عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو دنیا بھر میں پولیو پھیلانے والا واحد ملک قرار دیدیا

عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو دنیا بھر میں پولیو پھیلانے والا واحد ملک قرار ...

  

                جنیوا(اے این این)عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو دنیا بھر میں پولیو وائرس پھیلانے والا واحد ملک قرار دیدیا۔عالمی ادارہ صحت کی ہیلتھ کمیٹی نے دنیا بھر سے پولیو کے خاتمے کے لئے نئی ہدایات جاری کر دی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جس سے پولیو دنیا میں پھیل رہا ہے، رواں برس جولائی سے اب تک 3 بار پولیو وائرس پاکستان سے افغانستان منتقل ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی بیلتھ کمیٹی کی رپورٹ میں پاکستان سے پوچھا گیا ہے کہ کتنے پاکستانی سرٹیفیکیٹ لے کر بیرون ملک گئے اور کتنے افراد کو پولیو سرٹیفیکیٹ نہ ہونے پر بیرون ملک جانے سے روکا گیا۔بین الاقوامی ہیلتھ کمیٹی نے پاکستان کو 6 ماہ میں پولیو وائرس پر قابو پانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو سرٹیفیکٹ کے بغیر کسی کو بھی بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے اور پولیو سرٹیفیکیٹ سے متعلق تمام معلومات فراہم کی جائیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگر پولیو وائرس سے متعلق دی گئی ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستانی مسافروں کی اسکریننگ کی جائے گی۔ کمیٹی کا آئندہ اجلاس چھے ماہ بعد ہو گا اور اگلے اجلاس سے قبل پاکستان انسداد پولیو کے قطرے پینے والوں کا ریکارڈ مہیا کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق کیمرون ،گنی، پاکستان اور شام پر سفری پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔دوسری جانب امریکن سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی)نے کہا ہے کہ پولیو کے مرض کو عالمی سطح پر ختم کرنے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا گیا ہے۔ مرکز کے ماہرین کے خیال میں پولیو کے وائرسز کے تیسری قسم کے دوسرے وائرس کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے ذریعے ختم کیا گیا ہے۔پولیو کی تیسری خطرناک قسم کے وائرس ٹائپ تھری گذشتہ دو سالوں میں کہیں پر بھی نہیں ملے ہیں۔ ٹائپ ٹو وائرس کو سنہ 1999 میں ختم کیا گیا تھا۔سی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق تیسری قسم کے وائرس کا آخری کیس نومبر سنہ 2012 میں پاکستان میں سامنے آیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ وائرس پاکستان سے سنہ 2013 میں شام پہنچا تھا۔سی ڈی سی کے گلوبل ہیلتھ کے سینیئر مشیر ڈاکٹر سٹیفین کوچی نے کہا کہ ہم نے تیسری قسم کے دوسرے وائرس کو ختم کیا ہوگا، یہ ایک بہت بڑا سنگِ میل ہے۔پاکستان میں گذشتہ سال پولیو کے 59 کیسز تھے اور سنہ 2014 میں یہ 236 تک پہنچ گئے ہیں

مزید :

صفحہ اول -