سپیکر اسد قیصر نے بھی استعفوں کی انفرادی تصدیق کو درست قرار دے دیا

سپیکر اسد قیصر نے بھی استعفوں کی انفرادی تصدیق کو درست قرار دے دیا
سپیکر اسد قیصر نے بھی استعفوں کی انفرادی تصدیق کو درست قرار دے دیا

  

            صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ اگر ان کے پاس اپوزیشن کے استعفے آتے تو وہ بھی ان سب کی انفرادی طور پر تصدیق کرتے، اب تک تحریک انصاف کے ارکان قومی و پنجاب اسمبلی کے استعفے اس لئے منظور نہیں ہوئے کہ یہ سب ارکان دونوں سپیکروں کے پاس اکٹھے جانے پر اصرار کر رہے ہیں اور علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں سے گریزاں ہیں ، سپیکر کے ساتھ مستعفی ارکان کا رویہ بھی قابل تحسین نہیں ہے یہ ارکان قومی اسمبلی میں سپیکر لاﺅنج کے باہر جا کر بیٹھ گئے اور ”پیغام“ بھیجا کہ ہم آ گئے ہیں جو بھی تصدیق کرنی ہے، آ کر کرلیں، تقریباً اسی طرح کا رویہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر رانا محمد اقبال کے ساتھ ان مستعفی ارکان نے اپنایا یہ سب ارکان اکٹھے بیٹھ گئے اور سپیکر سے ”مطالبہ“ کیا کہ آئیں اور آ کر تصدیق کر لیں، لگتا یوں ہے کہ ان حضرات کو خدشہ ہے کہ اگر ایک ایک کر کے انفرادی تصدیق کے لئے ارکان کو طلب کیا گیا تو بہت سے ارکان استعفوں سے لاتعلق ہو جائیں گے جیسے کہ 4 ارکان پہلے ہی ہو چکے ہیں، جنہوں نے قیادت کے دباﺅ کے تحت استعفے تو دے دیئے ہیں لیکن ان کا دل نہیں چاہتا کہ وہ مستعفی ہوں کیونکہ یہ یقینی نہیںکہ اگر وہ دوبارہ الیکشن لڑتے ہیں تو کامیاب بھی ہو سکیں گے یا نہیں، ان ارکان کو یہ بھی یقین نہیں کہ اگلے انتخابات وقت مقررہ (مئی 2018ئ) پر ہو ں گے یا قبل از وقت ۔دونوں صورتوں میں ایک غیر یقینی اور بھی ہے زیادہ تر ارکان اسمبلی کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے دعوے تو یہی کئے جا رہے ہیں کہ اس صوبے میں دودھ اور شہد کی نہریں باقاعدہ بہنا شروع ہو گئی ہیں جب پوچھا جاتا ہے کہ وہ نہریں کہاں ہیں اور وہ فرہاد کون ہے جس نے اپنے تیشے سے سنگلاخ صوبے میں دودھ اور شہد کی نہروں کا بہاﺅ ممکن بنایا تو جواب ملتا ہے کہ صوبے میں ایف آئی آر اب بلا تردد درج ہوتی ہے، غالباً ان حضرات کا خیال ہے کہ انسانوں کی ساری زندگی ایک ایف آئی آر کے گرد گھومتی ہے اور وہ باقی سارے علائق ترک کر دیتے ہیں۔ آٹا دال ان کی ضرورت رہتی ہے نہ سبزی گوشت، یہ سارے حضرات تواتر کے ساتھ پنجاب کی حکومت کو نشانہ بنائیں گے کہ یہاں مہنگائی ہے، انصاف نہیں ملتا، ایف آئی آر درج نہیں ہوتی لیکن جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا آٹا، دالیں اور سبزیاں ان کی حکومت میں سستی ہیں تو جواب نہیں ملتاان ارکان کو جو مستعفی ہوئے ہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر ووٹروں کو وہ نہریں نظر نہ آئیں جو نکالی گئی ہیںتو پھر انہیںووٹ کون دے گا۔ کیا پتہ پارٹی ٹکٹ دے نہ دے اور اگر پہلے کی طرح پارٹی ٹکٹ مہنگے داموں بکے تو کیا ہو گا؟اس لئے استعفوں کا معاملہ لٹکا ہوا ہے ،تحریک انصاف کے حامیوں نے ماڈل ٹاﺅن لاہور کے واقعہ کی ایف آئی آر کو تو مسئلہ بنایا ہوا ہے لیکن ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ان کی حکومت میں بنوں میں مظلوم آئی ڈی پیز پر گولی کیوں چل گئی؟ کیا یہ لوگ جو اپنے گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں اسی سلوک کے مستحق تھے؟ اگر امدادی اشیا کی تقسیم کے موقع پر انہوں نے کوئی ہنگامہ کر دیا تھا تو کیا اس کا حل یہ تھا کہ انہیں موت دیدی جاتی اور سو کے لگ بھگ لوگوں کو مقدمہ درج کر کے جیل بھیج دیا جاتا؟ اگر ایسا ”انصاف“ کسی اور صوبے میں ہوتا تو ”انصافیوں “نے آسمان سر پر اٹھایا ہوتا، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئی ڈی پیز کا کوئی والی وارث نہیں جو دو ارکان کے قتل کی ایف آئی آر پرویز خٹک کے خلاف درج کراتا؟

