کردار کشی

کردار کشی

  



آج ہم عقل وشعور کی کئی منزلیں طے کر آئے ہیں۔انسانی تہذیب و تمدن اپنے عروج پر ہے، علم کی فراوانی ہے۔ یہ سب چیزیں مل کر ایک مہذب معاشرے کو تشکیل دیتی ہیں جس میں کسی کی کردارکشی کرنا بغیر کسی ثبوت کے انتہائی معیوب حرکت سمجھی جاتی ہے۔ قرآن ہمیں جو بات سمجھاتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر بلاوجہ کسی پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے یا دوسرے لفظوں میں بہتان لگایا جا رہا ہے تو اس فعل سے لاتعلقی اختیار کی جائے، بلکہ متاثرہ شخص کے بارے میں اچھاگمان رکھتے ہوئے اس کا دفاع کیاجائے۔ اس کی تفصیل ہمیں سورہ نور میں ملتی ہے کہ بغیر گواہوں کے کسی پر الزام لگانا سخت گناہ کے زمرے میں آتا ہے اور اس کی سزا بھی بہت کڑی ہے، لیکن ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ چھوٹی سی بات کا بتنگڑ بنادیاجاتا ہے اس سے ناصرف متعلقہ افراد کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں، بلکہ باقی لوگوں کو بھی کوئی اچھا پیغام نہیں جاتا ،برائی کی ترویج ہوتی ہے اور زندگی کے اچھے پہلو کہیں دب کر رہ جاتے ہیں جو معاشرے کو اچھائی کی طرف متحرک کرسکتے ہیں۔

آج یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ برائی کا تذکرہ برائی کی تشہیر کرنے کے مترادف ہے۔ ہاں اگر واقعی کوئی برائی معاشرے کے کسی حصے یا افراد میں پائی جائے تو اس کی اطلاع ایسے متعلقہ حکام کو دینی چاہئے جو اسے ختم کرنے کی استعداد رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے تمام حقائق آنے چاہیں تاکہ وہ اس کے خاتمے کیلئے کوئی لائحہ عمل اختیارکریں لیکن آپ پبلک میں بیٹھ کر یا تقریروں اور خطابوں کے ذریعے یا اخباروں میں لکھ کر کسی کی پگڑی نہیں اچھال سکتے جب تک آپ کے پاس اس کو ثابت کرنے کے لئے مناسب ثبوت اور گواہ موجود نہ ہوں،لیکن آج ہم معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ کسی بھی ایسے ایشو کو جو بے حیائی یا برائی کے زمرے میں آتا ہے خوب ڈسکس کیاجاتا ہے، ہر زاویے سے اس کا جائزہ لیاجاتا ہے۔ اس کے دو نقصان ہوتے ہیں ایک تو برائی کا اتنا تذکرہ برائی کو برائی رہنے نہیں دیتا وہ کوئی روزمرہ کا معمول لگتا ہے اور دوسرا بہت سے لوگوں کو اس سے متعارف ہونے اور اسے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

اسلام میں تجسس اور غیبت سے منع کیاگیا ہے اگر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دو چیزیں ایسی ہیں، جو معاشرے میں فساد کا موجب بنتی ہیں۔ پہلے ہم لوگوں کی ٹوہ لیتے ہیں ان کی برائیاں تلاش کرتے ہیں پھر ان کی پیٹھ پیچھے ان پر سیر حاصل تبصرے کرتے ہیں اور جب غیبت سے تسلی نہیں ہوتی تو بات بہتان تک جاپہنچتی ہے۔ اس سارے عمل میں اتنے منفی جذبات شامل ہو جاتے ہیں کہ چھوٹا سا معاملہ بہت بڑے فساد کی شکل اختیار کرجاتا ہے، جس کی وجہ سے کئی گھر ٹوٹتے ہیں ، کئی زندگیاں تباہ ہوتی ہیں اور یہ سب کرنے والوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتاکہ وہ کس آگ سے کھیل رہے تھے ،یہ آگ کئی گھر جلاسکتی ہے۔ ملکی سطح پر پہلے صرف چند مخصوص شعبے کے لوگوں کو اس کا نشانہ بنایاجاتا تھا ان بے چاروں کو پبلک پراپرٹی سمجھاجاتا تھا دوسرے لفظوں میں پبلک کا یہ حق تھا کہ وہ ان کی ذاتی زندگی کو اچھی طرح چھان پھٹک کر اس میں سے برائیاں نکالے اور ان کو خوب اچھالے،ان کی زندگیوں کو اجیرن کرکے اپنے احساس کمتری کو Satisfyکرے۔

