ٹرانسپورٹ   پہ اشتہارات  اور بین الاقوامی  سیاست

Nov 16, 2017 | 12:59:PM

ڈاکٹر شاہد صدیق

عجب رنگ میں ہوتی سیاست – دیار ِغیر کی ٹرانسپورٹ پہ لکھے اشتہارات- کون کس کے لئے کیا کیا کر رہا ہے کسے معلوم نہیں- بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے بلوچستان میں دہشت  گردی کرتے عناصر کس کے ایماء پہ  کس کی خوشنودی کے لئے ہتھیار اٹھائے نہتے معصوم شہریوں کو خون میں نہلا رہے ہیں- علیحدگی پسند  نعرے بلند کرتے یہ مٹھی بھر کب اتنے طاقتور ہو سکتے ہیں کہ کبھی سوئٹزر لینڈ کی سڑکوں پہ  بلوچستان کی علیحدگی کا  میلہ رچائیں تو کبھی یہی بینرز لندن کی سڑکوں پہ نظر آئیں- چلتی  لندن کی مشہوراور قدیم  رواں دواں ثقافتی ورثہ بنی ٹیکسی کے گیٹ ہوں یا لندن میں نگر نگر گھومتی بسوں کے رنگے  رنگین چہرے جن پہ تحریر  بلوچستان  کی علیحدگی کے مطالبات، کیا کسی ملک کے اندرونی معاملات  اور مفادات کے ساتھ ایک کھلواڑ نہیں ہے- کسے نہیں معلوم کہ اس علیحدگی پسند  جتھے کو کس کی شہ حاصل ہے -کون ہے جو اِن کے پیچھے اپنے ملک کی شہریت  کے  نامے  لئے   انہیں سر آنکھوں پہ بٹھا رہا ہےاور ان کی پشت پناہی میں حد سے گزر گیا ہے- کس کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے – وزارت ِخارجہ ہماری سالمیت پہ ہوتے اس حملے کے خلاف کیوں حشر اٹھا نہیں دیتی- کیا مانع ہے اس کا جواب ہر پاکستانی چاہتا ہے –

 لندن دنیا  کاایک بہت بڑا سیاحی مرکز ہے  جہاں پہ دنیا بھر سے بھانت بھانت کے لوگ آتے اور نت نئی بولیاں بولتے ہیں لیکن ایک بھاشا – ایک زبان  جو سب سمجھتے اور بولتے ہیں وہ انگلش ہے –  دہشت گردوں کی پھیلائی دہشت گردی  کی ہوا  اور اس  ہوا پہ زبردستی کا لکھا پاکستان اور پھر  اس ہوا کے دوش پہ گائے ترانے ہمیں  جا بجا بدنام کر رہے ہیں  اور دشمنوں کی چلائی اس تحریک میں کچھ علیحدگی پسند اپنے  مذموم  عزائم  کی تسکین بھی کر رہے ہیں- انگریزی کے حروف سے لکھا  بلوچستان کی علیحدگی کا  مطلب  سب  کی سمجھ میں آتا ہے اور جس کو  سمجھ نہیں آتا اس کو ہر کوئی اپنی سمجھ کے مطابق سمجھا دیتا ہے اورجو وہ سمجھا دیتا ہے وہی آواز بن جاتا ہے- پراپیگنڈہ کے اس دور میں  یہ پیغام دنیا کے کونے کونے میں پہنچتا ہے- میں کھلے لفظوں کہتا ہوں کہ ہمارا دشمن بھارت ہمارے خلاف ہر طرح کے ذرائع ابلاغ استعمال کرتا ہوا  ہمیں نیچا دکھانے کے لئے ایڑھی  چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے  اور ایک ہم ہیں کہ  چپ سادھے بیٹھے ہیں –

