نئی نسل کو کون بچائے گا ؟

نئی نسل کو کون بچائے گا ؟
نئی نسل کو کون بچائے گا ؟

  



گرماگرم سیاسی موضوع پر بات کرنے میں بڑا مزہ ہے،اس پرگھنٹوں بحث ہوتی ہے،بیسیوں ٹاک شو میں جگالی کی جاتی ہے،ڈیرے،تھڑے یا حویلی میں پہروں ایک دوسرے کو بھڑکایا جاتا ہے، مگراس زبانی کشتی سے آس پاس پھیلے بھیانک مسائل میں کوئی کمی نہیں آتی۔ حال تو بے حال ہے،مستقبل کیسا ہوگا ،اس کے لئے آج کے نوجوان کو دیکھ لیں۔ گزشتہ دِنوں گجرات کے گاؤں معین الدین پور میں سیکنڈ ائیر کے طالب علم نے اپنی ساری فیملی کوقتل کو کر دیا ۔وجہ بہت معمولی تھی ‘پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر والد نے بیٹے کو ڈانٹا تو اس نے رات کے پچھلے پہراپنے والد،والدہ،دوبھائیوں اوربہن کوفائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ دِل دہلا دینے والی خبر شہ سرخی بنی اور پھر سیاست کی آلودہ دھند میں غائب ہوگئی ۔ ایک اور خبر نے سننے والوں کو ہلا دیا تھا کہ اسلام آباد کے بڑے پرائیویٹ سکولوں کے نصف سے زائد بچے نشہ کے عادی بن چکے ہیں،سب جانتے ہیں کہ ان سکولوں میں پڑھنے والے بچے تنگ اورگندی گلیوں محلوں سے نہیں آتے، یہ سارے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور امیر گھرانوں کے بچے ہیں۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے،یعنی بارہ کروڑ جس میں سے 18سے 30سال کی عمر کے چھ کروڑ نوجوان ہیں ۔ ہماری حکومتیں اس بیش بہا اثاثے سے بالکل بے نیاز ہیں البتہ الیکشن میں نوجوان ووٹروں کو کھینچنے کے لئے سیاست دان رنگ رنگیلے غبارے اڑاتے ہیں، مگر ان کے پاس نئی نسل کو سنوارنے کا کوئی پروگرام،کوئی ایجنڈا نہیں ہے،ان کی کسی ترجیح ہی میں نہیں ۔

تیرہ سے انیس سال کی عمر کو ٹین ایج کہتے ہیں،یہ جسمانی اور نفسیاتی تغیرات کے سال ہوتے ہیں،بڑے ہنگامہ خیز، ولولہ انگیز ۔ڈیپریشن ،اضطراب،بے نام اداسی،بے وجہ قہقہے اوربے جاغصہ،ہمہ وقت مستی کا شوق،پڑھائی میں اکتاہٹ اورجذباتی اتار چڑھاؤاس دور کے فطری احساس اور رویئے ہیں ۔آپ دیکھیں ‘ ہمارے اکثرنوجوانوں کے مشاغل کیا ہیں: دوستوں کی قہقہوں بھری مجالس ،موبائل اور کمپیوٹرپر گھنٹوں چیٹنگ ‘میوزک اور ویڈیوز،لمبی سیر اور ڈھیر ساری مستی،چٹ پٹے کھانے اور نت نئے سٹائل، مگر یہی وہ سال ہیں جن میں مستقبل کی صورت گری ہوتی ہے۔ نویں جماعت سے سیکنڈ ائیر تک بورڈ کے امتحانات کیرئیرمیں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔بورڈ کے امتحانات کی تیاری کے لئے سخت محنت اور توجہ درکار ہوتی ہے،کورس کو سمجھنا،یاد کرنا، پہلے سکول یا کالج میں دماغ سوزی پھرکوچنگ سینٹرزاور اکیڈمیوں میں سر کھپائی‘شام ڈھلے گھر آکر سکول کالج کا الگ اور اکیڈمی کا الگ سبق یاد کرنا ۔زیادہ سے زیادہ نمبروں کی دیوانہ وار دوڑ،جس کے نمبر زیادہ، وہی کامیاب۔اس تگ و دو میں سپورٹس اور فزیکل سرگرمی کے لئے وقت نکالنا مشکل، بلکہ ناممکن ہوگیا ہے ۔ستم یہ ہوا کہ تعلیمی اداروں میں سپورٹس گراؤنڈ ختم ہوگئے ہیں، کھیلوں کی ٹیمیں ہیں نہ انسٹرکٹر البتہ دکھانے کے لئے کھیلوں کا سامان موجود ہے ،ایک پی ٹی انسٹرکٹر بھی ہوتا ہے جو زیادہ تر گیٹ پر ڈسپلن کی ڈیوٹی دیتا ہے ۔ شہروں میں کھیل کے میدان نہیں رہے اور مقابلے بھی ۔اب نوجوان گھنٹوں بیٹھ کرمن چاہی ویڈیوز اور میوزک سے لطف اندوز ہوتے ہیں،کسی سپورٹس کا موڈ ہو تو وہ بھی موبائل ہی پر کھیل لیتے ہیں۔ہاں !کچھ نوجوان جم اور ہیلتھ کلب بھی شوق سے جاتے ہیں،یہ ایک صحت مندانہ سرگرمی ہے، مگر کلبوں میں بھی ڈرگ مافیا گھس گیا ہے، نوجوانوں کو جلد نتائج کالالچ دے کر بے پناہ سٹیرائیڈ استعمال کراتے ہیں،جس سے جسم تو پھول جاتا ہے، مگر گردے اور جگر سمیت کئی اعضاء ناکارہ ہو جاتے ہیں ۔

