جعلی لائیکس کا دھندا، فیس بک کا بھرپورکارروائی کافیصلہ

جعلی لائیکس کا دھندا، فیس بک کا بھرپورکارروائی کافیصلہ
 جعلی لائیکس کا دھندا، فیس بک کا بھرپورکارروائی کافیصلہ

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی سائٹ فیس بک کو جہاں جعلی اکاﺅنٹس کے مسئلے کا سامنا ہے وہیں اس سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کے لیے جعلی لائیکس بھی مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ اس مسئلے کی بنیادی وجہ اس سائٹ پر لائیک کی اہمیت ہے جن کا مطلب جہاں یہ ہوتا ہے کہ لوگ آپ کو پسند کرتے ہیں وہیں اس کے معنی یہ بھی ہوتے ہیں کہ آپ کی فرینڈلسٹ میں موجود افراد سمیت فیس بک کے دیگر بہت سے یوزرز نے آپ کی پوسٹ یا شئیرنگ کو پسند کیا ہے اور وہ اس سے متفق ہیں۔ اسی طرح آپ فیس بک پر کوئی پیج بناتے ہیں تو آپ کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ اس پیج کو زیادہ سے زیادہ لائیکس ملیں۔ آپ کے پیج کو ملنے والے لائیک کے ساتھ اس پر کی جانے والی پوسٹس کی رسائی کا دائرہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یوں آپ کی بات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچتی ہے۔

یہ محض مسرت اور طمانیت کا معاملہ نہیں، بل کہ لائیک کے ذریعے مالی فوائد بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں اور کیے جارہے ہیں، چنانچہ فیس بکس کی پوسٹس اور پیجز پر ملنے والے لائیکس باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔ ساتھ ہی اس رجحان سے جعل ساز اور فریب کاری کے ذریعہ پیسہ بٹورنے والے افراد بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔فیس بک نے حال ہی میں ایسے جعلی لائیکس کا دھندہ کرنیوالے جعل سازوں کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہوئے جعلی لائیکس کی روک تھام کے لیے مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 فیس بک کی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سوشل ویب سائٹ جعلی لائیکس کے معاملے میں ملوث تمام اکاﺅنٹس کے خلاف جارحانہ انداز میں کارروائی کرے گی۔فیس بک کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک قانونی کارروائیوں کے ذریعے دو ارب ڈالر کے قریب رقم مختلف مقدمات میں جعل سازوں سے حاصل کی ہے، جو جعلی لائیکس کا دھندا کر رہے تھے۔

 فیس بک کا کہنا ہے کہ اچانک ایسے لائیکس حاصل کرنے کے نتیجے میں متعلقہ کاروباری ادارے کو فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہوتا ہے، چنانچہ اس وجہ سے جعلی لائیکس پر دارومدار کرنے والی کمپنیاں فیس بک پر کم کاروبار کرپاتی ہیں۔ ظاہر ہے اس صورت حال سے خود فیس بک کو بھی نقصان پہنچتا ہے کیوں کہ اس سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس سائٹ پر کاروبار کرنا سود مند نہیں ۔اسی طرح دنیا کی نام ور شخصیات بھی، خاص طور پر شوبز کی رنگین دنیا سے وابستہ شخصیات، جعل سازی کے اس کاروبار سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ شوبز کی دنیا میں شہرت، مقبولیت اور پسندیدگی ہی کیریر بناتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں اور فیس بک پر بنائے جانے والے کسی شوبز کی شخصیت کے پیج کو ملنے والے لائیکس کی تعداد ثابت کرتی ہے کہ وہ لوگوں میں کس قدر مشہور، مقبول اور پسندیدہ ہے۔

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ نے اپنے سیکیورٹی بلاگ میں اس حوالے سے لکھا ہے کہ ہم ان جعلی لائیکس کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں، کیوں کہ ہم کاروبار، حقیقی رابطے اور نتائج چاہتے ہیں، نہ کہ جعلی کاروبار، رابطے اور نتائج۔فیس بک کی جانب سے جعلی لائیکس کے حوالے سے سامنے آنے والی اس تحریر میں مزید کہا گیا ہے کہ فیس بک پر موجود جعل ساز، صارفین کو جعلی لائیکس حاصل کرنے کا جھانسہ دیتے ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اتنی رقم دے کر 1000 لائیکس حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ جعل ساز جعلی لائیکس دینے کے لیے فیس بک پر جعلی اکاﺅنٹس بناتے ہیں جو خود فیس بک کے قواعدو ضوابط کی کھلی خلاف ورزی اور ایک غیراخلاقی عمل ہے۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -