ضلعی انتظامیہ سے محکمہ لیبر غائب ، ناپ تول میں کمی کی شکایات عام ، مزور طبقہ کی چیخیں

ضلعی انتظامیہ سے محکمہ لیبر غائب ، ناپ تول میں کمی کی شکایات عام ، مزور طبقہ ...

ملتان(سٹی رپورٹر) ضلعی نظام سے محکمہ لیبر غائب ،محکمہ لیبر اس قدر غیر فعال ہوگیا کہ اس کانام صرف کاغذات تک محدو د ہوکر رہ گیا ، دفتر ویران رہنا معمول ، یہاں تک کہ ملتان جیسے بڑے ضلع میں محکمہ لیبر اپنے باقاعدہ ڈا ئریکٹر سے بھی محروم ہے ، ڈائریکٹرراناجمشید فارو ق کے پاس ملتان ڈائریکٹر کا اضافی چارج ہے جنکی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے رانا جمشید کی ترجیح خانیوال پر مرکوز ہے ،جس کے باعث ناپ تول میں کمی بیشی کرنے(بقیہ نمبر47صفحہ7پر )

والوں کو محکمہ کے دیگر افسران نے کھلی چھوٹ دے دی ، لیبر ایکٹ کا نفاذ کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہا مزدور طبقہ محکمہ کی ناقص کارکردگی کے باعث پس کر رہ گیا ہے،حکومت بدل گئی مگر محکموں کی حالت اور افسران وملازمین کی روش نہ بدل سکی ۔ملتان جیسے بڑے ضلعی میں لیبر کامحکمہ برائے نام رہ گیا ، یہاں تک کہ ملتان میں مستقل ڈائریکٹر کی تعیناتی بھی تاحال نہیں کی گئی ، ڈائریکٹر کی مکمل توجہ ڈسٹرکٹ خانیوال پر ملتان میں اضافی چارج کے باعث ملتان میں محکمہ کی کارکردگی پر کوئی توجہ نہیں ہے جس کے باعث ناپ تول میں کمی بیشی کا سلسلہ اپنے عروج پر پہن چکا ہے ، ڈائریکٹرجمشید فاروق کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر افسران ، عملے کا دفتر سے غائب رہنا معمول بن گیا ہے ، پی اے ٹو ڈائریکٹر بھی دفتر سے غائب رہتے ہیں جس کی وجہ سے مزدور طبقہ پس کر رہ گیا ہے ، مختلف ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ لیبر کا ضلعی ڈائریکٹوریٹ ملز، فیکٹری مالکان سے رابطے میں رہتے ہوئے ایکا اور مک مکا کیئے رکھتے ہیں ،جس کے باعث غربت اور بے روزگار کیئے جانے کے خوف میں مبتلا مزدور طبقہ اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہے اور فیکٹری مالکا ن کے ظلم کی چکی میں پس کر رہ گیا ہے جس پر کسی قسم کا کوئی لیبر ایکٹ حرکت میں نہیں آرہا ہے ، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تبدیلی کی دعوے دار حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد افسران کی روش میں بھی تبدیلی دکھائی دینی چاہیئے تھی جس کا تاحال کوئی نام ونشاں نظر نہیں آرہا ۔محکمہ کی طرف سے ڈ س ایبل پرسن کے تین فیصد کوٹہ عملد رآمد کے حوالے سے کاروائی اب شروع کیئے جانے کاامکان ہے منیجر ایمپلیمنٹ ایکسچینج جمیل چغتائی کی طر ف سے اس حوالے سے کاروائی شروع کر دی گئی ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر