ہائی برڈ وارفیئرکی سویلین پرتیں

ہائی برڈ وارفیئرکی سویلین پرتیں
ہائی برڈ وارفیئرکی سویلین پرتیں

  


آپ کو یاد ہوگا ہمارے آرمی چیف نے کچھ ہفتے پہلے پاکستان کی عسکری صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں ’’ہائی برڈ وار فیئر‘‘ (Hybrid Warfare) کا سامنا ہے جو ’’ہاٹ وار فیئر‘‘ سے زیادہ خطرناک طرزِ جنگ ہے۔ گرم طریقہ ء جنگ (یا اندازِ جنگ و جدل) تو اب بہت پرانی بات ہو چکی ہے۔ یہ گرم جنگ تو 6اگست اور 9اگست 1945ء کو جاپان پر جوہری حملوں کے بعد ہی ختم ہو گئی تھی۔۔۔ 1945ء کے بعد کی تمام جنگیں علاقائی جنگیں تھیں اور ان کا فوکس جوہری ممالک کی عالمی حکمرانی کے قیام پر تھا۔ کوریا، ویت نام، پاک بھارت، عرب اسرائیل، فاک لینڈ، افغانستان، عراق،لیبیا، شام وغیرہ کی جنگیں معروف اصطلاحی معنوں میں جنگیں تھیں ہی نہیں۔۔۔۔ کوئی رستم زماں جب کسی کانگڑی پہلوان سے کشتی کرنے کے لئے اکھاڑے میں اترتا ہے تو تماشائیوں کو پہلے سے اس دنگل کے نتیجے کا علم ہوتا ہے۔

یہی حال وسط 1945ء سے لے کر اب تک کی علاقائی جنگوں کا تھا(اور ہے) ان جنگوں کے متحارب فریقین میں طاقت کا توازن وہ نہیں تھا جو ان کو اصطلاحی معنوں میں ’’جنگ‘‘ کا عنوان عطا کرسکتا۔ یہ ایک طرح کی پراکسی جنگیں تھیں۔ یعنی جہاں یہ جنگیں ہوتی تھیں (یا آج کل ہو رہی ہیں) وہاں کی سرزمین اور آبادیاں تو مقامی تھیں لیکن فریقینِ جنگ، غیر مقامی تھے۔1945ء کے بعد کی تمام جنگوں میں غیر مقامی طاقتیں نبردآزما رہیں لیکن نام ان طاقتوں کا نہیں لیا جاتاتھا۔ ان جنگوں میں وہ قوتیں برسرِ پیکار تھیں جو نظر نہیں آتی تھیں۔۔۔ یہی نظر نہ آنے والی بات ’’ہائی برڈ وار فیئر‘‘ کا ایک جزوِ لازم ہے اور جنرل قمر جاوید باجوہ اسی Invisibleجنگ کا حوالہ دے رہے تھے۔۔۔ جنگ کی یہ صفت یا خوبی یا خرابی ’’ہائی برڈ وار فیئر‘‘ کا ایک اہم عنصر ہے۔ لیکن اس کے اور بھی بہت سے عناصر ہیں۔ مثلاً سب سے پاور فل عنصر اقتصادی ہے اور اس کے بعد نفسیاتی عنصر ہے۔ یہ دونوں عناصر (اقتصادی اور نفسیاتی) اگرچہ گرم نہیں ہیں لیکن باوجود اس کے جنگ کے بنیادی اصول اور اساسی عناصر شمار ہونے لگے ہیں۔

جب کسی سپاہی کے پیٹ میں روٹی نہیں جائے گی،تن پر کپڑا اور کاندھے پر رائفل نہیں ہوگی تو وہ میدانِ جنگ میں اتر کر کیا کرے گا ؟۔۔۔ حضرت اقبال نے ایک شعر میں فرمایا تھا کہ اگر سپاہی کافر ہے تو شمشیر پر بھروسا کرتا ہے اور اگر مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑ جاتاہے۔۔۔ اس موضوع پر میں نے اپنے عسکری کیرئیر میں درجن بھر اعلیٰ سطحی مذاکرے اٹنڈ کئے۔ ان مباحثوں اور مذاکروں میں سب سے زیادہ متنازعہ پہلو یہی تھا کہ سپاہی، بے تیغ لڑ سکتا ہے یا نہیں اور اگر حضرت علامہ نے یہ مثال، صرف بطورِ مثال دی تھی تو یہ کسی بھی لغات یا گرامر کے قاعدے کلیئے کی ترجمان نہیں تھی اس لئے ناقص اور غلط تھی۔