جب سپورٹس ہو نہ ورزش، تو جسم کمزور ہوں گے اوربیماریاں حملہ کریں گی۔نوجوانی کی عمر میں توانائی بھرپور ہوتی ہے،کچھ کرنے کی تڑپ چین نہیں لینے دیتی، لیکن وہ کہاں جائیں،کھیل ہیں نہ کھیل کے میدان، وہ کیسے اپنا آپ دکھائیں اور منوائیں۔اس بے قابو ہوتی توانائی کو عجیب انداز میں دکھاتے،دباتے اور بہلاتے ہیں۔ کبھی ون ویلنگ کے کرتب دکھاتے ہیں،کبھی شیشہ سنٹروں میں دھوئیں اڑا رہے ہوتے ہیں اور فیس بُک پر جعلی اکاؤنٹ بنا کر لوگوں کو پھنساتے ہیں ۔ کچھ اس حد سے بھی آگے نکل کر اپنی مجالس میں کئی قسم کے نشے کرتے اور ایڈونچر کے لئے جرائم کرتے ہیں۔

نوجوانوں کو موج مستی سے فرصت نہیں، اگرکھینچ تان کرپڑھائی کے لئے وقت نکلے بھی تو ہماری تعلیم کیسی ہے ؟ اعلیٰ نمبر وں کے ساتھ ڈگری ہاتھ میں ہے، مگر علم نہیں ہے،سوال کا اسلوب بدل جائے تو اسے آؤٹ آف کورس سمجھتے ہیں، اور اس کے خلاف مظاہروں پر اُتر آتے ہیں مضمون بارے صرف کچھ نصابی جملے یاد ہیں، بارہ سال انگریزی پڑھ کر بھی انگریزی نہیں آتی‘ ایسا کیوں ؟کیونکہ انہیں پڑھانے والے نے مارکس لینے کے گر سکھائے ہیں،کورس کے منتخب حصوں کارٹالگا کرکمر�ۂ امتحان میں جوں کا توں لکھنا ہوتا ہے ۔اس لئے سارا زور نمبروں پر ہوتا ہے ،سمجھ کر پڑھنے اور سوچ کر لکھنے والوں کے نمبر کم آتے ہیں، لہٰذا وہ نا لائق اور نکو بن جاتے ہیں اور رٹا لگا کر دھڑا دھڑ صفحے کالے کرنے والا طالب علم تالیوں کی گونج میں فتح کے جبوترے پرچڑھ جاتے ہیں۔ رٹّا لگانے والے ڈگریا ں لے کر اداروں میں نوکریاں حاصل کرلیتے ہیں،جبکہ اپنے ذہن سے سوچنے والے دھکے کھاتے رہتے ہیں ۔

