یروشلم: صلیب و صیہونیت کے نرغے میں

یروشلم: صلیب و صیہونیت کے نرغے میں
یروشلم: صلیب و صیہونیت کے نرغے میں

  



رواں ہفتے کے آغاز میں اسرائیل نے فلسطینی اسلامک جہاد کے ایک لیڈر کو شہید کر دیا، اسرائیلی حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال سے غزہ اسرائیل سرحد کے اس پار اسرائیل پر راکٹ حملوں میں نہ صرف یہ گروپ ملوث رہا ہے،بلکہ شہید کئے جانے والا کمانڈر ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ بھی تھا۔ دو روز سے جاری حالیہ لڑائی میں اس گروپ نے اسرائیل پر سینکڑوں راکٹ فائر کئے، جوابی حملوں میں اسرائیل نے کم از کم 20جنگجواور کئی سویلین ہلاک کر دیئے۔اسرائیل کے جوابی حملوں میں کئی مکانات بھی تباہ ہوگئے۔ غزہ کی پٹی میں 20 لاکھ فلسطینی بستے ہیں، جہاں حماس کی حکومت ہے۔ حماس نے اسرائیل کے ساتھ غیر اعلانیہ معاہدہ کر رکھا ہے مل جل کر رہنے کا، لیکن جہادی گروپ اپنے افکار اور نظریات کے مطابق حماس کی اتھارٹی کو تسلیم نہیں کرتا اور اسرائیل پر گاہے بگاہے راکٹ فائر کرتا رہتا ہے۔ اسرائیل کے جوابی حملوں سے فلسطینی مسلمانوں پر عرصہء حیات تنگ ہو جاتا ہے، ان کی تکالیف اور مصائب میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ حماس کے اسرائیل کے ساتھ باہم مل جل کر رہنے کے نتیجے میں انہیں قطر سے امداد ملتی ہے، جس سے وہ اپنے روزمرہ کے معاملات چلاتے ہیں۔ 80 لاکھ سے زائد فلسطینی 7دہائیوں سے اپنے وطن کی تلاش میں ہیں 1948ء میں ریاست اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی ان کی مہاجرت کاآغاز ہوگیا تھا، سات دہائیوں پر پھیلی رنج و الم کی یہ ایک عظیم داستان ہے۔ فلسطینی مسلمانوں نے شہادتوں کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں، کبھی یہ لوگ پی ایل او اور اپنے لیڈر یاسر عرفات کی قیادت میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی کا وشیں کر رہے تھے۔ یہ مسلح جدوجہد تھی جو کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی۔ پھر اسی دوران خالصتاً اسلامی نظریات پر مبنی انتفادہ تحر یک شروع ہوئی، فلسطینیوں نے اس پرچم تلے عظمت کی محیرالعقول داستانیں رقم کیں۔ ان لوگوں کی جدوجہد کو دیکھتے ہوئے قرون ِ اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔ حماس اسی تحریک کا ایک حصہ ہے۔ فلسطینی عوام نے انہیں اپنا حق ِ رائے دہی دیا، لیکن عرب حکمرانوں، امریکیوں اور اسرائیلیوں نے ان کی حکومت نہیں چلنے دی۔

