وکلا کے پُرتشدد مظاہرے

وکلا کے پُرتشدد مظاہرے

فیصل آباد میں وکلا نے لاہور ہائی کورٹ کے علاقائی بنچ کے قیام کی حمایت میں پُرتشدد مظاہرے کئے،سڑکوں پر ٹائر جلا کر ہنگامہ آرائی کی،وکلا دیوار پھلانگ کر سیشن عدالتوں میں گھس گئے اور کرسیاں اُٹھا اُٹھا کر پھینکیں اور توڑ پھوڑ کی،ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سیف اللہ ڈوگر کے دفتر میں زبردستی گھس گئے، دروازہ توڑ کر کانفرنس روم میں داخل ہوئے،اور اُنہیں اجلاس کی صدارت سے روک کر کرسی سے اُٹھا دیا،ہاتھا پائی کی اور دھکے دیئے،اِن وکلا کی قیادت بار ایسوسی ایشن کے صدارتی امیدوار میاں لیاقت جاوید کر رہے تھے۔بعد میں وکلا نے سیشن کورٹ کے باہر سڑک پر دھرنا دیا اور ٹریفک بند کر دی۔ چنیوٹ اور گوجرانوالہ میں بھی وکلا نے عدالتی بائیکاٹ کیا۔

وکلا کا یہ مطالبہ تیس سال پرانا ہے اور وہ اپنے اِس مطالبے کی حمایت میں وقتاً فوقتاً عدالتی بائیکاٹ کرتے اور احتجاج کرتے رہتے ہیں،حالیہ برسوں میں مُلک کے مختلف شہروں میں وکلا برادری نے اپنے دوسرے مطالبات میں بھی پُرتشدد مظاہرے کئے ہیں، کبھی کسی وکیل کے موکل کے خلاف فیصلہ آ جائے تو وکیلوں کا گروپ مل کر عدالت کے جج سے بدتمیزی پر اُتر آتا ہے، عدالت کو تالہ لگا دیتا ہے اور تشدد آمیز رویہ بھی اختیار کرتا ہے،ایسا بھی ہو چکا ہے کہ کسی جج کو کورٹ روم کے اندر بند کر کے باہر سے تالہ لگا دیا گیا، ملتان میں وکلا نے ہائی کورٹ کے جج سے بدتمیزی کی،جس کی وجہ سے کئی روز تک مقدمات کی سماعت رُکی رہی اور ذمہ دار وکلا کے خلاف مقدمات بھی درج ہوئے اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔اِسی طرح ملتان میں عدالتی کمپلیکس کی منتقلی پر بھی وکلا نے پُرتشدد مظاہرے کئے اور نو تعمیر شدہ عمارت کو نقصان پہنچایا۔

وکلا کے احتجاج کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اَن پڑھ مزدوروں اور پڑھے لکھے وکلا کے احتجاج کے طریق کے درمیان کوئی فرق نہیں رہنے دیا،عام لوگ اور مزدور بھی سڑکوں پر احتجاج کر کے سڑکیں روکتے ہیں،ٹائر جلاتے ہیں،راہگیروں کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں،گاڑیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، بازاری زبان استعمال کرتے ہوئے نعرے لگاتے ہیں،ججوں کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں،غرض ؤکلا بھی احتجاج کا ہر وہ راستہ اختیار کرتے ہیں،جو مزدوروں کی ٹریڈ یونینیں طویل عرصے سے اختیار کرتی چلی آ رہی ہیں، وکلا پولیس کے ساتھ اُلجھنے سے بھی گریز نہیں کرتے، یہاں تک کہ ایسے ہی ایک واقعے میں ایک وکیل اور پولیس افسر کے درمیان تلخ کلامی ایک وکیل کی موت پر منتج ہوئی۔

