شیخ رشید نے حق تردید استعمال کر لیا مگر ریکارڈنگ کچھ اور کہتی ہے

شیخ رشید نے حق تردید استعمال کر لیا مگر ریکارڈنگ کچھ اور کہتی ہے
شیخ رشید نے حق تردید استعمال کر لیا مگر ریکارڈنگ کچھ اور کہتی ہے

  

                          اپنے بیانات کی تردید یا وضاحت ہر سیاستدان کا حق ہے اور صحافیوں نے ان کا یہ حق ہمیشہ غیر مشروط طور پر تسلیم کیا ہے جب کسی سیاستدان نے کوئی بات کہی اور وہ چھپ گئی تو اگر اس کی تردید یا وضاحت کی ضرورت محسوس کی گئی تو یہ بھی چھاپ دی گئی، پرنٹ میڈیا میں چھپی ہوئی خبر کی وضاحت ہمیشہ اگلے دن آیا کرتی ہے لیکن الیکٹرانک میڈیا میں وضاحت تو ہاتھ کے ہاتھ ہو جاتی ہے، فرض کریں اگر کسی سیاستدان نے کوئی بات کی جو ”سیاق و سباق سے ہٹ کر “نشر ہو گئی تو چند منٹ کے اندر الیکٹرانک میڈیا پر اس کی وضاحت آ سکتی ہے۔

آنریبل شیخ رشید احمد نے ننکانہ صاحب کے جلسہ میں جو کچھ فرمایا وہ ان کی اپنی زبان سے ہر اس شخص نے سن لیا جس نے اپنا ٹی وی سیٹ آن رکھا ہوا تھا۔ ناظرین نے ان کا فرمودہ ہی نہیں سنا ان کی باڈی لینگویج بھی دیکھ لی ، ان کے الفاظ ان کی اس بدن بولی کے ساتھ لگا کھا رہے تھے، ان کی زبان جوگوہر افشانی کر رہی تھی تقریر کا انداز اس پر مہر تصدیق ثبت کر رہا تھا، ان کی شعلہ فشانی دیکھی اور سنی گئی اور اگلے دن انہی کے الفاظ میں پرنٹ میڈیا پر جگہ پا گئی ان کی تصویر اور خبر ریکارڈ شدہ موجود ہے اور دوبارہ سنی اور دیکھی جا سکتی ہے انہوں نے جو کچھ کہا اور جس انداز میں کہااگر وہ اس کی وضاحت یا تردید کرنا چاہتے تھے یا اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس کر رہے تھے تو چند منٹ میں ایسا ہو سکتا تھا، وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ انہوں نے جو کچھ کہا اس سے ان کا مدعا و مفہوم وہ نہیں تھا جو سمجھا گیا، وہ جوش جذبات میں الفاظ کو ادھر ادھر کر گئے، ان کے الفاظ کو درست سیاق و سباق میں سمجھا اور لیا جائے لیکن انہوں نے ایسی کوئی ضرورت محسوس نہ کی، تحریک انصاف کا جلسہ ننکانہ صاحب میں 12 نومبر کو ہوا تھا، اب تین دن بعد شیخ صاحب نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا اس کا مطلب دراصل یہ تھا، وہ نہیں تھا جو لوگوں نے سمجھا، ان کی ساہیوال والی تقریر بھی لوگوں نے سن لی، تازہ ارشادات بھی ان کی زبان سے سن لئے گئے اور دیکھ بھی لئے گئے، یوں ان کی وضاحت ”زبان سیاستدان بزبان سیاستدان“ ہو گئی ، اچھی بات ہے ۔ انہوں نے یہ تاثر زائل کر دیا کہ وہ مرنے مارنے اور جلاﺅ گھیراﺅ کی ترغیب دے رہے تھے، جو وہ کہنا چاہتے تھے وہ بھی سامنے آ گیا، انہوں نے کہا دھرنے کو نوے دن ہو گئے لیکن اسلام آباد میں ایک شیشہ نہیں ٹوٹا، ان کی یہ بات بھی درست ہو سکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ پی ٹی وی میں جو کچھ ہوا کیا وہ جنو ں کی کارروائی تھی اور کیا جن لوگوں نے پی ٹی وی پر قبضہ کیا وہ دھرنوں سے اٹھ کر نہیں گئے تھے؟ یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ قبضہ کرنے والے سیاسی کارکن نہ تھے لیکن دھرنے کے شرکاءتو بہرحال تھے اور وہیں سے اٹھ کر انہوں نے قبضہ جمایا تھا۔ خیر یہ تو دھرنے والوں اور اس کے پاسبانوں کا معاملہ ہے۔ شیخ صاحب سے صرف سوال اتنا ہے کہ ان کی وضاحت سر آنکھوں پر ،لیکن وہ اس فوٹیج کو کہاں لے جائیں گے۔جو تقریباً تمام چینلو ں نے دکھائی اور جس میں ان کی گھن گرج سنی اور دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کیا کہا اور کیا نہیں کہا یہ سب ”منکر نکیروں“ نے ریکارڈ کر لیا اور اب یہ ریکارڈ ہی رہے گا اور ہمیشہ گواہی دیتا رہے گا کہ انہوں نے کیا کہا تھا، بہرحال ان کی وضاحت کا خیر مقدم، وہ اگر تشدد نہیں چاہتے تو بڑی اچھی بات ہے۔ یہ ماہیت قلب بھی ہے تو بھی لائق تحسین ہے اور اگر اس کا خیال بعد میں آیا تو بھی ”دیر آید، درست آید“ کے زمرے میں شمار کیا جائیگا۔

مزید :

تجزیہ -