ملک بھر میں جاری 90فیصد سے زائد ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ، لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا

ملک بھر میں جاری 90فیصد سے زائد ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ، لاگت میں کئی ...

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں جاری90 فیصد سے زائد منصو بے تاخیر کا شکار ہیں جس کے باعث لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، ایڈیشنل سیکرٹری منصوبہ بندی علی رضا نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا پشاور میٹرومنصوبہ27ارب سے شروع ہوا تھا لیکن اس کی لاگت66ارب تک پہنچ چکی ہے، گزشتہ دور حکومت میں لیے قرضوں میں سے24فیصد قرضے توانائی کے منصوبوں پر خرچ ہوئے، قبائلی علاقوں کیلئے پی ایس ڈی پی میں کل مختص رقم107.3ارب روپے ہے، جو لا ئی تا ستمبر پی ایس ڈی پی میں اداروں کیلئے675ارب روپے مختص کیے گئے جس میں سے ابھی تک94ارب روپے جاری کیے ہیں، کمیٹی ارکان نے کہا گوادر بزنس پلان کیلئے10کے اندر25ارب روپے جاری کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن پلان 14سال بعد بھی مکمل نہیں کیا جاسکا، گوادر ماسٹر پلان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہورہا،گوادر کے حوالے سے قائم سٹیئرنگ کمیٹی میں بلوچستان اور گوادرکے مقامی لوگوں کو نما ئند گی دی جائے،کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تمام ممالک سے قرضوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصو بہ بندی کا اجلاس سینیٹر آغا شاہزیب خان درانی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر زاکہدہ بابر، عثمان خا ن کاکڑ، گیان چند، ایڈیشنل اور جوائنٹ سیکریٹریز پلاننگ و وزارت منصوبہ بندی کے دیگر حکام نے شرکت کی۔کمیٹی اجلاس سے وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار اور سیکرٹری منصوبہ بندی کی عدم شرکت پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا حکومتی وزرا سینیٹ اجلاسوں میں شرکت نہ کر کے اپنی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کمیٹی ارکان نے کہا ایم8منصوبہ1997میں شروع کیا گیا لیکن 21سال گزرنے کے بعد بھی مکمل نہیں کیا جا سکاجس سے اس کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔گوادر بزنس پلان کیلئے مختص15ارب روپے ابھی تک جاری نہیں کیے جا سکے۔وزارت منصوبہ بندی حکام نے کمیٹی کو جواب دیتے ہوئے بتایا وفاق نے منصوبوں کی تکمیل کیلئے صرف فنڈز جاری کرنے تھے اس کے آگے منصوبوں پر عملدرآمد کرنا بلوچستان حکومت کا کام تھا،گوادر منصوبوں کی تکمیل اداروں کی ترجیح ہے لیکن اس ضمن میں فندز وزارت خزانہ نے جاری کرنے ہیں۔ارکان نے کہا 90فیصد منصوبوں میں تاخیر کے ذمہ دار ادارے ہیں۔پاکستان میں منصوبوں کیلئے آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، ایشین ڈویلپمنٹ بنک سمیت دیگر ممالک سے قرضے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اٹلی سے پاکستان نے 17 کروڑڈالر قرض لیا ہوا ہے۔ گوادر ماسٹر پلان کی وجہ سے وہاں گھروں کی تعمیر پر بھی پابندی عائد ہے۔ عوام کو دانستہ طور پر مشکلات کا شکار کیا گیا ہے۔کمیٹی کو تایا گیا کہ قبائلی علاقوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں پی ایس ڈی پی میں سال2018-19کیلئے24.5ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں سے4.877ارب روپے اب تک جاری کیے جا چکے ہیں۔قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے بنائے دس سالہ پلان کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں اس سال کیلئے10ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔

منصوبے تاخیر

مزید : صفحہ آخر