نجی میڈیکل یو نیورسٹی کی طالبہ آئس کا نشہ کر نے سے موت کا شکار

نجی میڈیکل یو نیورسٹی کی طالبہ آئس کا نشہ کر نے سے موت کا شکار

لاہور(کرائم رپورٹر)جوہر ٹاؤن کے علاقہ میں ایک نجی یو نیورسٹی کی میڈ یکل کی جواں سال طالبہ آئس کا جان لیوا نشہ کر نے سے موت کے منہ میں چلی گئی ہے، مر نیوالی طالبہ کے بازؤوں پر انجکشن کے نشا نات پا ئے گئے ہیں۔ طالبہ کی لاش ایک نجی ہوسٹل سے برآمد ہو ئی ہے ۔ پو لیس نے لاش قبضہ میں لے کر مردہ خانے بھجوائی جہاں پوسٹمارٹم رپورٹ اور مقامی طالبہ کے بیانات سے آئس سے موت کا انکشاف ہوا۔ ا فسوسناک امر یہ ہے عدالت عظمی کے حکم کے باوجود پو لیس تعلیمی اداروں سے نشے کا خاتمہ نہیں کر سکی اور درج ہو نیوالے مقد مات کاغذی کا رروائی تک محدود رہے۔تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی روزینہ لاہور میں ایک مقامی یو نیورسٹی میں میڈیکل کی تعلیم حا صل کر رہی تھی اور جوہر ٹاؤن کے نجی ہوسٹل میں رہائش پذیر تھی۔ اس کی روم میٹ گھر سے واپس آئی تو اس نے روزینہ کو مردہ حالت میں پا کر پولیس کو آگاہ کیا، پولیس نے فوری طورپر لا ش قبضے میں لیکر مردہ خا نے بھجوائی،تحقیقاتی ٹیموں نے ہوسٹل کے مالک اور ساتھ کمروں میں موجود لڑکیوں کے بیانات قلمبندکیے تو معلوم ہوا مر نیوالی طالبہ جان لیوا آئس کے نشے میں مبتلا تھی،تاہم انہوں نے پو سٹمارٹم کروایا تو ڈا کٹر و ں نے بھی اس با ت کی تصدیق کر دی کہ مو ت نشے کی زیا دتی کے با عث ہو ئی ہے۔ پو لیس نے طالبہ کی لا ش ضروری کا رروائی کے بعد ان کے ورثاء کے حوالے کر دی جو اسے لیکر سیالکوٹ چلے گئے جہاں اس کی آج تد فین کی جا ئے گی ۔واضح رہے چیف جسٹس پا کستان نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہو ئے استعمال کے پیش نظر نوٹس لے رکھا ہے جبکہ عدالت عظمی کے احکامات کے بعد لاہور پو لیس نے روز انہ کی بنیاد پر شہر بھر میں جھوٹے مقد مے درج کر نے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور سپر یم کورٹ میں جورپورٹ پیش کی گئی ہے وہ سب اچھا کی ہے ۔لا ہور پو لیس نے اس سلسلے میں اب تک سینکڑوں مقد مات منشیات فروشوں کیخلاف درج کر دیے ہیں،جن میں سے بہت سے مقد مات ایسے بھی ہیں جو یہ کام عرصہ دراز سے چھوڑ چکے ہیں ۔پو لیس ذرائع کے مطابق افسران بالا کی طرف سے شہر بھر کے تمام آپر یشن تھانیداروں کو روزانہ کی بنیاد پر مقد مہ درج کر نے کا حکم ہے ۔سبقت لے جانے کے چکر میں تھانیدار روزانہ متعدد بے گناہ شہریوں کیخلاف بھی مقد مے درج کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں تعلیمی اداروں میں اس لعنت کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔

طالبہ موت

مزید : صفحہ آخر