اِس وقت فیصل آباد اور سرگودھا میں لاہور ہائی کورٹ کے علاقائی بنچ قائم کرنے کا جو مطالبہ کیا جا رہا ہے، تمام وکلا اس سے اتفاق بھی نہیں کرتے، لاہور کے وکلا کی جانب سے اس کی مخالفت دیکھنے میں آئی۔ ایک زمانے میں جب جسٹس فلک شیر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ فیصل آباد میں تو اتنے مقدمات ہی نہیں کہ یہاں بنچ بنانے کی ضرورت ہو، تاہم جہاں تک آئینی پوزیشن کا تعلق ہے، کوئی بھی صوبائی حکومت آئین کے تحت کابینہ اور چیف جسٹس کے مشورے سے بنچ قائم کرنے کی مجاز ہے، تاہم فل کورٹ 2016ء میں ہائیکورٹ کے مزید علاقائی بنچ قائم کرنے کی حکومتی تجویز مسترد کر چکی ہے۔اس لئے اب بنچ قائم ہی نہیں ہوسکتے البتہوکلاء کی طرف سے یہ مطالبہ منوانے کے لئے تشدد کا جو راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ وہ کسی طرح بھی لائقِ تحسین نہیں،ڈپٹی کمشنر کا اِس معاملے سے کوئی تعلق نہیں،اِس لئے انہیں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے زبردستی کرسی سے اُٹھا دینے سے کیا حاصل ہو گا؟ انہوں نے نہ تو علاقائی بنچ بنانا ہے اور نہ اُن کا اِس معاملے سے براہ راست کوئی لینا دینا ہے،کہ ان کے ساتھ بدتمیزی کا مظاہرہ کیا جاتا اِس لئے وکلا نے اُن سے بدسلوکی کر کے یہی ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے احتجاج میں کِسی بھی سطح تک نیچے اُتر سکتے ہیں اور اپنے کالے کوٹ کی عزت و وقار داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے تین بنچ راولپنڈی،ملتان اور بہاولپور میں کام کر رہے ہیں،جبکہ وکلا کی خواہش ہے کہ پنجاب کے ہر ڈویژن بالخصوص گوجرانوالہ، سرگودھا اور فیصل آباد میں ایک بنچ ہونا چاہئے۔ آج کے دور میں جبکہ ذرائع رسل و رسائل بہت ترقی یافتہ ہو گئے ہیں محض فاصلے کی بنیاد پر کسی بنچ کی تشکیل کا مطالبہ جائز نہیں۔ فیصل آباد، لاہور سے دو گھنٹے کی دوری پر رہ گیا ہے،جہاں لاہور ہائی کورٹ واقع ہے اِسی طرح سرگودھا سے بھی دو ڈھائی گھنٹے میں لاہور پہنچا جا سکتا ہے،گوجرانوالہ تو لاہور سے قریب ترین ہے، اور روزانہ ہزاروں لوگ وہاں سے لاہور آتے اور دن بھر مختلف نوعیت کے کام کر کے رات کو واپس چلے جاتے ہیں، ایسے میں ہر ڈویژن کے اندر علاقائی بنچ کے مطالبے کی حمایت نہیں کی جا سکتی تاہم جہاں ایسے بنچ کا قیام ضروری بھی ہے اس کے لئے 2016ء کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں حل نکالنا ہو گا، توڑ پھوڑ اور تشدد کے ذریعے بنچ بنوانے کا آپشن تو کسی صورت جائز نہیں، جو وکلا نے اختیار کر رکھا ہے۔اِس طرح کے احتجاج سے بنچ تو شاید پھر بھی نہ بن سکے،لیکن محسوس یوں ہوتا ہے وکلا اپنے رہے سہے وقار کو بھی خاک میں ملا دیں گے،جب کوئی ایسا احتجاج ہوتا ہے تو وکلاء کے اندر سے ایسی آوازیں بھی سُنی جاتی ہیں کہ وکیل تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرتے، بلکہ بعض جعلی وکیل کالا کوٹ پہن کر وکلا کو بدنام کرنے کے لئے اُن کی صفوں میں گھس آتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو وکلا اِن کالی بھیڑوں کو نکال کیوں نہیں دیتے،پچھلے دِنوں یہ اطلاعات بھی منظر عام پر آئی تھیں کہ بعض وکلا نے جعلی ڈگریوں پر وکالت کے لائسنس حاصل کر رکھے ہیں۔ظاہر ہے ایسے وکلا عدالتوں میں پیش ہوں گے تو اُن کی قابلیت کا سارا بھرم کھل جائے گا،اِس لئے یہ جعلی ڈگریوں والے وکالت کرنے نہیں آتے وکالت کے بھیس میں اپنا جعل سازی کا کھیل کھیلتے ہیں اور سادہ لوح لوگوں کو اس بہانے لوٹتے ہیں۔یہ نام نہاد وکلا عدالتوں کے سٹاف سے مل کر مقدموں کو سالہا سال تک لٹکائے رکھتے ہیں اور اپنے سادہ لوح موکلوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ اُن کے پاس کوئی ایسی گیدڑ سنگھی ہے،جس سے کام لے کر وہ انہیں بغیر مقدمہ لڑے ہی مستقل ریلیف دِلائے ہوئے ہیں،پچھلے دِنوں یہ اطلاع بھی آئی تھی کہ وکیلوں کی ڈگریاں بھی چیک کی جائیں گی،شاید اس کام کا آغاز ہوا بھی تھا۔اگر ایسا ہے تو یہ جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانا چاہئے،تاکہ وکلا برادری کو بدنام کرنے والے ان وکیلوں کو اُن کی صفوں سے نکالا جا سکے،چونکہ یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ بعض نام نہاد وکلا ان کے کاز کو نقصان پہنچانے کے لئے اُن کی تحریک کو پُرتشدد بنانے میں کوئی خفیہ کردار ادا کرتے ہوں۔

وکیلوں کے لئے بہترین آپشن یہ ہے کہ وہ دلیل کے ہتھیار سے لیس ہو کر اپنا مقدمہ حکومت اور جنابِ چیف جسٹس کے سامنے پیش کریں اور اُنہیں قائل کریں کہ نئے علاقائی بنچوں کا قیام کیوں ضروری ہے۔اگر انہوں نے اپنا مقدمہ درست طور پر پیش کر دیا تو عین ممکن ہے اُن کا مطالبہ تسلیم کر لیا جائے،لیکن اگر وہ اِسی طرح تشد آمیز مظاہروں سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے رہے تو کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں،البتہ اِس سے اتنا ضرور ہو گا کہ وکلا کے بارے میں منفی تاثر مزید گہرا ہو جائے گا،حالانکہ ضرورت پہلے سے قائم تاثر کو بہتر کرنے کی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