اورنج لائن منصوبہ کیس ، سپریم کورٹ کا 5روزمیں ٹھیکیدار وں کو رقم کی ادائیگی کا حکم

اورنج لائن منصوبہ کیس ، سپریم کورٹ کا 5روزمیں ٹھیکیدار وں کو رقم کی ادائیگی ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) سپریم کورٹ نے اورنج لائن منصوبہ کے ٹھیکیداروں کو رقم کی ادائیگی 5روز میں کرنے کا حکم دیدیا ،اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ کیلئے فنڈز کے اجرا کا کام مکمل کرنے کیلئے 5روز کی ڈیڈلائن دیدی، پراجیکٹ انچارج سبطین علیم کے کنٹریکٹ میں توسیع کیلئے حکومت سے رائے طلب کرلی۔ سپریم کورٹ میں اورنج لائن منصوبہ کیس کی سماعت ہوئی ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے اورنج لائن ٹرین پر اجیکٹ کا معاملہ ٹیک اپ کر لیا ہے ؟ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کسی کو ہراساں نہیں کیا جا رہا، نیب نے صرف متعلقہ افراد کو ہی طلب کیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا زیڈ کے بی کمپنی کو 72ارب روپے کے ٹھیکے دیئے گئے، کیا منصوبہ عدالتی احکامات کے مطابق چل رہا ہے ؟ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا معلومات لینا پڑیں گی۔کنسٹرکشن کمپنی کے وکیل شاہد حامد نے شکایت کی کہ مارچ سے ادائیگیاں نہیں کی جا رہی۔ پراجیکٹ انچارج سبطین علیم نے عدالت کو بتایا 10 ارب روپے کا ایشو تھا جو ایل ڈی اے کو جاری ہو چکے ہیں۔ ڈی جی ایل ڈی اے نے یقین دہانی کرائی کہ ایک ہفتے میں بورڈ میٹنگ کر کے فنڈز جاری کر دیں گے۔عدالت نے حکم دیا کہ 5روز میں رقم کی ادائیگی سے متعلق تمام عمل مکمل کیا جائے، کیس کی مزید سماعت سوموار تک ملتوی کر دی گئی۔سپریم کورٹ نے تھر کول گیسی فکیشن منصوبہ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھ دسمبر کو رپورٹ جمع کرائیں اس کے بعد وقت نہیں ملے گا۔قبل ازیں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ حتمی رپورٹ جمع کرانے کیلئے وقت دیں۔ ثمرمبارک مند اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نہیں آئی جبکہ آڈیٹر جنرل نے چار دسمبر تک وقت مانگا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ متروکہ وقف املاک کے معاملات گڑ بڑ ہورہے ہیں لہٰذامتروکہ وقف املاک کا چیئرمین رمیش کمار کو لگا دیں ۔ تحریک لبیک پاکستان کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن منسوخی کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی ۔ بیرسٹر مسرور شاہ کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحریک لبیک ملکی سالمیت کے خلاف کام کررہی ہے ۔ خادم رضوی اور پیر افضل قادری سپریم کورٹ اور معزز ججز کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلایا جائے ۔ درخواست میں وفاق ، الیکشن کمیشن ، تحریک لبیک، مولانا خادم رضوی اور پیر افضل قادری کو فریق بنایا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق معاملے میں ماہر ماحولیات کو حتمی رپورٹ پیش کرنے کیلئے وقت دیدیا۔ سپریم کورٹ میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق معاملے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ ماہر ماحولیات نے بتایا کہ ماحولیاتی مسائل یک دم حل نہیں ہوسکتے۔ماحولیات کے تحفظ کیلئے زک زیگ ٹیکنالوجی متعارف کرارہے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی کیلئے گورنر سٹیٹ بنک سے بھی بات ہوئی ہے۔ رواں سال ماحولیاتی آلودگی اور پنجاب میں سموگ میں کمی واقع ہوگی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ لوگوں کا بے روزگار ہونا اور کاروبار بند ہوجانا افسوسناک ہے۔ ڈی جی تحفظ ماحولیات نے بتایا کہ اسلام آباد کے صنعتی زون کی آلودگی تعین شدہ حد میں ہے۔ ماہر ماحولیات نے بتایا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہسپتالوں کا فضلہ بھی ہے۔ عدالت نے ماہر ماحولیات کو حتمی رپورٹ کرنے کیلئے وقت دے دیا۔ عدالت نے کہا کیس کی سماعت پندرہ دن بعد سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے پی آئی اے پائلٹس کی پنشن سے متعلق کیس میں ڈائریکٹر فنانس کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ پی آئی اے پائلٹس کی پنشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ انتظامی آرڈر کا بھی جائزہ لیں گے، وکیل نے بتایا کہ پنشن کیلئے ٹرسٹ فنڈ میں جمع ہو رہے ہیں، پائلٹس کو پنشن ٹرسٹ فنڈز سے دی جا رہی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ٹرسٹ فنڈ میں اتنی رقم نہ ہو تو پنشن کیسے بڑھ سکتی ہے؟ وکیل نے بتایا کہ پائلٹس کی پنشن کو کم کر کے منجمد کر دیا گیا، معلوم نہیں فنڈز میں کتنی رقم موجود ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ریٹائرڈ ہونے والے پائلٹس پنشن کے اہل ہیں، ٹرسٹ فنڈز میں پیسہ کم ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ عدالت نے ڈائریکٹر فنانس پائلٹس کی پنشن کے تعین کے ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ عدالت نے سماعت 5دسمبر تک ملتوی کر دی۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ اول