قومی مفاہمت کیوں نہیں؟

قومی مفاہمت کیوں نہیں؟
قومی مفاہمت کیوں نہیں؟

  



مَیں ذاتی تجربے اور تعلقات کے حوالے سے اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمن سیاست میں کچی گولیاں نہیں کھیلتے،اگرچہ ہر کھیل میں ہار جیت تو ہوتی ہے، دھرنے کے اختتام کو شکست جان لینا درست نہیں ہو گا،کیونکہ مولانا فضل الرحمن نے یہ فیصلہ بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا ہو گا اور اگر وہ اب تک اپنے موقف پر قائم ہیں تو اس کے پیچھے بھی کوئی ”حکمت“ ہو گی، ویسے جہاں تک میرا تعلق ہے تو مَیں ان سطور کے ذریعے ایک سے زیادہ بار یہ رائے دے چکا ہوں کہ اگر ملکی اور معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہے تو پھر یہاں قومی اتفاق رائے بھی لازم ہے، قومی اتفاق رائے سے میری مراد کبھی یہ نہیں رہی کہ آپ اپنا موقف ہی ترک کر دیں،مَیں نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ قومی مسائل پر قومی اتفاق رائے ضروری ہے اور پہلے اس سلسلے میں کم از کم متفقہ نکات طے ہونا چاہئیں اور اس کے بعد سیاست میں پارلیمینٹ کو اولیت دینا ہو گی اور ساری بحث اور بڑے فیصلے بھی اسی فورم پر کرنا ہوں گے کہ جمہوریت کی بنیاد یہی ہے، کیونکہ یہ فورم عوام کی رائے کا مظہر ہے، چاہے اس کے بارے میں کوئی بھی اعتراض ہو، بدقسمتی یہ ہے کہ یہ میری خواہش ہی رہی،لیکن ملک میں ایسا ہو نہیں سکا اور محاذ آرائی زیادہ زور پکڑ گئی اور یہ کسی طور پر بھی ملک اور عوام کے لئے مفید نہیں۔

اب میری نگاہیں چودھری برادران کی طرف ہیں کہ وہ خود ایسے مزاج کے حامل ہیں،جو صلح جویانہ ہے، اب چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی نے نہ صرف مولانا فضل الرحمن سے مصالحت کے لئے بات چیت شروع کر رکھی ہے،بلکہ انہوں نے محمد نواز شریف کی صحت کے حوالے سے بھی بڑی بات کی ہے۔ان کی کوشش جاری ہے،لیکن نتیجہ برآمد نہیں ہوا، وہ بھی مایوس نہیں ہوئے اور چلتے چلے جا رہے ہیں، سوال مولانا یا مسلم لیگ(ن) کا نہیں، اب تو واضح ہو گیا ہے کہ یہاں ”اولڈ اور نیو“ کا مسئلہ بن چکا، جتنے پرانے پارلیمینٹرین اور سیاست دان ہیں، مفاہمت اور رعائتوں کے قائل ہیں اور چاہتے ہیں کہ کاروبارِ مملکت ہی نہیں، پارلیمینٹ بھی چلتی رہے کہ عوام کے سامنے جواب دہ ہیں، اجلاس ہوں گے تو وہ اپنے مسائل بیان کر سکیں گے اور ضرورت کے مطابق کام بھی کرا سکیں گے، اب ذرا غور فرمائیں کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے مسئلے پر خود تحریک انصاف میں کیا تقسیم نظر آئی ہے، جتنے پرانے(انتخابی عمل شروع ہونے سے پہلے والے نوجوان) نصافیے ہیں وہ سب ایک پیر پر کھڑے ہو گئے اور وزیراعظم عمران خان کو اپنے پہلے ٹویٹ کے برعکس فیصلہ لینا پڑا اور انہوں نے ای سی ایل کے معاملے میں ان کی مان لی، اس کے بعد ایک نیا تنازع شروع ہو چکا ہے۔ ادھر مولانا فضل الرحمن اپنے منصوبہ نمبر دو، یعنی پلان بی پر چلے گئے اور چودھری برادران اپنی سی کوشش میں مصروف ہیں،اگر مجھے یاسیت کا شکار نہ کہیں تو مجھے یقین ہے کہ ”انصافی عقاب“ دھرنا ختم ہونے پر اتنے خوش اور مطمئن ہیں کہ وہ سب کچھ بھول گئے ان کو یہ بھی یاد نہیں آ رہا کہ چودھری صاحبان کی اپنی ایک اہمیت ہے اور وہ بعض امور میں فیصلہ کن کردار بھی ادا کر سکتے ہیں اور پھر اگر آسمانی اشارہ ہو گیا تو ایم کیو ایم کو یہ کہہ کر جاتے ہوئے دیر نہیں لگے گی کہ ”ہم سے کئے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے“ یہ ان کی تاریخ ہے۔

