نئی مانیٹری پالیسی جاری ، شرح سود میں 0.5فیصد کمی ،9.5فیصد مقرر

نئی مانیٹری پالیسی جاری ، شرح سود میں 0.5فیصد کمی ،9.5فیصد مقرر

  

                  کراچی/اسلام آباد(اے این این) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لئے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،بنیادی شرح سود 0.5فیصد کمی کے ساتھ 9.5فیصد مقرر،مالیاتی پالیسی کے مطابق حکومتی اقدامات کے باعث مہنگائی میں کمی آئی،بجٹ خسارہ کم کرنے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے، بجلی پر سبسڈی کے خاتمہ اور گیس پر ٹیکس سے مہنگائی بڑھ سکتی ہے،زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے نجی شعبے کو قرض فراہمی میں مدد ملے گی۔سٹیٹ بنک کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اگلے دو ماہ کے لئے نئی مانیٹری پالیسی جاری کر دی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سیلاب کا محدود اثر اور اجناس کی عالمی قیمتوں کا سازگار رجحان ستمبر کے بعد کے زری پالیسی فیصلے کے نمایاں پہلو ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اکتوبر 2014ءمیں گرانی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت ( سی پی آئی)(سال بسال) تیزی سے گھٹ کر 5.8 فیصد پر آگئی ۔ اس کمی کی وضاحت ان عوامل سے ہوتی ہے ، غذائی اشیاءکی بھرپور رسد ، جس سے تلف پذیر اشیاءکی قیمتیں قابو میں رہیں، زوال پذیر سرکاری قیمتیں جن میں اجناس خصوصاً تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں کمی شامل ہے، پست گرانی کی توقعات جو آئی بی اے اور اسٹیٹ بینک کے اعتماد صارفین سروے سے ظاہر ہوتی ہیں اور نمایاں بیس افیکٹ۔ یہ حالات بالعموم دیگر معاشی متغیرات کے امکانات کے حوالے سے نیک شگون ہیں۔ گرانی کے حالیہ زوال پذیر رجحان کے پیش نظر رواں مالی سال میں گرانی کے پست تر سطح مرتفع پر ہونےکا امکان بلند ہے لیکن کچھ خطرات ہیں ۔ اول ، وسط تا طویل مدت کے دوران نیچے کی طرف جانے کا رجحان ابھی دیکھنا باقی ہے کیونکہ اس کی بنیاد ’ تلف پذیر اشیائ، اور ، تیل کی تغیر پذیر قیمتوں پر ہے ۔ دوم پچھلے بیان میں جو خطرات بیان کیے گئے تھے جیسے بجلی کی سبسڈی میں کٹوتی اور گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس پر محصول عائد کرنا ابھی تک قائم ہیں اور اگر انہوںن ے حقیقت کا روپ دھارا تو گرانی کے امکانات بدل کر بلندی کی طرف جاسکتے ہیں۔ سوم ، قوزی گرانی پر گرانی کا دباﺅ برقرار ہے۔ تیل کی موجودہ پست قیمتیں نمو کی کچھ ضائع شدہ تحریک کو بچا سکتی ہیں تاہم توانائی کے شعبے میں رکاوٹوں کی وجہ سے بڑے پیمانے کی اشیاءسازی کی نمو محدود رہے گی چنانچہ نمو کی تحریک کا اصل زورم 15ءکے بقیہ مہینوں کے زرعی نتائج سے آئے گا ۔ خریف کی بعض فصلوں کو سیلاب سے ہونےوالے محدود نقصانات کو چھوڑ کر زرعی پیداوار کی کارکردگی پچھلے سال سے بہتر ہونے کی توقع ہے خصوصاً اس وقت جبکہ ربیع کی فصلوں کیلئے ترغیبات کا اعلان کیا جاچکا ہے جیسے گندم کی امدادی قیمت میں 100 روپے کا حالیہ اضافہ۔ حکومت نے میزانیہ عدم توازن کو کم کرنے میں خاصی پیشرفت دکھائی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اخراجات اور قرض لینے کے موجودہ انداز کے پیش نظر حکومت مزید مالیاتی استحکام حاصل کرنے کے درست راستے پر گامزن ہے۔ اس صورتحال کے اسٹیٹ بینک کے زری انتظام کیلئے مثبت مضمرات ہیں اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آئندہ مہینوں میں نجی شعبے کے قرضے کے چکر پر اسکا سازگار اثر ہوگا تاہم طویل مدت میں مالیاتی استحکام حاصل کرنے کیلئے ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنےکی ساختی اصلاحات ضروری ہیں گرتی ہوئی گرانی کے ساتھ تیل کی پست قیمت پاکستانی برآمدات کی مسابقت کی قوت بہتر بنا سکتی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -