سیاسی استحکام، دیگر نمائندوں کا تعاون لیا جائے

سیاسی استحکام، دیگر نمائندوں کا تعاون لیا جائے

  



پاکستان میں سیاسی استحکام کا امن و امان سے تسلسل، ہر انصاف پسند، محب ِ وطن اور مخلص مزاج شخص کی خواہش اور آرزو ہے، تاکہ ملک غربت، جہالت،پسماندگی،عوامی مسائل اور اُن کی شب و روز کی تکالیف و مشکلات سے جلد نجات حاصل کر سکے۔یہاں کے سیاسی اور مذہبی رہنما اپنی تقاریر، بیانات اور تحریروں میں کچھ ایسے ہی خیالات و اعلانات کا اظہار کرتے رہتے ہیں، لیکن کیا وجہ ہے کہ پھر بھی نتائج، عملی طور پر مثبت انداز کی بجائے متوقع اور مطلوبہ معیار اور عداد وشمار کے مطابق حاصل نہیں ہو پاتے۔آخر وطن ِ عزیز میں سیاسی استحکام کا طویل عرصے کے لئے قیام و قرار، مفقود اور ناکام رہنے کا رجحان، بدستور کیوں جاری ہے؟ حالانکہ اس سرزمین پر کم و بیش، کسی مثبت شعبہئ زندگی کے متعلق بھی، اہم معیار اور مطلوبہ تعداد میں باصلاحیت ماہرین اور فنی مہارت کے امل کارکنوں یا افراد کی کوئی کمی نہیں ہے، نیز یہاں مختلف قدرتی، دفاعی اور زرعی وسائل اور جفاکش افرادی قوت کی بھی کوئی کمیابی نہیں ہے، جن کی عدم دستیابی کو جواز بنا کر، ہم لوگ دیگر ترقی یافتہ ممالک سے اتنے پیچھے رہ جائیں کہ وہ جب چاہیں ہمیں اپنی مرضی اور پسند کی پالیسیوں اور ترجیحات پر عمل درآمد کے لئے مائل و راغب یا محکوم کرنے کے حربے اختیار کرتے رہیں۔یہ خطہ ئ ارض، ماشاء اللہ ایک ایٹمی قوت ہے،لیکن کیا وجہ ہے کہ تنازعہ کشمیر، گزشتہ 72سال سے حل طلب چلا آ رہا ہے، حالانکہ اتنی مدت قبل سے کچھ مختلف وقفوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اہل ِ کشمیر کو بغیر کسی بیرونی دباؤ اور اثرو رسوخ کے اپنا حق ِ خود ارادیت، اپنی آزاد مرضی سے استعمال کر کے پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کی کئی قراردادیں منظور کر رکھی ہیں۔ گزشتہ 5اگست 2019ء سے بھارتی حکومت نے، اس متنازعہ علاقے کی آئینی حیثیت کو تبدیل کر کے، اپنی علاقائی حکمرانی میں شامل کر لیا ہے،جو سرا سر اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی پاس شدہ قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی پر مبنی جارحانہ اور ظالمانہ کارروائی ہے۔

حکومت ِ پاکستان، اہل ِ وطن اور مقبوضہ کشمیر کے 90 لاکھ سے زائد لوگ،اس غلط کارروائی پر احتجاج، افسوس اور تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، حالانکہ بھارتی حکمران اقوام متحدہ کی ان قراردادوں اور فیصلوں سے انکار کا کوئی جواز نہیں رکھتے۔ پھر بھی بھارت اس حرکت کا مرتکب کیوں ہوا ہے؟جس کی بنا پر جنوبی ایشیا کے کم و بیش ایک ارب چالیس کروڑ عوام کی غربت اور جہالت کو دور کرنے کی کوششوں کو خاصا منفی دھچکا لگتے رہنے کے امکانات ختم ہونے کی بجائے، مزید بڑھ سکتے ہیں۔یوں پاکستان، بھارت اور جموں و کشمیر کے لوگ،اپنی قسمت کی بہتری کی امید و توقع رکھنے کے خواب دیکھنے میں مزید تاخیر و تساہل کے سے دوچار رہ سکتے ہیں۔

لہٰذا بڑی طاقتوں اور یو این سلامتی کونسل کے تمام پانچ مستقل اور دس عارضی رکن ممالک کو اس خطہ ئ ارض میں قیام امن کی خاطر اپنا بھرپور دباؤ اور اثرو رسوخ بھارت پر ڈال کر نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت کو، اہل ِ کشمیر کو مذکورہ بالا یو این قراردادوں پر جلد عملدرآمد کے لئے زور دینا چاہئے،کیونکہ ان دو ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان کسی جنگ کے حالات سے وسیع پیمانے پر انسانوں کی ہلاکت اور املاک کی تباہی ہو سکتی ہے، لہٰذا سب بڑی طاقتیں اس معاملے پر مزید کسی کوتاہی،چشم پوشی اور عدم توجہی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اپنا موثر اور مثبت کردار جلد ادا کریں۔وطن ِ عزیز میں سیاسی استحکام کے لئے جمہوری حکومت، دیگر بڑی جماعتوں کے اہم شعبوں کے ماہرین اور نمائندوں کو اپنی کابینہ میں بھی شامل کیا کرے،اس طرح باہمی مفاہمت اور سیاسی استحکام طویل مدت تک قائم رہ سکتا ہے اور ملک بھی ترقی کا راستہ اپنا سکتا ہے۔اس تجویز پر محب وطن اور قومی مفاد کی دعویدار بڑی،سیاسی جماعتیں اگر عالی ظرفی اور وسیع القلبی سے عمل کرنے پر آمادہ اور رضا مند ہو جائیں، تو وہ اپنی حکومتوں کی آئینی مدت بھی پُرامن اور بغیر کسی رکاوٹ انتشار اور خلفشار سے پوری کر سکتی ہیں۔ مثلاً اگر کسی وفاقی حکومت میں ایسے منتخب نمائندے موجودہ،جدید قومی اور بین الاقوامی حالات اور ضروریات کے مطابق، صحیح طور پر اہل ِ، تعلیم یافتہ، تجریہ کار، بہتر مقام و معیار اور دیانتدار دستیاب نہیں ہیں، تو وہ مطلوبہ نمائندے دیگر جماعتوں سے، اسی ایوان سے،لے کر انہیں وزراء اور مشیر وغیرہ بنا لیں، کیونکہ حکمران جماعتیں ٹیکنو کریٹس کو بھی تو غیر منتخب افراد میں سے ہی، بغیر کسی سیاسی وفاداری کے، تاحال بھی لے رہی ہیں۔ نیز سیاسی جماعتیں، حسب ِ معمول، عام یا ضمنی انتخابات، مروجہ آئین اور قانون کے تحت، اپنے نامزد امیدواروں کے ذریعے لڑیں،لیکن انتخابات بالکل آزادانہ اور منصفانہ کرائے جائیں۔ان میں کوئی گڑ بڑ، دھونس، دھاندلی اور ہیرا پھیری نہ کی جائے۔ کرپشن کے سدباب کے لئے احتسابی عمل بھی دیانت داری سے جاری رکھا جائے۔ دیگر قانونی تقاضے بھی آئین و انصاف سے نبھائے جائیں، بلکہ باہمی بدتمیزی اور بدزبانی سے مکمل گریز و پرہیز کیا جائے۔

مزید : رائے /کالم