کشمیرمیں کرفیو کے سو دن اور ہماری جمہوریت

کشمیرمیں کرفیو کے سو دن اور ہماری جمہوریت
کشمیرمیں کرفیو کے سو دن اور ہماری جمہوریت

  



جس مذہب کا یہ درس ہو کہ ظلم سہنا بھی ظالم کی حمایت ہے، اس کے ماننے والوں کا ظلم کو دیکھ کر چپ رہنا اور نظر پھیر لینا کس زمرے میں آئے گا؟ جس نے اذیت کاایک پل بھی گزارا ہو، وہی اس تکلیف کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ کرب و بلا کے سو دن کیا معنی رکھتے ہیں؟ کیا کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اسے زندگی کے شام و سحر نے کسی دکھ، تکلیف، کرب اور اذیت کا مزا نہیں چکھایا؟ کیا کسی ذی روح نے جدائی، موت، خوف، عدم تحفظ، حتیٰ کہ کسی جسمانی تکلیف کا کبھی سامنا نہیں کیا؟ پھر تکلیف کے ایک ایک لمحے کو جبر کی رات اورمحکومی کی اذیت کے ساتھ جمع کر کے سو دِنوں پر ضرب دیجئے۔ کشمیر پر اتنی خاموشی کیوں؟ الزام مولانا فضل الرحمن کے دھرنے پر دھرا گیا۔ مولانا کا دھرنا تو اسلام آباد میں تب بھی جاری تھا،جب یومِ اقبالؒ پر کرتا پورہ راہ داری کی تقریب ہوئی۔ راہداری کے افتتاح کی چمک دمک اور شوروغل کو دھرنا ماند نہیں کر پایا، مگر کشمیری مظلوموں کی آہ و بکا کو اس نے پس منظر میں پھینک دیا۔ واہ کیا منطق ہے؟ یہ دھرنا تو ٹیلی وژن سکرینوں پر، عمران خان کے اپنے دھرنے کے برعکس، نہ ہونے کے برابرجگہ لے رہا تھا،لیکن میڈیا سے کشمیر کیوں غائب تھا، کیا میڈیا کو فضل الرحمان نے منع کیا تھا؟ کرتارپور راہداری کے افتتاح کے روز پورا دن میڈیا نے سرحد پر رونما ہونے والے روح پرور مناظر دکھائے: سدھو، سنی دیول، من موہن سنگھ کی پگڑیوں کے رنگ، انیل مسرت کی سیلفی کی کوشش اور عمران خان کے سر کا رومال ”بریکنگ نیوز“‘بنتے رہے اور سکرین کی شوبھا بڑھاتے رہے۔ دھرنا ان مناظر کو تو نہ روک سکا، البتہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچا گیا؟جو چاہے آپ کا حسن ِ کرشمہ ساز کرے۔ سرکاری سطح پر یومِ اقبال بھی نہیں منایا گیا، بلکہ تمام چینلوں پریہ خبر سارا دن آخری نمبر پررہی۔اسی راہداری کے ہنگامے کی زد میں بارہ ربیع الاول کی تیاری کی خبریں بھی پس منظر میں چلی گئیں۔ آخر رکاوٹ کہاں تھی؟ اصل بات یہ ہے کہ حکومت نے شکر ادا کیا کہ دھرنے کے پیچھے چھپ کر رہنے میں ہی عافیت ہے، مبادا لوگ ان کی کشمیر کی بابت خاموشی کو سن اور سمجھ ہی نہ لیں۔ پھر اصل سوال یہ بھی نہیں کہ بات کیوں نہیں کی گئی، اصل سوال یہ ہے کہ جو بات کی گئی، کیا اس کی سمت درست تھی؟

کرتار پور راہداری کے افتتاح کے روز بھی وزیراعظم اور ہم نواؤں نے کشمیرمیں کرفیو پرہلکا پھلکا احتجاج کیا۔یہ بھی اصل مسئلے سے نظر ہٹانے کا ہی کامیاب حربہ تھا۔ کیا یہ اصل مسئلہ ہے؟ آخر سیدھی بات کیوں نہیں کی گئی۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا گیا اور بھارت میں ضم کر لیا گیا ہے۔ہماری حکومت شدید احتیاط فرما رہی ہے کہ کہیں منہ سے یہ نہ نکل جائے کہ ان قوانین میں بدلاؤ کا فیصلہ واپس لیا جائے۔اس بارے میں کھل کر بات کیوں نہیں کی جاتی کہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت بحال کی جائے۔ ہماری حکومت اس وقت صرف کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کر رہی ہے،بلکہ یہ بھی فرمایا گیا کہ جس دن کرفیو ہٹایا گیا تو دیکھنا کشمیری تمہارے ساتھ کیا کرتے ہیں،یعنی اب کشمیریوں کو یہ پیغام دے دیا گیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، خود ہی نمٹو!…… ویسے تو ہم اُمت کے ”کھڑپینچ“ بن کر سعودی عرب اور ایران کی ثالثی کروانے بھی چلے تھے۔ پھر کشمیر کے مسئلے پر دوسرے ممالک کو ساتھ شامل کرنے کی بجائے، صرف اپنے ہی لوگوں کو، اپنے ہی ٹی وی پر یہ تقاریر اور باتیں سنانے کا کیا مطلب ہے۔ انگریزی محاورے کے مطابق،جس دن بھارت نے یہ فیصلہ صادر کیا، اس دن سے ہم ”غلط درخت کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں“(barking up the wrong tree)اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تقریر سے آخر کب تک دل بہلائیں گے۔ المیہ یہ ہے کہ آپ کا وہ ووٹرجو اب تک آپ کے ساتھ کھڑا ہے، وہ تو صبح شام اس تقریر سے دِل بہلا سکتا ہے، کیونکہ اس کو جبراََ یہ فریضہ عنایت کیا جا چکا ہے، مگر باقی عوام کیا کریں؟ کشمیر سے زیادہ جگہ تو مشیر خزانہ کے ٹماٹر کے نرخ سترہ روپے کلو ہونے کے بیان نے لے لی۔پھر داکٹر فردوس عاشق اعوان کو محسوس ہوا کہ ان سے ان کی جگہ تو نہیں چھین لی گئی، سو فوری پریس کانفرنس کر کے مٹر کے نرخ پانچ روپے کلو بتا کر،انتہائی ذہانت سے چھوٹی سکرین پر اپنی جگہ واپس چھین لی۔ جہاں مسائل کا حل اس انداز میں سوچا جائے، وہاں کشمیر پر کسی سنجیدہ اقدام یا پریشانی کی توقع رکھنا عبث ہے۔

اس مسئلے پر احتجاج کا ایک طریقہ یہ بھی نکالا گیا تھاکہ ہر جمعہ کو پوری قوم آدھا گھنٹہ باہر کھڑے ہو کر دکھائے گی کہ ہم کشمیر کے ساتھ ہیں، پوری قوم نے کیا نکلنا تھا،جو چند لوگ مجبوری میں تصویریں بنوانے نکلے وہ بھی دو ہفتوں سے زیادہ اس عمل کو جاری نہ رکھ سکے۔ یہ کوئی سنجیدہ حکمت ِ عملی نہیں تھی۔ یہ بچوں جیسا ردِ عمل تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے سو دِن، ایک سو چھبیس دن کے دھرنے کا شغل میلہ نہیں۔ کشمیر کی متنازع سرحد کو مستقل کر دینے والے بھارت سے سفارتی مقابلے میں میدان مارنا،اس دھرنے کے مجاہدین کا میدان نہیں،جہاں موج میں آکر عمران خان نے معاہدہ توڑ کر ڈی چوک پر جگہ بنائی، پھر پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور پی ٹی وی پر حملہ ہوا۔آرٹیکل 370اور 35اے،کوئی بجلی کے بل نہیں کہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر جلا دیں۔ آپ کا اس چالاک مودی سے سامنا ہے، جس نے ایک دن ہی میں ابی نندن بھی واپس لے لیا تھا؟ مگر یہاں خان صاحب سول نافرمانی کے اعلان سے پریشر نہیں بڑھا سکتے کہ چین کے صدر کا دورہ ملتوی ہو جائے۔مودی چین کا صدر نہیں اور کرسی پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بھی نہیں جو چین کے صدر کو پھر بھی بلا لے اور سی پیک شروع کر دے۔ الغرض یہ سب، ”دھرنا پارٹی“ کے بس کا کام نہیں۔ وہ سرحد مستقل کر چکے ہیں اور اب ہمارے کشمیر پر نظر جمائے ہوئے ہیں اور یہاں ہم بھی ان کی دکھائی گئی راہ پر چلتے ہوئے، آرام سے یہ کہہ رہے ہیں کہ خبردار آزاد کشمیر اور گلگت کو دیکھا تو!! سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سب نے دیکھی۔ ایک بوڑھا شخص،جو اس جدوجہد میں ضعیف ہوا، زندان کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے، بھارت سرکار کو کہہ رہا ہے:”کون اجازت نہیں دے رہا، وہی لوگ جنہوں نے کہا تھا کہ یہ آزاد ہیں، کہیں بھی آ سکتے ہیں، جا سکتے ہیں۔دروازہ کھولو، کوئی اڑ کر تھوڑا ہی جائیں گے۔دروازہ کھولو، تمہاری جمہوریت کا جنازہ نکل رہا ہے“۔ سید علی گیلانی صاحب؟آپ کو نظر بندی میں، اس عمر میں یہ دروازہ کھٹکھٹانا پڑا، ہم شرمندہ ہیں۔تحریک ِ آزادیئ کشمیر کے مجاہدین، ہمیں آپ کے مرنے کی، زخم کھانے کی، عزتیں لٹنے کی خبریں ملتی ہیں،ہم شرمندہ ہیں،لیکن ہم کیا کریں۔ہمارے اپنے ہاتھ بندھے ہیں۔ ہم میں سے کچھ اپنے وجود، اَنا اور ضد کے قید خانے میں نظر بند، کسی دروازہ کھولنے والے کا انتظار کر رہے ہیں اور باقی بے بسی سے ہر روز اپنی جمہوریت کا جنازہ نکلتے دیکھ رہے ہیں۔ ہم سب یہ دروازے کھولیں گے تو ایک روز آپ کے لئے بھی کوئی دروازہ توڑ سکیں گے۔

مزید : رائے /کالم