بھارت، امریکہ، مشترکہ مفادات کا اتحاد

بھارت، امریکہ، مشترکہ مفادات کا اتحاد
 بھارت، امریکہ، مشترکہ مفادات کا اتحاد

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عالمی سیاست مدوجزر کا شکار ہے۔ نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ نئی طاقتیں اُبھر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں بھارت اور امریکہ کے بڑھتے تعلقات بھی ایک قصہ ہے۔ حال ہی میں بھارت اور امریکہ نے خلیج بنگال میں مشترکہ بحری مشق کی ہے۔ اس نے عالمی ذرائع ابلاغ میں بڑی شہرت پائی۔ بھارت نے بھی بڑی گرم جوشی کا اظہار کیا۔ بلاشبہ یہ ایک بڑی مشق تھی، جس میں جنگ کی تباہی کے علاوہ میڈیکل سروسز اور Rescue جیسی معمول کی کارروائیوں کو بھی حصہ بنایا گیا۔ "Malabar" کے نام سے ہونے والی اس مشترکہ مشق میں جاپان کی شمولیت بھی اگرچہ "Symbolic" تھی، لیکن مستقبل میں بننے والے اتحاد کا اشارہ سمجھ سکتے ہیں۔ اس مشق میں امریکہ نے ایک طیارہ بردار جہاز کا اضافہ کیا اور بھارت کی طرف سے آبدوز اور دورمار پٹرول بوٹ یعنی گشتی کشتیاں حصہ لے رہی تھیں۔ اس کے علاوہ امریکی آب دوزیں ایٹمی صلاحیت بھی رکھتی تھیں۔

2015ء Malabarہر لحاظ سے اظہار تھا کہ بحری ہند اور جنوبی چین کے سمندروں میں جو کشیدگی پائی جا رہی ہے، جس پر چین اپنا قبضہ بتاتا ہے۔ اس کے لئے امریکہ اپنے ساتھی اور اتحادی تیار کررہا ہے۔ اس مشن کے علاوہ ایک معاہدے کے تحت دس سال میں امریکہ بھارت کو طیارہ بردار جہازوں کی تیاری میں مدد دے گا اور "Electro Magnetic" ٹیکنالوجی بھی مہیا کرے گا، جو ایک جدید ترین ایجاد ہے، جو اس بات کا اظہار ہے کہ امریکہ بھارت کو جنوبی ایشیا میں ’’تھانیدار‘‘ لگانا چاہتا ہے، جو امریکی مفادات کی حفاظت کرے گا۔

*۔۔۔ صدر اوباما کے دورہ بھارت کے دوران اس بات کا خاص طور پر اعلان کیا گیا کہ بحراوقیانوس اور بحرہند میں مشترکہ حکمت عملی وضع کی جائے گی۔(چین اور پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کے لئے) اور اس بات پر زور دیا گیا کہ جنوبی چین کے سمندروں میں متعلقہ تمام فریقوں کو طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے اور اختلافات پُرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہئیں۔

*۔۔۔ امریکہ نے ایشیا میں، جیسا کہ پہلے ذکر کیاگیا اپنے مفادات کی نگرانی کے لئے بھارت کا انتخاب کر لیا ہوا ہے۔ چند ہفتے پیشتر بھارت میں امریکہ کے سفیر "Richard Verma" نے امریکہ اور بھارت کے درمیان "Shared Spaces" کی حفاظت کرنے کا ذکر کر دیا، جس سے بات اور واضح ہو گئی کہ امریکہ کے مجوزہ ورلڈ آرڈر میں بھارت کس قدر اہمیت کا حامل ہوگا۔ انہوں نے بھارت پر بھی زور دیا کہ وہ اپنا کردار مضبوطی سے ادا کرے اور ایک "Balancing Power" سے بڑھ کر "Leading" پاور کا کردار اپنائے۔ یہ ایک بڑا معنی خیز اشارہ تھا۔ امریکی تجزیہ نگاروں کے مطابق بھارت کی فیصلہ نہ کر سکنے کی پالیسی کہ ’’امریکہ کے مفادات کے تحفظ میں اپنا وجود خطرے میں نہیں ڈالا‘‘ کو چھوڑنا ہوگا، لیکن یہ تحفظات دونوں طرف پائے جاتے ہیں اور دونوں طرف سے گرم جوشی کے اظہار کے باوجود دونوں ہی خطے کی سیاسی صورت حال میں پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہے ہیں۔