اب چونکہ دو جوہری ممالک میں ’’گرم جنگ‘‘ کا تصور ختم ہو چکا ہے اس لئے حضرتِ انسان نے اقتصادی اور نفسیاتی جنگوں کی طرف جا کر اپنی جنگی جبلت کی تکمیل کا سامان کر لیا ہے۔۔۔ انڈیا (اور پاکستان کے دوسرے دشمن) اب جوہری پاکستان پر کوئی ’’گرم حملہ‘‘ نہیں کر سکتے۔ اگر کریں گے تو شائد یہ تیسری ورلڈ وار ہو گی جو نہ صرف آخری جنگ ہوگی بلکہ تمام حیاتِ ارضی کی ہی خاتم ثابت ہوگی۔

ہائی برڈ جنگ کے بہت سے ’’غیر جنگی‘‘ مظاہر بھی ہیں۔۔۔آپ نے سڑکوں پر بعض دوڑتی کاروں کے پیچھے Hybrid کے الفاظ / لوگو لکھے دیکھے ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ گاڑی صرف پٹرول پر ہی نہیں بلکہ بجلی پر بھی چل سکتی ہے۔ اس میں پٹرول کی ٹینکی کے ساتھ ساتھ وہ بیٹریاں بھی نصب ہوتی ہیں جن کو ری چارج کرنے کا سامان (Equipment) گاڑی کے انجن ہی میں نصب ہوتا ہے۔ یعنی اگر پٹرول ختم ہو جائے یا ڈرائیور پٹرول ختم ہونے سے پہلے ایک بٹن دبا کر بیٹریاں آن کر دے تو یہ کار پٹرول کی جگہ بجلی کی طاقت سے چلنی شروع ہو جائے گی۔ مستقبل قریب میں ایسی گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتی نظر آئیں گی جن میں پٹرول، ڈیزل، گیس، بجلی، سولر انرجی اور وِنڈ (wind) انرجی کی Fittings لگی ہوں گی جو اسے ہائی برڈ کار بنا دیں گی۔

کسی بھی فوج کو اگر روٹی، کپڑا، مکان اور ہتھیار نہ ملیں تو کیا وہ جنگ لڑ سکتی ہے؟۔۔۔ یہ گویا فوج کی بقا کے اساسی عناصرِ اربعہ ہیں۔۔۔

دشمن اگر ان عناصرِ اربعہ کی بندش کا بندوبست کرلے تو کیا وہ فوج لڑ سکتی ہے؟۔۔۔ یا اگر بالفرض کسی فوج کو راشن پانی کی فراوانی تو دستیاب ہو لیکن اس میں لڑنے کا ’’حوصلہ‘‘ (will) موجود نہ ہو تو کیا وہ میدانِ جنگ میں کھڑی رہ سکتی ہے؟۔۔۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی فوج کو سروائیو کرنے کے لئے جن جسمانی، اسلحی اور نفسیاتی احتیاجات کا سامنا ہوتا ہے ان میں سے اگر اسلحی ضرورت کو نکال بھی دیں تو اس کا فوری اثر سپاہی پر یہ پڑے گا کہ وہ دشمن کے سامنے فی الفور ڈھیر ہو جائے گا اور اگر اس کی سروائیول کے دوسرے ذرائع (راشن پانی اور عزم و حوصلہ) اس سے چھین لئے جائیں تو بھی وہ سپاہی فی الفور تو ڈھیر نہیں ہوگا لیکن اس کا ڈھیر ہونا بالآخر نوشتہء دیوار ہوگا۔۔۔ صرف ٹائم بیچ میں حائل ہو گا!۔۔۔

پاکستان کے دشمن،ڈانواں ڈول پاکستان کی مالی امداد بند کرکے اور اس کے اردگرد کا ماحول ناقابلِ برداشت بنا کر اس سے لڑنے کا حوصلہ چھین لینا چاہتے ہیں۔۔۔ اور یہی ’’ہائی برڈ وار فیئر‘‘ ہے۔۔۔۔اب اس ہائی برڈ کلچر کا ایک اور’’نان وارفیئر‘‘ مظہر بھی دیکھئے:

مجھے پوری طرح یقین ہے کہ پرانے پاکستان کی پرانی حکومت کو ’’ہائی برڈ وار فیئر‘‘ کی مشکلات اور اس کی آسانیوں کا عرفان بہت پہلے ہو چکا تھا۔ یہ بات دوسری ہے کہ اس کا اظہار کبھی کسی وزیراعظم نے میڈیا پر آکر نہیں کیا۔ حکومت کو معلوم تھا کہ ہائی برڈ کاریں کس انرجی سے چلتی ہیں اس لئے اس نے اس انرجی کی تمام اقسام (پٹرول، گیس، ڈیزل، الیکٹرسٹی اور شمسی توانائی وغیرہ) کاحتی المقدور سامان کر رکھا تھا۔۔۔بظاہر عوام خوش تھے۔۔۔ میڈیا خوش تھا۔۔۔ بیورو کریسی خوش تھی۔۔۔ اپوزیشن خوش تھی۔۔۔ یعنی سب طرف ہُن برستا تھا اور جام پہ جام لنڈھائے جارہے تھے لیکن یہ شراب دراصل قرض کی مَے تھی جو سب لوگ غٹاغٹ پی تو رہے تھے لیکن نہیں جانتے تھے کہ ان کی فاقہ مستی ایک دن ضرور رنگ لا کر رہے گی۔۔۔ آج دن وہ آگیا ہے!۔۔۔ ہائی برڈ وارفیئر کی سویلین پرتیں کھلنے لگی ہیں۔

آج نئے پاکستان کی نئی حکومت نے ماضی سے سبق حاصل کیا ہے اور ہائی برڈ وارفیئر کا عرفان پا کر حکمرانی کی گزشتہ پریکٹس کو 180ڈگری تبدیل کر دیا ہے۔۔۔۔مے کشی اگرچہ بند ہو چکی ہے ۔۔۔شراب خانوں پر اگرچہ تالے لگائے جارہے ہیں۔۔۔ لیکن ساتھ ہی میڈیا کا گلا گھونٹا جارہا ہے اور اشتہاروں کی آکسیجن بھی یکدم بند کر دی ہے۔ اس بندش کے اثرات کچھ تو آج بھی ظاہر ہو رہے ہیں اور باقی آنے والے کل میں ہو جائیں گے۔یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔میں ہمیشہ سے برخود غلط میڈیا کا شدید ناقد رہا ہوں اور سمجھتاہوں کہ جن لوگوں نے دن کی روشنی میں فانوس جلانے کا شغل جاری رکھا، ان پر اب شام آئی ہے تو ان کے چراغوں میں تیل تو ختم ہونا ہی تھا!

میں کل شامی چوک (لاہور کینٹ) سے گزر رہا تھا تو سگنل پر گاڑی رکنے کے وقفے میں سامنے ایک جہازی سائز کا بِل بورڈ نظر آیا جس پر لکھا تھا کہ سپریم کورٹ نے شہری علاقوں سے بل بورڈز وغیرہ ہٹا دینے اور شہر کی ’’خوبصورتی‘‘ میں اضافہ کرنے کا جوحکم صادر کیا ہے، اس کی زد میں آکر ہزاروں ’’لوگنیاں‘‘ اور لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اور 5ارب کا کاروبار ’’ٹھپ‘‘ ہو کر رہ گیا ہے۔۔۔

آپ اندازہ لگائیں کہ بظاہر ان معمولی سے ہورڈنگز (Hodings) کی برسات میں کتنے لوگ تھے جو غسل فرما رہے تھے، کتنی اشتہار ساز کمپنیاں تھیں جو ہری بھری تھیں اور لہلہا رہی تھیں، شاہراہوں پر درختوں اورپودوں کی کتنی اقسام تھیں جو سرسبز و شاداب تھیں اور کتنے پینٹر، کاریگر، خوش نویس اور فنکارائیں تھیں جو سپریم کورٹ کے ایک حکم پر خالی جیب اور تہی دامن ہو گئیں۔۔۔ مجھے معلوم نہیں اس اپیل کا کچھ اثر جناب چیف جسٹس پر ہو گا یا نہیں لیکن میری طرح بے شمار راہ چلتے مسافروں اور راہگیروں کی آنکھیں کھل گئی ہیں کہ یہ بظاہر معمولی نظر آنے والا ’’کاروبار‘‘ کتنا نقد آور تھا، کون لوگ تھے جو نہال ہو رہے تھے اور کون لوگ ہوں گے جو ’’بے روزگار‘‘ ہو جائیں گے ۔۔۔اور جناب چیف جسٹس کو خوامخواہ کی دعائیں مل جائیں گی!

