کالو قصائی کے دھوبی گھاٹ پر۔۔۔!

کالو قصائی کے دھوبی گھاٹ پر۔۔۔!
 کالو قصائی کے دھوبی گھاٹ پر۔۔۔!

  

پرا نے ز ما نے میں گگن شاہ اپنی حو یلی میں بلا نا غہ اکھا ڑہ کر وا تے تھے۔ اکھاڑے کے گر د پرا نی سر کنڈوں وا لی کر سیاں لگتیں، شہر کے بڑے لوگ جمع ہو تے خوب دھینگا مشتی ہو تی اوراکھا ڑے کا اختتام ہار جیت پر ہوتا، مگر شہر میں کئی کئی دن تک بڑے پہلوا نوں کے حما یت کر نے وا لوں کے درمیان بحث جمی رہتی بعض اوقات معاملہ گا لم گلوچ سے بڑھ کر گتھم گتھا تک پہنچ جا تا اور یوں پورا شہر گگن شاہ کے اکھا ڑے کا منظر پیش کرتا،شہر کی خواتین کہاں پیچھے رہنے وا لی تھیں، صنفی بر ابری کا معاملہ سمجھتے ہو ئے کا لو قصا ئی کے دھو بی گھاٹ پر کپڑے دھونے کے نام پر خوب کپڑے اتارے جا تے، پہلے پہل اپنے اپنے پسندیدہ پہلوانوں کی تعریفیں ہو تیں پھر نو بت عیبوں تک جا پہنچتی اور آخر میں گگن شاہ اور دو سرے شرفاء کو لے کر ایسی ایسی تہمتیں کہ خدا پناہ ۔

آ ج کل سیا سی اکھا ڑوں کا دور دورہ ہے اور مختلف دھو بی گھا ٹ بھی کھلے ہو ئے ہیں الزا مات کی سیا ہی میں لت پت سیا ستدان ان لانڈریوں میں ایک طرف سے داخل ہو تے ہیں اور دوسری جانب سے دمکتے چمکتے اور کڑکڑا تے سفید لٹھے کی طرح بر آ مد ہو تے ہیں، دامن پر کو ئی چھینٹ تو کیا گز شتہ سیا سی رفا قت کی ایک شکن بھی باقی نہیں رہتی۔بہر حا ل تبدیلی کا مو سم ہے ہم ان گا ہکوں پر کو ئی اعتراض تو نہیں کر سکتے، مگر اس لانڈری کے اصل مالک اور اس اکھاڑے کی اصل روحِ رواں المعروف گگن شاہ سے اتنی عرض تو کر سکتے ہیں کہ کم از کم سیا ست کے میدان کو کا لو قصا ئی کا گھا ٹ بننے سے روکا جائے۔

ورنہ نظر یا تی سر حدوں کے بعد اب سیا سی سر حدوں کی نگہبانی کرنا مشکل ہو جا ئے گا، جس کا تازہ نظا رہ ایم کیو ایم لندن سے بریک اپ کر نے وا لی ایم کیو ایم پا کستان اور پا ک سر زمین پا رٹی کے در میان ہو نے وا لا مشتر کہ اجلاس تھا ، مجھ سمیت کئی لو گوں کے لئے اس پر یقین کرنا مشکل تھا کہ دو نوں دھڑے ساتھ مل کر کرا چی میں سیاست کریں گے، مگر مصطفےٰ کما ل خود خو شخبری دینے کی بات کر رہے تھے، اس ممکنہ اتحاد پر جنرل(ر) پرویز مشرف کے ویڈیو پیغا م نے تو غضب کر دیا،ذہن میں وہی پرانا گگن شاہ کے کارناموں کاسلسلہ چل نکلا،جس کا بعد میں اظہار فاروق ستار اور مصطفےٰ کمال کر تے رہے گو یا اس وقت ’’تھا خواب میں خیال کو تجھ سے ہی معا ملہ!