*۔۔۔ اس صورت حال کو سمجھنے کے لئے ہمیں اگست 2014ء کے ایک مضمون جو سواربھ گپتا نے تحریر کیا جو ایک دفاعی تجزیہ نگار ہیں جو امریکہ میں مقیم ہیں کو دیکھنا ہو گا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ ایک اتحاد ہے جو توقعات پر پورا نہیں اترتا۔وہ Deliver نہیں کر پایا، جس کے لئے یہ قائم ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بھارت ابھی سردجنگ کے دوران جب وہ روس کا ساتھی تھا، اس ذہنی کیفیت سے نہیں نکل پایا۔ حالانکہ بھارت کی معاشی ترقی اور مضبوط معیشت کے علاوہ امریکہ میں مقیم بھارتی جو ایک مضبوط لابی ہیں کی کوششوں کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور مفادات ،چین کے خلاف (دونوں کو چین کا خوف) باہمی کوشش کہ اس کا دائرہ اثر اوقیانوس ،بحرہند اور جنوبی چین کے سمندروں میں ایک حد تک محدود ہے، لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں دیکھنے میں آ رہی ہے۔ گپتا اس معاملے میں بھارت پر ذمہ داری ڈالتے ہیں کہ سول نیوکلیئر معاہدے کے باوجود بھارت چین کے دائرہ اثر کو محدود رکھنے کی امریکی کوششوں میں ’’کھل کھلا‘‘ کر ساتھ نہیں دے رہا۔ امریکی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ بھارت کی ’’اندرون خانہ‘‘ یہ کوشش ہے کہ مشرق ایشیا میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں بھی جزائر انڈیمان کے ذریعہ بھارتی تجارت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ واشنگٹن تو اس حد تک امید لگا کر پیش رفت کررہا تھا کہ بھارتی بحریہ اقوام متحدہ کے Mandateکی پروا کئے بغیر بحرہند کے علاقے میں امریکہ جوکرنا چاہے گا ساتھ دے گا، مددگار ہوگا۔ ضرورت کے وقت نہ صرف راستہ دے گا، بلکہ اپنی بحری تنصیبات بھی امریکہ کے لئے کھلی ہوں گی، لیکن گپتا بھی اس سے متفق ہے کہ بھارت ان توقعات پر پورا نہیں اترا۔

*۔۔۔ لیکن بھارت کے خیال میں امریکہ بہت حد تک خوش فہمی کا شکار تھا اور ہے۔ دوسری طرف امریکہ بھارت کو اس علاقے میں جیسا پہلے کہا گیا اپنا "Deputy Sherife" بنانا چاہتا تھا۔

*۔۔۔ بھارت کی طرف سے امریکہ کی ان کوششوں کا ساتھ نہیں دیا گیا کہ بھارت میں امریکی بحری اڈے بھی بن جائیں۔ ایسے معاہدوں سے گریز کیا جو اسے ڈائریکٹ چین کے مدمقابل کھڑا کر دے۔ روس سے بھی تعلقات بالکل ختم کر لئے جائیں۔ اس کوشش میں بھارت نے مشہور امریکی طیارہ بردار USS.Kitty Hawk بھی پہن لیا۔

*۔۔۔ یہ سب کچھ کہنے سننے، لکھنے پڑھنے کے باوجود بھارتی حلقوں میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ امریکی طاقت،ذرائع، وسائل اپنی جگہ، لیکن ہمیں اپنے قومی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک حد سے زیادہ امریکی حکمت عملی کا حصہ نہیں بننا کہ یہ تاثر نہ ہو کہ بھارت امریکہ کی جھولی میں ہے۔ دوسری طرف امریکہ چین کا گھیرا تنگ کرنے کے لئے بے تاب ہے، تاہم بھارت کے ساتھ معاہدے بھی ہیں۔ مفادات بھی ہیں۔آنے والا وقت بتائے گا کہ بھارت ان توقعات پر کس طرح اور کب تک پورا اترتا ہے۔

مزید : کالم