فاضل چیف جسٹس آج کل (بلکہ ایک طویل عرصے سے) میڈیا کی نظروں میں سمائے ہوئے ہیں یا شائد میڈیا ان کی نظروں میں بس چکا ہے۔ وجہ کچھ بھی ہووہ کسی کا لحاظ نہیں کرتے اور سب کہ و مہ کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں۔ کیوپڈ دیوتا عدل و انصاف کے تیر برسا رہا ہے۔ لیکن اس تیر اندازی سے کون کون لوگ ہیں جو زخمی ہو رہے ہیں، ان کی زبوں حالی سے کیوپڈ کا کیا علاقہ؟ جناب چیف جسٹس کا فرمایا ہوا مستند بھی ہے اور اس پر عمل بھی ہو رہا ہے، عدل و انصاف کی یہی حکمرانی ہے جس کو پاکستان ایک عرصے سے ترس رہا تھا۔ مجھے معلوم نہیں جب میاں ثاقب نثار 19جنوری 2019ء کو ریٹائر ہو جائیں گے تو ان کے بعد ان کے جانشین اپنے پیشرو کے راستے پر گامزن رہ سکیں گے یا آر آر (ریکائل لیس رائفل) کی طرح فائر کرکے واپس چیمبر (رائفل کے چیمبر)میں بیٹھ جائیں گے!

دو تین روز پہلے میاں ثاقب نثار صاحب نے حکومتِ وقت کے بارے میں جو ریمارکس دیئے وہ چشم کشا تھے۔ فرمایا : ’’حکومت کے پاس نہ اہلیت ہے ، نہ صلاحیت اور نہ کوئی منصوبہ بندی‘‘۔۔۔ یہ ریمارکس انہوں نے بنی گالا تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران دیئے۔۔۔ میرے خیال میں چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دے کر حکومتی ہاتھی کو بیدار کرنے کے لئے ایک آنکس رسید کردیا ہے۔۔۔ دیکھیں اب یہ فیلِ بے زنجیر جاگتا ہے یا سویا رہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ خدا نے ان اہم ترین اور نازک ترین ایام میں ثاقب نثار جیسا چیف جسٹس پاکستان کو دے کرپاکستانی عوام پر ایک عظیم احسان کیا ہے۔ سنا ہے نئی حکومت 100دنوں کی اپنی کارکردگی کا وائٹ پیپر جاری کرنے والی ہے۔ اگرچہ تین ماہ کی مدت کوئی ایسی بڑی مدت نہیں ہوتی کہ کسی حکومت کی کارکردگی کا بیرومیٹر بن سکے لیکن اگر کوئی معمار کسی دیوار کی تعمیر میں پہلی اینٹ کج رکھ دیتا ہے تو تاثر یا وہ دیوارکج ہی رہتی اور اوپر اٹھتی چلی جاتی ہے۔۔۔ چنانچہ لازم ہے کہ روزِ اول سے صراطِ مستقیم پر گام زنی اختیار کی جائے۔عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے اور ریمارکس اسی صراط مستقیم کی سمت متعین کررہے ہیں۔

جس طرح جنگ و جدال کی دنیا میں ہائی برڈ وارفیئر کا مفہوم گرم جنگ کے مفہوم سے بالکل مختلف ہے، اسی طرح عدل و انصاف کی دنیا میں بھی ’’ہائی برڈ عدل‘‘ کے معانی چند در چند ہیں۔ مجرم کو حوالہ ء زنداں کرنے یا دار پر کھینچ دینے کی آپشن تو صدیوں سے ہماری عدلیہ کے پاس موجود ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اس ’’گرم انصاف‘‘ کی صدہا برس کی پریکٹس بھی پاکستانی معاشرے کو سدھار نہیں سکی۔ لیکن ایک بات کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ ’’ہائی برڈ عدل و انصاف‘‘ کا یہ کلچر پاکستان کے لئے تبھی سو د مند ہوگا جب اس کو تدریحاً لاگو کیا جائے۔۔۔ ملٹری ہسٹری بتاتی ہے کہ ناگہانی اٹیک کئی بار معکوس نتائج دکھاتا ہے!

مزید : رائے /کالم