اس سارے نظام میں تربیت کہاں ہے ؟ تعلیمی اداروں میں پھس پھسی تعلیم کے ساتھ تربیت کا کوئی تصورسرے سے موجود ہی نہیں،جس کے نتائج ہم سب بھگت رہے ہیں ۔ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کی تربیت پر غیر معمولی توجہ دی جاتی ہے۔سکول میں چار سال کی عمرسے سکھایا جاتا ہے کہ گھرکے اندر خود کو کیسے سنبھالنا ہے، ذاتی کام جیسے بستر ٹھیک کرنا،الماری کی ترتیب قائم رکھنا، کھانے کی ٹیبل پر کھانا وغیرہ،اس کے علاوہ اپنی صحت کا کیسے خیال رکھنا ہے،اپنی چیزوں کی چھوٹی موٹی مرمت کیسے کرنی ہے،دوسروں سے انٹریکشن کرتے کن باتوں کا خیال رکھنا ہے،وقت اورپیسوں کی مینجمنٹ کاہنر‘مشکلات سے کیسے نمٹناہے اورموثر فیصلہ سازی کس طرح کرنی ہے ۔جیسے جیسے کلاسیں بڑھتی جاتی ہیں، ان صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے ،جو بچہ اپنے ابتدائی برسوں سے ان کاموں کا عادی ہوجاتا ہے،اسے زندگی میں مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا ہنر آجاتا ہے ۔ ہم نے مگر اپنے دین سے سیکھا نہ مغرب کی ترقی کے پیچھے تربیتی نظام سے۔

دُنیا کی کامیاب قوموں بلکہ دشمنوں سے بھی سیکھنے میں کوئی برائی نہیں۔عالمی معیشت اور میڈیاپر راج کرنے والے یہودی اپنے بچوں کی تربیت کیسے کرتے ہیں ‘ایک ہلکی سی جھلک اسرائیل میں تین سال قیام کرنے والے ڈاکٹر سٹیفن کارلیولن نے دکھائی۔ انہوں نے بتایاکہ وہاں پیدائش سے قبل بچوں کی تعلیم شروع ہوجاتی ہے،مائیں ریاضی کی مشقیں کرتی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ بچے کی شخصیت دُنیا میں آنے سے قبل ہی تشکیل پانا شروع ہو جاتی ہے، اس کی ماں جو کھاتی اور سوچتی ہے اس کا اثر اس کے بچے پر پڑتا ہے۔ بچوں کی خوارک دودھ، کھجور، بادام اور مچھلی ہوتی ہے،ہمارے بچوں کی طرح کچرا فوڈ نہیں کھاتے ۔وہ تین زبانیں سکھاتے ہیں: عربی،عبرانی اور انگلش۔کھیلوں میں دوڑ اور تیر اندازی یاشوٹنگ ضرور شامل ہوتی ہے ‘وہ سمجھتے ہیں شوٹنگ کرنے انسان میں توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے اوروہ ساری زندگی درست فیصلے کرتا ہے ۔دُنیا کے بڑے سگریٹ برینڈز یہودیوں کے ہیں، مگراپنے گھروں میں سگریٹ نوشی کو برا خیال کرتے ہیں اور بچوں کے سامنے تو پینے کو گناہ سمجھتے ہیں،لیکن ہمارے مہنگے پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کی سگریٹ نوشی پر کوئی پابندی نہیں،بلکہ کئی سکولوں نے سموکنگ روم بنائے ہوئے ہیں۔ان کی یونیورسٹیوں میں عملی طور پر کامیاب اور منافع بخش پراجیکٹس کے بعدہی ڈگری دی جاتی ہے۔ایسی ڈگری حاصل کر کے عملی زندگی میں آنے والے نوجوان کے سامنے کامیابی ہاتھ باندھے کھڑی ہوتی ہے ۔ہمارے طالب علموں کی اکثریت اچھی ملازمت کے لئے ڈگری لینا چاہتی ہے، جبکہ وہاں طلباء کو کاروبار کرنے کیلئے تیار کیا جاتا ہے ۔ اگر ہم خوشحال مستقبل کے بارے سنجیدہ ہیں تو نوجوانوں کے مسائل، ان کی تعلیم اور تربیت پر بھرپور توجہ دینا ہو گی۔سیاسی پھلجھڑیوں سے فارغ ہو کر کسی سیمینار، کسی پروگرام میں تیزی سے ضائع ہوتے اثاثے پر بھی سوچیں!

مزید : کالم