عالمی دہشت گردی کے اسباب و علل

عالمی دہشت گردی کے اسباب و علل
 عالمی دہشت گردی کے اسباب و علل

  

موجودہ حالات کیا کہہ رہے ہیں؟ اس کا ادراک ہر ذی شعور اور صاحبِ نظر کو ہے، پاکستان میں جاری فرقہ وارانہ دہشت گردی اور اس دہشت گردی کی آڑ میں مخصوص طاقتوں اور عناصر کے مقاصد کب کے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ اِن حالات میں بھی اگر حقائق سے نظریں چرائی جائیں تو ہم جیسا بدقسمت شاید ہی کوئی ہو۔۔۔؟ یہاں یہ امر بھی پیش نظر ہے کہ مغرب جو اپنے استعمار کو مضبوط کرنے کے لئے مخصوص اور خطرناک قسم کی تنظیموں کو بناتا اور انہیں امداد فراہم کرتا آ رہا ہے، آج انہی تنظیموں کے ہاتھوں اپنی تہذیب کے انہدام کا شکار ہے، حالانکہ ان ممالک نے تیسری دُنیا اور عرب خطے کو اپنے استبدادی عزائم کا ہدف بنا رکھا ہے۔۔۔ عرب خطہ چونکہ متکبرانہ رویے کا حامل ہے ، جبکہ پاکستان اور تیسری دُنیا کے دیگر ممالک کے عوام غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔ انہی دِگرگوں حالات کے ستائے ہوئے ،پھر اُن ممالک یا طاقتوں کی پراکسی وار کا باقاعدہ حصہ بن کر اپنے ہی خطے اور ممالک کے باشندوں پر حملہ آور ہو کر ان کا ناحق خون کرنے لگے ہیں۔

’’طالبان‘‘ نے دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا، استعماری قوتوں کے مقاصد کی تکمیل کے بعد یہ تنظیم دہشت گرد کے نام سے موسوم ہوگئی۔اس طرح اس پر امریکی اتحادیوں نے یلغار کر دی۔۔۔ اور افغانستان کا قبضہ چھڑا لیا۔۔۔ لیکن تاحال ’’طالبان‘‘ کی باقیات اپنی مکمل آب و تاب کے ساتھ خود کو ’’نظریے‘‘ کی صورت میں منوا رہی ہیں۔یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے،کہ اس وقت کے ملکی حالات کی وجہ سے ’’طالبان‘‘ کو پاکستان میں پنپنے کے بہتر مواقع میسرآگئے‘‘۔ تبصروں میں بہت سے دیگر الزامات بھی پاکستان پر لگائے جاتے ہیں، جن کو دہرانا میرا مقصد ہر گز نہیں ہے۔۔۔! اٹل حقیقت ہے کہ پاکستان میں شورش پسندی اور بے چینی کا واضح سبب ’’طالبان‘‘ نامی تنظیم کو بتایا جا رہا ہے۔

مغرب نے اپنے سامراج اور اسلحے کی تجارت کے فروغ اور وسعت کے لئے مخصوص آر گنائزیشنز کو پروموٹ کیا،اپنی جگہ حقیقت ہے، لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، خلیج اور خلیج فارس کے ممالک نے بھی خطے میں اپنا موثر وجود منوانے اور اثرو رسوخ قائم کرنے کے لئے کچھ تنظیموں کو وجود بخشا یا داعش جیسی تنظیموں کو ڈونیٹ کیا۔ یمن میں سعودی عرب کی مداخلت، عراق اور شام میں بذریعہ داعش سعودی اثرو رسوخ سب کے سامنے ہے، جو ناقابل تردید حقیقت کے روپ میں پیش پیش ہے،یہ اور بات کہ ایران کو روحانی و مذہبی آقا تسلیم کرنے والے اذہان اس دلیل سے واضح انکار کر دیں گے یا عدم اتفاق کریں گے!بات ہو رہی تھی مغربی یا دیگر طاقتوں کی، جو شدت پسند تنظیموں کا وجود اور منظم ڈھانچہ ترتیب دیتے ہیں۔۔۔ جن کے مخصوص مقاصد میں اسلحہ کی تجارت کا فروغ اور اپنے اثرو رسوخ کی وسعت نمایاں ہیں۔۔۔ بالآخر ان آر گنائزیشنز اور مسلح گروپوں کے ہاتھوں خود کو بھی غیر محفوظ سمجھتے ہیں، بلکہ یقینی طور پر ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہو یا پیرس میں حالیہ دہشت گردانہ کارروائی، جس میں بے تحاشہ جانی نقصان ہوا۔ مالی نقصان کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے، جب قیمتی انسانی جانی تلف ہوتی ہیں! اس وقت کی اطلاعات کے مطابق ’’داعش‘‘ نے اِن حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔۔۔ ردِعمل کے طور پر اہل ِ مغرب ایک عام مسلمان کو بھی اِن حملوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے، مسلمانوں کو شک کی نظروں سے دیکھیں گے،یہ حقیقت بھی اپنی جگہ درست ہے کہ مسلمانوں نے فرقہ وارانہ اختلافات کی بنیاد پر ذاتی و انفرادی مفادات کے پیش نظر انتہا و شدت پسندانہ نظریات و افعال کو تحریک دی، جس کے باعث ملت اسلامیہ نہ صرف تقسیم ہوئی، بلکہ یہ فرقے ایک دوسرے کے جانی دشمن بھی بن گئے، یہ لڑائی صرف مسالک اور فرقوں تک محدود رہی، بلکہ مسلمان ممالک تک پھیل گئی۔

یہاں یہ حقیقت بھی ناقابلِ تردید ہے کہ مغربی ممالک خصوصاً امریکہ وغیرہ نے تیسری دُنیا کے ساتھ جنگیں باضابطہ طور پر سیکیورٹی کمپنیوں کوٹھیکے پر دی ہیں، جیسا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکی اور اتحادیوں نے جنگ کی ذمہ داری بلیک واٹر نامی سیکیورٹی کمپنی کو دی تھی۔۔۔ جو زی انٹرنیشنل کے نام سے بھی مشہور ہے۔۔۔ یہ تنظیمیں خود یورپی ممالک کے لئے ہر گز خطرے کا سبب نہیں ہیں، جیسا کہ مسلمان ممالک میں جاری شورش میں ملوث مذکورہ تنظیموں کا اپنے ہی خطے کے لئے خطرناک کردار ہے۔۔۔ یہ کردار اب مہلک ترین کردار میں تبدیل ہو چکا ہے،جس سے نمٹنا شاید ہمارے اداروں کے لئے ناممکن ہو چکا ہے، یہ حقیقت اپنی جگہ کہ پاکستان میں بالخصوص اور مسلمان ممالک میں بالعموم کام کرنے والی مذہبی اور کچھ لسانی تنظیموں کو بیرونی ایجنسیاں پروموٹ کر رہی ہیں۔۔۔ عوام کی اِن تنظیموں میں شمولیت کے ضمن میں اہل اقتدار کی ناانصافیوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔

مزید :

کالم -