خواتین کو با اختیار بنانے کی پالیسی 2015 میں بنائی گئی تھی،نیلم طورو

خواتین کو با اختیار بنانے کی پالیسی 2015 میں بنائی گئی تھی،نیلم طورو

پشاور(سٹی رپورٹر)خواتین کی حیثیت پر خیبر پختونخواہ کمیشن نے صوبائی حکومت کے محکموں کے اندر خواتین بااختیارہ پالیسی کے فریم ورک کے عمل کی ترقی کو ٹریک کرنے کے لئے ایک اور مشاورت سیشن کا اہتمام کیا۔ان خیالا ت کا اظہار خیبر پختو نخوا وومن کمیشن کی چیئر پرسن نیلم طورو نے ایک سیشن کے دوران کیا ۔اس موقع پر خیبر پختونخوا کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، لیبر ڈیپارٹمنٹ، قانون اور منصوبہ بندی اور ترقی محکموں کے اہلکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔خیبر پختو نخوا وومن کمیشن کی چیئر پرسن نیلم طورو نے کہا ہے کہ خواتین کو با اختیار بنانے کی پالیسی 2015 میں بنائی گئی تھی اور پالیسی فریم ورک اج مختلف سرکاری محکموں کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ پالیسی میں کچھ خامیاں اور کمی تھی جس میں بہتری لائی جائے گی۔ انہو ں نے کہا کہ مختلف قوانین کے حوالے سے خواتین میں اگاہی کی ضرورت ہے لیکن خواتین سے متعلق قوانین سست روی کا شکار ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ کوہستان اور تور غر کے علاوہ تمام اضلاع میں وومن کمیشن کی کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں کم عمری کی شادی ،تیزاب اور جلانے سے متعلق بل عنقریب اسمبلی میں لانے کی کوشش کریں گے۔اور خواتین کے حقوق سے متعلق قوانین کی تعداد بہت کم ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر