پاﺅں اور ایڑھیوں کی حفاظت کے لیے مفید مشورے

پاﺅں اور ایڑھیوں کی حفاظت کے لیے مفید مشورے
پاﺅں اور ایڑھیوں کی حفاظت کے لیے مفید مشورے

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاﺅںکی بنیادی صحت اور فٹنس کا انحصار ان کی قوت اور لچک پر ہے۔ اس سلسلے میں چند خصوصی ورزشیں حیرت انگیز نتائج دیتی ہیں۔ آکو پینکچ اور آکو پریشر میں پیرون کو پورے جسم کا ہیڈ کوارٹر قرار دیا جاتا ہے اور تقریباً تمام امراض کا علاج پیروں میں سوئیاں لگا کر اور مخصوص پریشر کو ایک خاص ترییب سے دبا کر کیا جاتا ہے جس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔ پیروں سے متعلق زیادہ تر مسائل ان کے غلط استعمال کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ اگر پیروں کے عضلات مناسب شکل میں نہیں ہیں، تو ان میں درد ہوسکتا ہے۔ جوڑوں کی تکلیف لاحق ہوسکتی ہے اور ہڈیوں کو جوڑنے والی رگوں اور عضلات میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوجاتا ہے یہ صورتحال اس وقت آمنے آتی ہے، جب دوڑ لگائی جائے کوئی کھیل کھیلا جائے یا رقص کیا جائے۔میڈیارپورٹ کے مطابق ماہرین صحت نے پیروں کو صحت مند، طاقتور اور لچک دار بنانے کیلئے کچھ ورزشیں پیش کی ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے پیروں کے بہت سے مسائل ہو سکتے ہیں۔

ورزش نمبر1: فرش پر ایک تولیا پھیلائیے، اس پر ننگے پاﺅں کھڑے ہوجائیں۔ اب نیچے سے تولیے کو پکڑ کر اسے اوپر اٹھانے کی کوشش کیجئے۔ ورزش پیروں کی مجموعی قوت میں اضافے کا باعث بنے گی۔

ورزش نمبر2: اپنے پیروں کو سیدھا رکھیے۔ پھر تولہیے کو اپنے نیچے سے آگے کی جانب سرکانے کی کوشش کیجئے۔ تولیے کو پہلے دائیں جانب کھسکائیے پھر بائیں جانب۔ اس ورزش سے پیروں کے اندرونی اور بیرونی عضلات مستحکم ہوں گے اور ٹخنے کی موچ یا درد سے نجات بھی ملے گا۔

ورزش نمبر3: اپنے پنجوں کو تھام لیں اور ٹخنوں کو آگے پیچھے حرکت دیں۔ اس دوران ہاتھوں کی انگلیوں سے ایڑی کا مساج کریںاور پیروں کو انگلیوں کی جانب حرکت دیں۔ اس کے بعد واپس ایڑی کی جانب جائیں۔ نرمی کے ساتھ اپنے پنجوں کو اوپر اٹھائیں اور دائیں بائیں آہستگی سے موڑیں۔ پھر اپنی ہتھیلیوں سے پیروں کو دبائیں یہ عمل آہستگی سے کریں۔ ہاتھوں کو گول گول گھمائے ہوئے ٹخنوں سے نیچے کی جانب اور پھر نیچے سے ٹخنے کی جانب آئیے۔ یہ ورزش مساج پر مشتمل ہے، اسے کرنے کے بعد بہت بہتر محسوس کریں گے۔

 یہ ایک بہترین ورزش ہے اس ورزش کے بعد ٹب میں گرم پانی ڈال کر اس میں تھوڑا سا بیکنگ پاﺅڈر یا نمک ملالیں۔ پھر اس پانی میں اپنے دونوں پیروں کو کچھ دیر کے لئے ڈبوئے رکھیں جس سے پیروں کی تھکن دور ہوتی ہے اور سکون ملتا ہے۔

ورزش نمبر 4: کرکٹ یا ٹینس کی بال پر اپنے تلوے رکھیے اور اس طرح بال کو رول کرتے رہیں۔ یہ بھی ایک بہت ہی عمدہ ورزش ہے جس سے آپ کو فوراً ہی فرحت کا احساس ہوگا۔ ورزش کے دوران تنگ جوتے نہ پہنیں پنجوں کی جانب سے جوتا پیروں کی سب سے آسان اور بہترین ورزش تیز پیدل چلنا ہے۔

 ورزش کے دوران کوئی تکلیف محسوس ہو یا ان میں کوئی افاقہ محسوس نہ ہو، تو پھر اپنے معالج سے ضرور رجوع کریں۔ اسی طرح دوڑنے بھاگنے یا ورزش کرتے ہوئے جس لمحے کسی درد یا تکلیف کا احساس ہو تو فوراً رک جائیے اور آرام کیجئے۔ جہاں چوٹ لگنے کا احساس ہو، وہاں برف کی تھیلی یا ٹھنڈے تولیے کو کم از کم دس منٹ تک لپیٹ کر رکھیں اورہر تین منٹ بعد برف کی تھیلی یا ٹھنڈے تولیے کو کم از کم دس منٹ تک لپیٹ کر رکھیںتاکہ جسم کا یہ متاثرہ حصہ سن نہ ہو۔ برف کی ٹکور کے بعد متاثرہ حصے پر اچھی طرح کوئی پٹی لپیٹ دیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ پٹی زیادہ سختی سے نہ باندھی جائے۔

مزید :

تعلیم و صحت -