اسلام کی اشاعت میں حضرت میاں میرؒ کا کردار

اسلام کی اشاعت میں حضرت میاں میرؒ کا کردار

اس مادر گیتی پر جب سے حضرت انسان نے قدم رکھا، انسانیت کی رہنمائی کے لئے رجال عظیم کی ضرورت و اہمیت عیاں ہوئی۔ سیدنا حضرت آدمؑ سے سلسلہ نبوت کا آغاز ہوا اور سیدالمرسلین حضور نبی کریمؐ پر اختتام پذیر ہوا اور انبیائے کرام کی تعلیمات مقدسہ کے وارث اولیائے امت اور علمائے ربانی کو قرار دیا گیا۔ صحابۂ کرامؓ، اہل بیت، تابعین، تبع تابعین، ائمہ دین و مجتہدین کے بعد اولیائے امت اور علمائے کرام کے ذریعے پیغام الہٰی کی ترویج واشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ یہی اولیائے امت جہاں دن کے اجالوں میں مسند تدریس و ارشاد پر فائز ہوتے، وہاں شب کی تاریکیوں میں بارگاہِ خداوندی میں سربسجود ہوتے۔شیخ الاسلام حضرت میاں میرؒ بھی ایسے ہی اولیائے امت کی صف میں خصوصی امتیاز رکھتے ہیں۔ آپ اپنے وقت کے معروف عالم دین، صاحب کشف و کرامات صوفی حضرت قاضی سائیں اللہ دتہؒ کے گھر صوبہ سندھ کے شہر سیوستان میں 957ھ بمطابق 1550ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت کے بعد لاہور آکر یہاں کے مشہور علمائے کرام سے کسب فیض کیا، ان ممتاز دینی شخصیات میں حضرت مولانا اسد اللہؒ ، مولانا نعمت اللہ، حضرت مفتی عبدالسلامؒ جیسی قد آور علمی شخصیات شامل ہیں۔ آپ نے قرآن مجید حفظ کیا اور تفسیر، حدیث، فقہ، صرف و نحو، تاریخ و تصوف وغیرہ پر عبور حاصل کرکے امتیازی لحاظ سے دستار فضیلت حاصل کی ۔ نیز مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سر ہندیؒ کے والد گرامی حضرت مخدوم عبدالواحدؒ سے خصوصی فیض حاصل کیا۔ آپ کی تعلیمی فراغت کے بعد برصغیر میں آپ کے صوفیانہ طرز عمل کا چرچا ہونے لگا اور لوگوں کے قلوب دولت اسلام سے فیض یاب ہونے لگے۔ اس موقع پر شاہ جہان نے کہا تھا کہ میں نے صرف دو صوفی دیکھے ہیں، جن پر امت مسلمہ کو ناز ہے، ان میں ایک میاں میرؒ اور دوسرے حضرت مولانا فضل اللہ بہاریؒ ہیں۔

حضرت میاں میرؒ کی تبلیغ دین اور تعلیمات کتاب و سنت پر مبنی کاوشوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں شیخ الاسلام کے لقب سے نوازا گیا۔ آپ نے سلسلہ قادریہ کی روحانی شخصیت اور تاجدارِ تصوف حضرت خضر سیوستانی سے روحانی فیوض و برکات حاصل کئے اور مرید ہوئے۔ آپ کی شب وروز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر مبنی دینی محنت کی بدولت اللہ وحدۂ لاشریک کے فضل و عنایات سے آپ سلسلہ قادریہ کے امام وقت کہلائے،یہی وجہ ہے کہ شیخ الاسلام حضرت میاں میرؒ کی دینی محنت کی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوئے۔ آپ کے حلقہ مریدین میں امراء بڑے بڑے مدرس، مفتی، خطباء اور مفکرین و مفسرین نظر آتے ہیں، جو کہ آپ کی کتاب اللہ و سنت رسول سے مزید جدوجہد کا ثمر تھا۔ آپ کی دینی اور روحانی لگن اور جذبہ دین کی بدولت غیر مسلم بھی آپ کے افکار و نظریات سے متاثر ہوئے۔ میاں میرؒ صلح کل بزرگ تھے، چنانچہ سکھوں کے پانچویں گروارجن جی نے ان سے ہر مند امر تسر(دربار صاحب) کا سنگِ بنیاد رکھوایا۔ آپ نے اپنے عمل اور علم سے روحانیت کی وہ قندیلِ روشن کی، جس کی کرنوں سے دور دورتک اسلام کی روشنی پھیلی۔ آپ کی زندگی خدا کے احکام اور سید الانبیاؐ کے اسوۂ حسنہ کی عملی تصویر تھی۔ آپ کی خدا داد ذہانت علمی کا یہ عالم تھا کہ مشکل سے مشکل مسئلہ چشم زدن میں حل فرما دیتے۔آپ کے خلفاء میں اپنے دور کے صالحین، اولیاء متقین اور بلند پایہ عملی شخصیات کے ساتھ ساتھ انتہائی عبادت گزار، شب بیدار اور خوف الہٰی کے حامل افراد شامل تھے۔ آپ تمام عمر بندگان خدا کو علم دین حاصل کرنے اور اتباع شریعت کرنے کی تعلیم و تلقین فرماتے رہے۔آپ نے اپنی زبان اور وقت کو دین کے لئے وقف فرما دیا اور صرف غرباء اور فقراء ہی کو نصیحت نہیں فرمائی، بلکہ امراء وسلاطین کو بھی عدل و انصاف اور اتباع شریعت کا حکم دیتے رہے اور اپنے خلفاء کو بھی ہمیشہ اس مسند جلیلہ کا اہل بننے کی تاکید فرماتے۔ آپ مریدوں کو عیب پوشی، رحم دلی، شفقت، مہربانی، سچائی، حق گوئی، نیک باتوں کا حکم دینے، بدی سے بچاؤ، غریبوں کو کھانا کھلانے، ضروریات دین کا علم حاصل کرنے اور سخاوت وجواں مردی اختیار کرنے کا حکم فرماتے، آپ اپنے رفقاء کو فرماتے کہ کسی کے سر کے ایک بال پر غلاظت ہے تو بہتر ہوگا کہ وہ تمام بدن کا غسل کرے، کیونکہ اللہ وحدۂ لاشریک پاک ہے اور پاکیزہ چیزوں کو قبول کرتا ہے۔ آپؒ نے انسانیت کوجہنم سے بچانے کے لئے آخری سانس تک انتھک جدوجہد کی اور کسی خلاف شرعی امر پر کبھی سکوت نہیں فرمایا۔

آخری دنوں میں بیماری کی وجہ سے نہایت کمزور ہوگئے تھے۔ آپ نے 7ربیع الاول 1045ھ بمطابق 1638ء بروز منگل اپنے حجرے میں رحلت فرمائی اور اپنے خالق حقیقی سے جاملے، اگرچہ بیماری کی وجہ سے آپ کا بدن بالکل کمزور پڑ گیا، لیکن قوتِ روحانی میں اس قدر زور تھا کہ نماز خوب اعتدال، قیام ور کوع سجود سے پڑھتے۔ حضرت میاں میرؒ جیسے اولیائے امت نے برصغیر میں فروغ اسلام کے لئے انتھک محنت کی، لہٰذا ان سے حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ معاشرے میں ان کے عظیم مشن کو آگے بڑھایا جائے اور نیکی کے فروغ اور بدی کے تدارک میں اپنا مثبت کردار ادا کیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمات حضرت میاں میرؒ کے فروغ کے لئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ جدوجہد کی جائے، آپ کا عملی کردار مسلم امہ کے لئے مینارۂ نور ہے۔ آپ کی اسلام کے لئے گراں قدر جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔مفکر اسلام ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ جیسا عظیم انسان بھی نہایت عقیدت و محبت سے اپنے جذبات روحانی یوں پیش کرتا ہے:

حضرت شیخ میاں میرؒ ولی

ہر خفی از نور جان اُو جلی

بر طریق مصطفی محکم پئے

نغمہ عشق و محبت را نئے

تربتش ایماں خاک شہر ما

مشعل نور ہدایت بہر ما

ترجمہ1:۔حضرت شیخ میاں میرؒ وہ بزرگ تھے، جن کی روح کے نور سے معرفت حق کا ہر چھپا ہوا بھید روشن ہو جاتا تھا۔

2۔آپ نبی کریمﷺ کی سنت پر مضبوطی سے قائم تھے، آپؐ ایسی بانسری تھے جس میں سے عشق و محبت کے نغمے نکلتے تھے۔

ضرور پڑھیں: "ہم ایک ہیں"

3۔آپؒ کا مزار ہمارے شہر لاہور کی خاک کے لئے ایمان کا سرمایہ ہے اور ہمارے لئے نور ہدایت کی مشعل ہے۔

مزید : ایڈیشن 1