پاکستان کے متعلق  چلائی جانے والی اس منفی  مہم کو چلانے والی تحریک " ایف بی ایم  ( فری بلوچستان موومنٹ)" کہلاتی ہے جس کا مقصدوطنِ عزیز کو بدنام کرنا اور اہلِ مغرب کے اذہان میں یہ بات بٹھا دینا ہے کہ  پاکستان میں ظلم و استبداد کا  دور دورہ ہے اور جس میں بلوچستان پس رہا ہے- سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان کی محبت کیوں ایسے ٹھاٹھے مارتی ہوئی دشمن کے دل میں موجزن ہے جب کہ اس کی انسان دشمنی کی داستانیں تو کشمیر کے  سرخ ہوتے چناروں پہ بہ خوبی لکھی ہوئی ہیں- کشمیر میں قتل و غارت ، عصمت ریزی اور مسلمانوں کا استحصال  کرنے والا بلوچستان  کے لئے ایسے پریشان کیوں ہے وہ بلوچستان جس میں  اسی دشمن   کی  نفرتوں بھری چلائی  باد سموم  تھمنے کو ہے  اور امن و خوشحالی  دستک دیتی  ہر در  کے وا ہونے کی منتظر ہے – وہی بلوچستان  جسے دہشت گردی سے تقریبا" پاک کر دیا گیا ہے  اور لوگوں کے چہروں پہ  کھیلتی ہوئی  مسکراہٹ اور شادمانی  اس کا بین ثبوت ہے اس کی علیحدگی کی مہم کس کے مقاصد پورا کرنے کے لئے  مغرب میں چلائی جا رہی ہے- اب  تو اس کا جواب   بمعہ ثبوت دینا  بھی ذرا مشکل نہیں ہے- بلوچستان کو اس لئے تختہء مشق بنایا جا رہا ہے  کہ بلوچستان میں واقع گوادر سی پورٹ  کل اس علاقے کو مغرب کے ہم پلہ بنانے جارہی ہے- بلوچستان کی  زمینوں میں چھپے معدنیات کے خزانے  بلوچستان کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہیں- ترقی کرتا پاکستان اس کے دشمنوں کی آنکھ میں ایک کانٹا بنا چبھ رہاہے- پاکستان میں بپا سیاسی غیر استحکام دشمن  کے لئے باعثِ تسکین ہے  اور ان کی سازشوں  کی کامیابی کی نوید بھی ہے- اداروں پہ ہوتی چڑھائی  اور  حکومتی چپقلش  شاید اس بات کی غماز ہے کہ کہیں نہ کہیں ہم آہنگی کا فقدان ضرور ہے جو ایسا تاثر دیتے ہوئے دشمن کو شہ دیے ہوئے ہے اور دشمن اسے اپنے مفاد میں استعمال کر رہا ہے- ملکی معیشیت کی پتلی حالت ، بڑھتی مہنگائی   ،بے روز گاری ، امریکہ میں بھارت نواز ٹرمپ انتظامیہ اور سی پیک کی   مخالفت ایسی تحریکوں کو  کاندھا دیے ہوئے ہیں- پاکستان کو ان تمام خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہے جس کے لئے مستحکم حکومت اور  مضبوط ادارے وقت کی ضرورت ہیں- ہمیں اپنے تضادات مٹانے ہوں گے- دشمن کی چالیں اور عزائم ہمارے سامنے ہیں جن کا بھرپور جواب ہی کل کے روشن پاکستان کی ضرورت ہے-

 سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ  صاحبہ نے اسلام آباد میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر  کو طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے کہ لندن کی سڑکوں پہ  جاری یہ اشتہارات کا کھیل پاکستان کے مفادات  کے منافی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر  کی  کھلی خلاف ورزی ہے-

 پاکستان نے ہمیشہ ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر سفارتی آداب کی پاسداری کی ہے – پاکستان کی سالمیت اور داخلی سیاست  میں یہ در اندازی اسے   قابلِ قبول نہیں- پاکستان  کی سرحدوں  میں جاسوسی  اور دہشت گردی پھیلاتے  بھارتی نیٹ ورک  دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے اور دنیا کو بھی ہمارے مثبت کردار  کو سراہنا چاہیئے- مغربی ممالک کو بھی سوچنا چاہیئے کہ  سفارتی آداب پہ درس دیتے نہ تھکنے والے یہ ممالک بین الاقوامی اطوار کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں- عالمی برادری کو سوچنا ہوگا کہ ان کی سرزمین سے چلائی گئی ایسی مہم خود ان کی غیر جانب داری پہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے-

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں