معاشی ماہرین کی لا علمی

معاشی ماہرین کی لا علمی
معاشی ماہرین کی لا علمی

  



پاکستان کے کاروبار ی طبقے نے بانیء پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فرمودات کو دل و جان سے نہ صرف تسلیم کیا،بلکہ ان پر عملدرآمد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ بد قسمتی سے سیاستدانوں نے پہلے دن سے ضد، انا پسندی اور حصول اقتدار کے لئے باہمی لڑائی جھگڑوں سے معاشی ترقی میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔موجودہ حکومت نے سرمایہ کاری لانے، کارخانے چلانے، معاشی سرگرمیاں بڑھانے اور عام آدمی کے معاشی مسائل حل کرنے کے لئے بلند بانگ دعوے کئے تھے۔پندرہ سولہ ماہ کی حکمرانی میں بعض تجرباتی اقدامات سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ آئی ایم ایف سے قرض کا حصول اس حکومت نے زندگی موت کا مسئلہ بنا لیا۔ اس سلسلے میں عالمی مالیاتی ادارے کی کڑی شرائط کے تحت معیشت کے فیصلہ کن مقامات پر اپنے پسندیدہ افراد تعینات کرا لئے، جنہیں معاشی ماہرین قرار دیاگیا۔ملک کی معیشت کے ساتھ کھیلنے اور طرح طرح کے اقدامات کی ادھیڑ بن میں مصروف رہتے ہیں۔ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں بار بار اضافوں سے آئی ایم ایف کے قرضوں کی واپسی کا تحفظ یقینی بناتے ہیں۔ ا ب پتہ چلا ہے کہ انہیں پاکستان کے معاشی مسائل اور عوام کو درپیش مشکلات سے کوئی سروکار نہیں یا کوئی ادارک نہیں۔ اگلے روز اخباری رپورٹوں سے سبزیو ں کے بھاؤ پر بات کرتے ہوئے معاشی ٹیم کے سربراہ جناب حفیظ شیخ نے برملا کہا کہ منڈی سے ٹماٹر سترہ روپے کلو خرید لیں۔ جب معاشی ٹیم کے سربراہ کی معیشت دانی کا عالم یہ ہو کہ 300 روپے کلو فروخت ہونے والے ٹماٹر کا ریٹ 17روپے کلو بتا رہے ہوں، وہ ملک کو معاشی زبوں حالی سے نکالنے کے لئے کیسی پالیسیاں دے رہے ہوں گے؟ ایسے ماہرین کی تشکیل کردہ معاشی پالیسیوں کے زخم خوردہ کاروباری افراد چیختے چلاتے ہیں، لیکن کوئی سننے کے لئے آمادہ نہیں، کیونکہ یہ لوگ آئی ایم ایف کے معاشی ماہرین قرار دیئے گئے ہیں۔ اس سے بہتر ہوتا کہ عمران خاں اپنے پسندیدہ معیشت دان اسد عمر کو وزیر خزانہ رہنے دیتے۔عوام کی چیخیں نکلوانے والے300روپے کلو ٹماٹر کا بھاؤ 17 روپے کلو بتا کر عوام کے زخموں پر نمک پاشی تو نہ کرتے۔اسد عمر توعوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے تھے۔ انہیں خیال ہوتا کہ انہوں نے دوبارہ عوام کے پاس جانا ہے، اس لئے عوام کے دکھ درد کا کچھ حد تک احساس کرتے ہوئے ان کا مداوا کرتے۔ چونکہ معاشی ٹیم کے سربراہ کی اہلیت و قابلیت اور عوام کے حقیقی مسائل سے لا علمی کا بھانڈہ بیچ چوراہے پھوٹ گیا ہے، اس لئے بہتر یہ ہوگا کہ آئی ایم ایف اور حفیظ شیخ سے معذرت کر لی جائے۔ اسد عمر،حفیظ پاشا یا کسی اور ملکی معیشت دان کو کاروباری سرگرمیاں بڑھانے اور مہنگائی پر قابو پانے کا فریضہ سونپا جائے۔سب کچھ ظاہر و باہر ہونے کے باوجود آئی ایم ایف نے مزید یہ کمال کر دکھایا کہ مصر سے اپنے پسندیدہ جناب رضا باقر کو بلوا کر گورنر سٹیٹ بینک تعینات کرا دیا، حالانکہ اطلاعات یہ ہیں کہ رضا باقر نے اپنی غلط پالیسیوں سے مصر کی معیشت کا جہاز ڈبونے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔گورنر سٹیٹ بینک کا عہدہ سنبھالتے ہی رضا باقر نے شرح سود میں اضافوں کے ذریعے کاروباری طبقوں کی مشکلات بڑھانا شروع کر رکھی ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ چھوٹی سی پوسٹ کے لئے امیدواروں سے ان کی سابقہ کارکردگی کا پتہ چلایا جاتا ہے۔

بہتر ہوتا کہ موجودہ حکومت کے ارباب قضاو قدر رضا باقر کی سابقہ کارکردگی سے آگاہی حاصل کر لیتے۔یہ بھی ممکن تھا کہ رضا باقر کو ان کی مہارت کے اصلی شعبے میں تعینات کر دیا جاتا۔ آئی ایم ایف کی ناراضی کا خطرہ بھی ٹل جاتا اور پاکستان کی معیشت پہلی رفتار سے رواں دوان رہتی۔ اسے کسی تجربے کے بوجھ کا متحمل نہ ہونا پڑتا۔معاشی ٹیم کے تیسرے ایکسپرٹ شبر زیدی ہیں۔ ٹیکس سے متعلقہ نجی کمپنی کے مالک و مختار ہیں۔ کاروباری اداروں کو ٹیکس بچانے کے گر بتانے کے ماہر ہیں۔ان کی تشکیل کردہ اور نافذ کردہ پالیسیوں کی اثر پذیری کا عالم یہ ہے کہ تاجروں کو دو بار ہڑتال کرنا پڑی اور انہیں آرمی چیف کے سامنے مشکلات کی پٹاری کھولنا پڑی۔ مجموعی طور پر حکومتی معاشی فیصلوں کے اثرات کا عالم یہ ہے کہ عوام کا جینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اشیائے خور و نوش کے نرخوں پر معاشی ٹیم کے سربراہ نے پہلی با ر زبان کھولی اور اپنی عدم واقفیت کا اظہار کر دیا ہے،ورنہ حقیقت یہ ہے کہ نان، روٹی، آلو، پیاز، مرچ، بھنڈی توری، گوشت سمیت ہر چیز عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو چکی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ حکومت کے سیاسی ماہرین کی کارکردگی دیکھیں تو انہوں نے اپنی زبان درازیوں سے معاشرے میں اختلافات اور دشمنیوں کا زہر کھولنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ دوسرے سیاست دانوں کی بیماریوں پر ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر نکتہ آفرینی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں زہر آلود ماحول کی موجودگی میں اقتصادی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود نہیں ہو سکتی۔ وہی حکومتی ٹیم بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے جو لڑائی جھگڑوں میں الجھنے کی بجائے ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دے۔

مزید : رائے /کالم