ان مسائل کو سوچ بچار کے لئے یہیں چھوڑتے ہیں اور ایک دوسری حقیقت کی بات کرتے ہیں، جسے بلاوجہ نظر انداز کیا جا رہا ہے اور وہ ہے پاکستان پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت، بات یہاں تک پہنچ گئی کہ گورنر عمران اسماعیل احساسِ برتری میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو دعوت دیتے ہیں، آؤ مل کر کام کریں۔ مراد علی شاہ کا ترت جواب ہے وفاقی حکومت سندھ حکومت کو نظرانداز ہی نہیں کر رہی، بلکہ18ویں ترمیم کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے،انہوں نے نیب آرڈیننس میں آرڈیننس ہی کے ذریعے ترمیم پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ وہ اسے عدالت عالیہ میں چیلنج کریں گے۔ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ وزیراعظم جب بھی کراچی یا سندھ آئے ان کے پروگرام میں ان(مراد) کا نام نہیں ہوتا، حالانکہ وہ وزیراعظم کی آمد پر ان کا استقبال کرتے رہے ہیں، اس کا جواب گورنر عمران اسماعیل نے یہ دیا وہ (وزیراعلیٰ) وقت لے کر وزیراعظم سے مل سکتے ہیں،یہ صورتِ حال اس سندھ کی ہے، جس میں لاڑکانہ کی نشست پی ایس11 پر ضمنی الیکشن کے نتیجے کے بعد بھٹو کو ہی مردہ قرار د کر طعنہ زنی کی گئی۔ بات کرنے والے بھول گئے یہ نشست ڈاکٹر اشرف عباسی کے پوتے نے جیتی اور اثاثے ظاہر نہ کرنے کے الزام میں نشست کھو بیٹھے،دوبارہ ضمنی انتخاب بھی انہی نے جیتا، یہاں یہ بات یاد رہہے کہ عباسی خاندان پیپلزپارٹی کا بنیادی رکن رہا، ان کے افراد جماعتی عہدوں پر رہے۔ ڈاکٹر اشرف عباسی خود بھٹو دور میں قومی اسمبلی کی سپیکر تھیں، اور ان کے صاحبزادے ڈاکٹر صفدر عباسی اور ان کی اہلیہ بیگم ناہید عباسی اس گاڑی میں سوار تھے، جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو لیاقت باغ سے روانہ ہو کر شہید ہوئی تھیں، اور ناہید خان تو محترمہ کی پرسنل/ پولیٹیکل سیکرٹری رہیں، ناراضی کے باعث یہ خاندان جماعت سے کٹ گیا تھا۔ یوں بھی ضمنی انتخاب میں عباسی خاندان کے چشم و چراغ کو جی ڈی اے، تحریک انصاف اور خصوصاً جمعیت علمائے اسلام(ف) کی مکمل حمایت حاصل تھی، حالانکہ اسلام آباد کے احتجاج میں پیپلزپارٹی نے مولانا کی حمایت کی اور بلاول بھٹو زرداری نے خطاب بھی کیا۔پھر یہ حضرات اس امر کو بھی فراموش کر گئے ہیں کہ دادو والا ضمنی انتخاب پیپلزپارٹی نے کتنے فرق سے جیتا اور یہ واضح ہوا کہ اندرون سندھ آج بھی پیپلزپارٹی کا مقابلہ مشکل تر ہے۔

یہ واضح صورتِ حال ہے جو مَیں نے اپنے تجربے کی بناء پر تحریر کی اور صرف اِس لئے کہ حقائق سے روگردانی نہ کی جائے، اور یہ بات بھی فراموش نہ کی جائے کہ اس وقت معاشی ہی نہیں، سیاسی حالات بھی خراب ہیں اور بیرونی خطرات نہ صرف جوں کے توں ہیں، بلکہ اور بھی بڑھ گئے، ہمسائے بھارت اور افغانستان مخاصمت کی پالیسی پر ہیں، شمالی سرحد کے پار بھارتی اثرات واضح طور پر ظاہر ہو رہے ہیں، ہم اس خوش فہمی میں ہیں کہ امریکہ کو ہماری ضرورت ہے اور یہ بھول جاتے ہیں، طالبان و خود مختار ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہوئے بھی ان کو اپنا مفاد عزیز ہے، وہ امریکہ کے ساتھ کوئی قابل قبول سمجھوتہ کر کے پاکستان کو بتا سکتے ہیں۔ براہ کرم حالات کا مکمل ادراک کریں اور معقول پالیسی سے کام لیں، قومی مفاہمت لازم ہے۔

مزید : رائے /کالم