عمران خان گزشتہ دو روز سے صفائیاں دے رہے ہیں کہ وہ تو اس وقت سو رہے تھے جب پی ٹی وی پر بلوہ کیا گیا، چلئے وہ تو سو رہے ہوں گے کیا دھرنے کے سارے شرکا ہی سو رہے تھے جو ان کے حکم پر دھرنا ایوان وزیر اعظم ہاﺅس کی طرف لے گئے تھے دس بجے رات کے وقت انہوں نے دھرنا ایوان وزیر اعظم منتقل کرنے کا اعلان کیا اور اسی صبح پی ٹی وی پر حملہ ہو گیا یہ حملہ جن لوگوں نے کیا ان کی تصویریں اخبارات میں شائع ہو چکیں، ان میں سے کچھ چہرے با آسانی پہچانے جاتے ہیں، اس کے باوجود ان لوگوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا جا رہا ہے ، حالانکہ جب پی ٹی وی پر قبضہ ہوا تھا تو کنٹینروں سے اعلان ہو رہے تھے کہ ٹیلی ویژن پر ”ہمارا قبضہ“ ہو چکا ہے اور جلد ہی ایوان وزیر اعظم پر قبضہ ہونے والا ہے اب اگر ان تقریروں کو دوبارہ سنا جائے تو ”ہمارا قبضہ“ کی تشریح کیا ہو گی؟ ایس ایس پی جونیجو کی پٹائی کرنے والے لوگ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ان کے چہرے بھی صاف پہچانے جاتے ہیں، اس ایس ایس پی کو بے دردی سے پیٹا گیا، اب کیا اس اقدام پر ان لوگوں کو بہادری کا کوئی تمغہ دیا جائے یا موتئے کے ہار ان کے زیب گلو کئے جائیں؟ ان لوگوں پر مقدمہ نہیں بنے گا تو اورکیا ہو گا؟ ملزموں کو اشتہاری قرار دینے کا ایک معلوم عدالتی طریق کار ہے، کسی مقدمے میں نامزد ملزم اگر مسلسل عدالت میں پیش نہ ہوں اور ان کی غیر حاضری لگائی جاتی رہے تو ایسے ملزموں کے متعلق عدالت حکم دیتی ہے کہ انہیں گرفتار کر کے پیش کیا جائے، اس بجٹ سے قطع نظر کہ کون اشتہاری ہے اور کون نہیں جو مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس میں اٹھنے والے قانونی نکات کا جواب تقریروں میں دیا جا رہا ہے اور تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ جیسے انہیں حکومت نے اشتہاری قرار دیا ہے حالانکہ یہ احکامات مجاز عدالت نے جاری کئے ہیں، تقریروں میں جو موقف اختیار کیا جا رہا ہے یہ جا کر عدالتوں میں اختیارکیوں نہیں کیا جاتا، کیا آپ اپنے آنے والے زمانے میں ہر ملزم کو ایسی سہولت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کہ اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہو تو وہ اس کا جواب عدالت کے روبرو دینے کی بجائے جلسہ کرے اور وہاں سے عدالت کو خطاب فرمائے، اورکیا کے پی کے میں ملزموں کو اشتہاری قرار دینے کا کوئی مختلف طریقہ رائج ہے اور وہاں عدالتی کارروائی کا جواب جلسوں میں دیا جا رہا ہے؟عمران خان اپنے سوا ہر کسی پر کرپشن کا الزام لگا رہے ہیں لیکن جب خود ان پر کرپشن کا الزام لگتا ہے تو اس کا جواب نہیں دیتے۔’ان کے نزدیک ہر وہ آدمی ”بکا ہوا“ اور ”خریدا ہوا“ ہے جو ان کی رائے سے اختلاف کرتا ہے لیکن ان کی جماعت کے ایک پرانے رکن نے ان پر جو الزام لگایا ہے اس کا جواب تو ان کے ذمے ہے، اس بانی رکن اکبر بابر نے الزام لگایا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کرپشن میں ملوث ہے، پارٹی فنڈ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی گئی عمران کرپٹ لوگوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، اکبر ایس بابر کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں انہوں نے الیکشن کمیشن کو درخواست بھی دے دی ہے۔اب وہ وقت دور نہیں جب جواب آئیگا کہ وہ ”خریدے ہوئے“ اور ”بکے ہوئے“ ہیں، گھر کے بیدی کو اور کیا جواب دیا جا سکتا ہے؟

مزید :

تجزیہ -