئی بھی بات کرنے سے منع کر د یا گیا ہے ، صوبائی محکمہ داخلہ کے حکام کا کہنا تھا کہ گم ہونے والے ریکارڈ کی تلاش جاری ہے جبکہ کالعدم تنظیموں سے متعلقہ تمام ریکارڈ انتہائی حساس ہے لہذا اس حوالے سے کچھ نہیں بتا سکتے۔

مزید :

علاقائی -