وزیر اعلی بلوچستان پی ٹی آئی عہدیداروں کیخلاف مقدمہ کی تحقیقات کرائیں

وزیر اعلی بلوچستان پی ٹی آئی عہدیداروں کیخلاف مقدمہ کی تحقیقات کرائیں

جام پور(نامہ نگار)پی ٹی آئی عہدیداروں کے خلاف جھوٹے مقدمہ کے اندراج کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ سیاسی اختلافات رائے کو قبائلی تنازعات کا رنگ دینا افسوسناک ہے۔ وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان پی ٹی آئی عہدیداروں کے خلاف درج مقدمہ کی اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے تاکہ بے گناہ افراد زیادتی و ناانصافی سے محفوظ رہ سکیں۔(بقیہ نمبر19صفحہ12پر )

ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی بلوچستان کے صوبائی صدر و سردار یار محمدخان رند، رکن قومی اسمبلی سردار محمدجعفر خان لغاری، سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مینا جعفر لغاری، وڈیرہ محمدان خان رند، وڈیرہ نہال خان، وڈیرہ گل محمد شمیانی، اکبر خان کھتران، داؤد خان مزرانی، ملک اعجاز خان مزرانی سمیت دیگر سیاسی سماجی شخصیات نے اپنے اپنے الگ الگ مذمتی بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بارکھان کے صدر سردار حاجی میر طارق خان کھتران اور جنرل سیکریٹری قیوم خان مزرانی کھتران نے چونکہ 25جولائی کے جنرل انتخابات میں قبائلی سرداروں کے خلاف پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑاتھا۔اور قبائلی روایتی سیاسی سرداروں کو ناکوں چنے چنوائے تھے۔ اس سیاسی اختلافات رائے کی بنیاد اور رنجش پر بعض قبائلی سرداروں کے ایماء پر سابق امیدوارو ایم پی اے پی ٹی آئی میر حاجی طارق خان کھتران ، ان کے بھائی ، بھتیجوں سمیت دیگر قریبی عزیز واقارب پر جنہوں نے انہیں الیکشن میں مکمل سپورٹ کیا تھا کے خلاف من گھڑت اور جھوٹا مقدمہ درج کرادیا تاکہ پی ٹی آئی کے لوگ علاقہ کی سیاسی قبائلی روایات میں کوئی تبدیلی نہ لاسکیں۔ اور غریب عوام ان روایتی قبائلی سرداروں کے چنگل میں بددستور پھنسے رہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار ، وزیراعظم عمران خان ، اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام مصطفی کمال سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی عہدیداروں کے خلاف درج مقدمہ کی غیر جانبدارانہ اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔ اور بے گناہوں کو مقدمہ سے خارج کیاجائے۔

یار محمد رند

مزید : ملتان صفحہ آخر