نہ انہوں نے ایک ہو نا تھا نہ ہو ئے فا روق ستار کی جما عت میں اس کے خلاف بغا وت ہو گئی، مو صوف گزشتہ رات کے خمار میں بہت کچھ کمال سے ہار آ ئے تھے ، فاروق بھا ئی نے با نیء تحریک کا بر سوں سے آ ز مودہ فا رمو لا اپنا یا، پہلے پہل پھٹیچر لینڈ کرو زر کی کہا نی کے گرد گھما یا پھر سیا ست کو خیر باد کہنے کا اعلان کیا، بعد میں اپنی والدہ کے اصرار پر واپس بھی آ گئے۔میں تو فاروق ستار کو سیا ستدان سمجھتا رہا، مگر وہ تو بلا کے اداکار ثا بت ہو ئے۔

دو سری طرف مصطفےٰ کمال تھے گو یا دل تھام کے بیٹھنے وا لی کیفیت طا ری تھی چو نکہ اب ان کی با ری تھی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ہم کل ہی نہیں،بلکہ گزشتہ آ ٹھ ماہ سے مل رہے ہیں (گو یا بسنتی انہیں ملنی چا ہئے) ، کچھ دیر بعد ان کا جملہ کان میں پڑا کہ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر فا روق ستار سے ملے، اس کے بعد جو جملہ کہا وہ جہانِ حیرت میں گم کرنے کے لئے کا فی تھا، کیا کہا ؟ ایم کیو ایم پا کستان جنرل بلال اکبر کے کمرے میں بنی؟تو بہ استغفار۔جنوں میں پتہ نہیں آپ کیا کچھ کہہ رہے ہیں ، میری دُعا ہے کسی کو ککھ پتہ نہ چلے!۔۔۔ کرا چی میں مہا جروں کے نام لیواسودا گروں اورسیا ست میں دخل اندازی کا فلسفہ رکھنے والوں پر حضرت امیر خسرو ؒ کا ایک شعر یا د آ رہا ہے:

کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا

آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا

اب اسٹیبلشمنٹ نے ان رابطوں کی تصدیق کر دی ہے تو کیا یہ سوال اٹھایا جا سکتا کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے 258 افراد کے خون کے دھبے کس لانڈری میں دھل سکتے ہیں؟ ججز نظر بندی کیس داخل دفتر ہونے سے پرویز مشرف تو معصوم بن گئے ہیں، مگر 12 مئی کو شہر کرا چی پر پڑنے وا لے خون کے چھینٹوں کا حساب ایم کیو ایم کو دینا ہے لہٰذا دو بارہ سوچ لیں ! یہ سکرپٹ 2018ء کے انتخا بات میں چلنا مشکل ہے،اور اس کے مصنف کی عقل پر ما تم کر نے کو جی چاہ رہا ہے، جس نے ایسی کمزور کہا نی کا پلاٹ تیار کیا، رینجرز کے آ پریشن اور چار سال کی محنت پر بیک جنبش قلم پا نی پھیر دیا گیا۔

کرا چی کی سیا ست پر لگنے وا لے داغ سویلین دھو بی گھاٹ پر دھلنے وا لے نہیں! اسٹیبلشمنٹ کو یہ حقیقت پیپلز پارٹی پیٹر یاٹ، مسلم لیگ(ق) اور پاک سر زمین پارٹی بننے کے بعد سمجھ آ جا نی چا ہئے کہ میدان اصل سیا سی جما عتوں کو دینا پڑے گا،۔

اصل جما عتیں آ ج بھی پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف ہیں، عمران خان آ ئندہ الیکشن میں پہلے اور دوسرے نمبر کا مقابلہ لڑ رہے ہیں، اس کی پا پو لر لانڈری تک معا ملہ رہے تو شاید عوام کو ہضم ہو جا ئے، مگر ملی مسلم لیگ، تحریک لبیک یا رسول اللہ، 23جما عتی اتحاد کا دست پر ویزِ مشرف پر بیعت کرنا، ایم ایم اے کی بحا لی پر مجھے غا لب کے ایک شعر کا سہا را لینا پڑے گا

خدا کا واسطہ پردہ نہ کعبے سے اٹھا ظالم

کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کا فر صنم نکلے

مزید :

کالم -