جب سے ہمارا میڈیا آزاد ہوا ہے اس کی بات گھر گھر پہنچ رہی ہے تو اس نے بھی کوئی مہذب اور سنجیدہ ادارہ ہونے کا تاثر نہیں دیا ،یہ بھی لوگوں میں سستی جذباتیت پیدا کرکے اپنے آپ کو مقبول کرانے کے چکروں میں ہے۔ اب کسی کی عزت محفوظ نہیں خواہ وہ شو بزکے لوگ ہوں یا سیاست دان، کھلاڑی ہوں یا سرکاری ملازم یاپھر عام پبلک سب پر ہاتھ صاف کرنے کا اس کو پورا پورا حق حاصل ہے۔ کسی بچارے کی عزت دو کوڑی کی ہوتی ہے تو بھلے ہو ان کی بلا سے ان کی تو Ratingبڑھ رہی ہے ان کے تو پیسے بن رہے ہیں۔ انہیں نہیں پرواہ کہ بغیر ثبوت اورگواہ کے کسی کی عزت اچھالنا قذف کی مد میں آتا ہے اورقذف کی سزا اسلامی ریاست میں اسی(80) کوڑے ہیں اس کے علاوہ ساری عمر کے لئے ان پر جھوٹے کا لیبل لگ جائے گا۔ اب اس کی شہادت بھی معتبر نہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس طرح کرنے والوں کی اپنی عزت دوسروں کی نظروں میں کیا ہونی چاہئے اور میرے رب نے قرآن میں انہیں کس درجے پر رکھا ہے۔

ایک مہذب اور سنجیدہ معاشرے میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کہ ہم دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے یا دخل دینے کی کوشش کریں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب قرآن ہمیں کسی کے گھر میں داخل ہونے کے آداب سکھاتا ہے تو ساتھ یہ تاکید بھی کرتا ہے کہ اگر تمہارے تین دفعہ دستک دینے پر گھر والوں کی طرف سے کوئی جواب نہ ملے تو بُرا منائے بغیر لوٹ جاؤ ،جہاں اس حکم کی اور بہت سی مصلحتیں ہوسکتی ہیں وہاں ایک مصلحت یہ سمجھ آتی ہے کہ گھر والے کسی ایسے ذاتی کام میں مصروف ہوں، جس میں وہ کسی اور کی دخل اندازی پسند نہ کریں تو انہیں اجازت ہے کہ وہ دروازے پر آنے والے کو ملاقات کئے بغیر واپس لوٹا دیں۔

اسی طرح ہمارے پیارے نبی ؐ کی تعلیمات میں ہمیں سکھایاگیا کہ دوسروں کا پردہ رکھو، اللہ تمہارا پردہ رکھے گا، لیکن ہم نے ان تمام چیزوں کو پس پشت ڈال کر وہ طرز عمل اختیار کر لیاہے، جو ہمارے گردونواح کو بھی متاثرکرتا ہے اور ہمیں دوسروں کی نظر میں چھوٹا کرتا ہے۔اصل میں یہاں پر پھر ماں کا استاد کا اور منبر کا فرض بنتا ہے کہ وہ معاشرے کی تشکیل میں اورافراد کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرے۔بچپن سے انگریزی کی ایک مشہورکہاوت سنتے ہیں، جس کا مفہوم یوں ہے کہ چھوٹے ذہن لوگوں کو موضوع گفتگو بناتے ہیں بڑے ذہن Ideasکو Discussکرتے ہیں۔ یہ اس تعمیری فکر کے حامل ہوتے ہیں جو لوگوں کے لئے اورمعاشرے کے لئے کچھ بہترین کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں لوگوں کی ذاتی زندگیوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، بلکہ یہ عملی طور پر معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔لہٰذا بچوں کی تربیت اسی نہج پر ہونی چاہئے کہ ان کو بچپن سے ہی بڑی سوچ کا حامل انسان بنایاجائے۔ وہ معاشرے میں اپنا Roleپہچانیں اور اسے بخوبی ادا کریں۔ ہمارا میڈیا بھی اس سلسلے میں اپناکردار ادا کرے اور لوگوں کے سامنے مثبت اور تعمیری Ideasرکھے، جس پر وہ سوچ بچار کریں۔ ان پر عمل پیرا ہونے کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔ہروقت کا Criticismاب ختم ہونا چاہئے۔ اب لوگوں کو مثبت سوچ اور عمل کی طرف لانے کی ضرورت ہے جب افراد کا اندازفکر بدلے گا تو معاشرہ خودبخود بہتری کی طرف بڑھے گا۔

مزید : کالم