21 نومبر کو لاڑکانہ اور23نومبر کو گوجرانوالہ میں جلسے، 30 نومبر کو فیصلہ کن دن ہے: عمران خان

21 نومبر کو لاڑکانہ اور23نومبر کو گوجرانوالہ میں جلسے، 30 نومبر کو فیصلہ کن دن ...
21 نومبر کو لاڑکانہ اور23نومبر کو گوجرانوالہ میں جلسے، 30 نومبر کو فیصلہ کن دن ہے: عمران خان

  

جہلم (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ اس وقت ملک پر ظالم حکمران مسلط ہیں، جو دھاندلی کر کے اقتدار میں آئے ہیں اور اپنے بعد اپنے بچوں کو بھی حکومت کے لئے تیار کر رہیں مگر یہ قوم اب بیدار ہو گئی ہے اور اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے، میں پور ملک میں اپنا پیغام پھیلانے کا سلسلہ جاری رکوں گا اور اس جمعے کو لاڑکانہ جبکہ اتوار کے روز گوجرانوالہ جا رہا ہوں اور 30نومبر کو حتمی فیصلہ کریں گے، حکومت نے اس قوم پر بہت ظلم کیا مگر اب قوم مزید ظلم برداشت نہیں کرے گی۔

جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ آج جلسے سے قبل تحریک انصاف کی ریلی پر فائرنگ کی گئی جس میں ہمارے نوجوان زخمی ہوئے، میں جلسے کے فوری بعد ان سے ملنے ہسپتال جا رہا ہوں، یہ اس حکومت کی طرف پہلا ظلم نہیں ہے، اس سے قبل گوجرانوالہ میں میرے کنٹینر پر حملہ کیا گیا، پھر اسلام آباد میں ہمارءدھرنے پر پولیس کے ذریعے حملہ کیا گیا اور ہمارے نوجوان شہید ہوئے، مگر اب عوام نے فیصلہ کر لیا ہے انہوں نے ظلم برداشت نہیں کرنا۔ان کاکہنا تھا کہ ہمارے حکمران ہمیں ڈرا دھمکا کر ہم پر حکومت کر رہے ہیں، یہ ہمیں تھانے اور کچہری کے معاملات پربلیک میل کر کے استعمال کرتے ہیں، پولیس سے غلط کام کرواتے ہیں اور انہیں عوام کے خلاف استعمال کرتے ہیں ، اس لئے اس ظالم نظام کے خلاف 30 نومبر کو اسلام آباد آئیں ، اس دن اس نظام کے خلاف فیصلہ کن جنگ ہو گی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے حکمرانوں سے متعلق حقیقت یہ ہے کہ یہ پہلے تو سینیما کی ٹکٹیں بیچا کرتے تھے مگر آ ج ان کے پاس اربوں کی دولت ہے، اور کسی دوسرے کی کل دو یا تین فیکٹریاں تھیں اور آ ج ان کی دولت کئی گنا بڑھ چکی ہے، یہ لوگ اپنے بعد اپنے بچوں کو بھی اقتدار کے لئے تیار کر رہے ہیں تاکہ ہماری قوم ہمیشہ ہی ان کی غلام رہے۔

شرکاءسے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ 21 نومبر کو لاڑکانہ آ رہا ہوں، سندھ کے لوگ میرے پیغام کو سننے کے لئے تیار ہو جائیں ، میں سندھ کے لوگوں کو آزادی دلوا کر دم لوں گا، ہمیں ڈارنے کی کوشش کی جا رہی مگر عوام خوف کی زنجیریں توڑ کر اس جلسے میں شریک ہوں گے اور وہ بھی اپنا فیصلہ دیں گے کہ تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہاتوار کے روز ہمارا گوجرانوالہ میں بھی جلسہ ہو رہا ہے، مجھے اس جلسے کا بہت انتظار ہے کیونکہ میں وہاں کے گلو اور پومی کو دیکھنا چاہتا ہوں جس نے ہمارے آزادی ٹرک پر حملہ کیاتھا ، میں اس کو دکھانا چاہتا ہوں کہ عوام تو ہمارے ساتھ ہے۔ کپتان نے افغان صدر کے دورہ پاکستان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کل اسلام آباد میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ ہوا، وہاں دونوں ممالک کے سربراہان موجود تھے مگر عوام کو نہیں بلایا گیا، ایسا اس لئے کیا گیا کہ کہیں عوام ’گو نواز گو‘ کے نعرے ہی نہ لگا دیں مگر میاں نواز شریف کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ اس نعرے سے بچ نہیں سکتے، یہ نعرہ رائیونڈ کے محل تک آ پ کا پیچھا کرے گا۔

خطاب کے آغاز میں ان کا کہنا تھا کہ آج صبح ریلی پر فائرنگ ہوئی مگر اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں لوگ جلسہ گاہ میں پہنچ گئے ہیں، یہ اس حکومت کو عوام کی طرف سے پیغام ہے کہ وہ اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، ہماری خواتیں کی اتنی بڑی تعداد جلسے میں موجود ہے، ہماری قوم جاگ گئی ہے اور یہ مزید اس دھاندلی زدہ حکومت کو مزید نہیں چلنے دیں گے۔

مزید :

قومی -Headlines -