آسیہ کیس کافیصلہ بین الاقوامی میں دیا گیا ، ملین مارچ تحریک جاری رہے گی : فضل الرحمن

آسیہ کیس کافیصلہ بین الاقوامی میں دیا گیا ، ملین مارچ تحریک جاری رہے گی : فضل ...

لاہور (نمائندہ خصوصی،آن لائن) متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے 25 نومبر کو ملین مارچ کا اگلا پڑاؤ سکھر میں منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت ایک تحریک ہے۔ جو جاری رہے گی۔ گزشتہ روز فیصل چوک مال روڈ پر منعقدہ ملین مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں بھی ہر سطح پر احتجاج کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت رسول پاکؐ کی محبت کو دلوں سے نہیں نکال سکتی۔ قانون کے الفاظ میں آپ کوئی بھی جواز تلاش کر لیں۔ آپ نے آسیہ کیس سے متعلق فیصلہ بین الاقوامی دباؤ میں آ کر دیا ہے جسے امریکہ سمیت تمام یورپین ممالک میں سراہا گیا اور جشن منایا گیا۔ یورپی یونین نے آسیہ کیس کے فیصلے کو پاکستان کی اقتصادی امداد سے مشروط کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران ہماری نئی نسل کو سبز باغ دکھا کر پاکستان کی نظریاتی شناخت کو ختم کر رہے ہیں، آج پارلیمنٹ کے باہر اور پارلیمنٹ کے اندر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان کے لئے اسرائیل کو تسلیم کرنا بڑا نازک مسئلہ ہے۔ اگر پاکستانی حکومت نے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلی تسلط کو تسلیم کر لیا تو کل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کو کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے مگر ان ممالک کے عوام نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے ملین مارچ میں بلٹ پروف ڈائس سے ہٹ کر خطاب کیا ۔ان کے علاوہ ملین مارچ نے و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ملین مارچ کے شرکاء سے فرید پراچہ، شاہ اویس نورانی، مولانا عبدالمالک، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، میاں مقصود ، حافظ محمد ادریس ، علامہ ساجد میر، عبدالغفورحیدری، اکرم درانی ،مولانا اللہ وسایا ، رانا شفیق پسروری ، مولانا امجد خان، اویس نورانی ، امیر جماعت اسلامی لاہو ر ذکر اللہ مجاہد ، مولانا امیر حمزہ ، راشد محمو د و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان حافظ ساجد انور ، امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب امیر العظیم اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف بھی موجود تھے ۔

فضل الرحمن

مزید : صفحہ اول