امریکہ نے ہر دور میں فلسطینی ریاست کے قیام کے ایشو پر اپنے آپ کو ملوث رکھا ہے، وہ بظاہر اس مسئلے کے پُرامن اور پائیدار حل کے لئے کوشاں نظر آتا رہا ہے، لیکن نتیجہ ہمیشہ صیہونی ریاست کے حق میں نکلتا رہا ہے۔ مصر،اسرائیل معاہدہ ہویا اسرائیل فلسطین معاہدہ،ہر ایک کاوش کے نتیجے میں یہودی/صیہونی ریاست کا پھیلاؤ اور استحکام وقوع پذیر ہوتا رہا ہے، آج 70 سال کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیل کی جغرافیائی سرحدیں،صیہونی منصوبہ سازوں کے افکار اور خیالات کے عین مطابق پھیلتی ہی چلی جا رہی ہیں اور فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے قیام کی تمام امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ اسرائیلی حکمران یروشلم کو ریاست اسرائیل کا اٹوٹ انگ قرار دیتے رہے ہیں، انہوں نے اقوام عالم کی قراردادوں کے برعکس نہ صرف سارے کے سارے یروشلم کو اسرائیل میں ضم کرلیا ہے، بلکہ اسے دارلحکومت بھی قرار دے لیا ہے۔ اب ریاست اسرائیل کا دار لحکومت، تل ابیب نہیں،بلکہ یروشلم ہے۔ امریکہ نے بھی اسرائیل کے اس ”غیر قانونی“ مطالبے کو تسلیم کرکے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے اٹھاکر یروشلم منتقل کر لیا ہے۔ سیکیورٹی کونسل کے 15میں سے 14ارکان نے اسرائیل کے اس اقدام کی مخالفت کی، لیکن اکیلے امریکہ نے اسرائیلی عمل کو جائز قرار دیتے ہوئے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کیا،ایک نہ ختم ہونے والی جدوجہد جاری ہے۔ عالمی و علاقائی تناظر میں یروشلم ایک بار پھر مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ صیہونی افکار و نظریات کے مطابق گریٹر اسر ئیل کی تعمیر کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ صلیبی جنگوں سے ہمارے ذہنوں میں بیت المقدس اور صلاح الدین ایوبی کا نام ایک جھمکاکے سے ابھرتا ہے، عام مسلمانوں کا خون رگوں میں پھڑ پھڑانے لگتا ہے، مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے مناظر دماغ کو معطر کرنے لگتے ہیں۔ صلیبی جنگ کی اصطلاح دورِ جدید میں امریکی صدر جارج بش نے 9/11کے بعد دہشت گردی کے خلاف اعلان ِ جنگ کے موقع پر استعمال کی انہوں نے اسے صلیبی جنگ شروع کرنے کا اعلان کہا۔ہمارے دانشوروں نے اس بارے میں زیادہ کیا، تھوڑا بہت بھی غور و فکر نہیں کیا کہ جارج بش نے کتنی بڑی اہم تاریخی بات کہی ہے۔ ہم سمجھتے رہے کہ یہ معاملہ، یعنی دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ بس دہشت گردی کے خلاف ہے، لیکن اس اعلان میں چھپی اسلام دشمنی ہمارے فہم وخیال میں نہیں آسکی، حالانکہ جارج بش اپنے پیش منظر اور پس منظر میں ایک کٹر اور بنیاد پرست عیسائی ہی نہیں،بلکہ تاریخی تسلسل کے تناظر میں ایک حقیقی صلیبی تھا۔انہوں نے ایک متعصب عیسائی کے طور پر امریکی طاقت و قوت کو مسلمانوں کی بیخ کنی کے لئے استعمال کیا۔

9/11 میں مبینہ طور پر شامل ایک شخص بھی افغانی یا عراقی نہیں تھا، لیکن انہوں نے پہلے قدم کے طور پر افغانستان اور دوسرے مرحلے میں عراق کو ہولناک تباہی و بربادی سے ہمکنارکیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور مصر کو کچھ نہیں کہا،حالانکہ 9/11 میں شامل نوجوانوں کی اکثریت کا تعلق سعودی عرب اور مصر سے تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ مذہبی طور پر، مذ ہبی بنیادوں پر شروع کی گئی تھی، گزرے 18سال سے اس جنگ میں مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا گیا اور بنایا جا رہا ہے۔ صلیبی جنگوں کا سلسلہ 1099ئسے شروع ہے، جب عیسائیوں سے ان کایروشلم چھیناگیا۔ بیت المقدس خلیفہ ثانی عمر فاروق ؓ نے ایک بھی انسانی جان تلف کئے بغیر عیسائیوں سے لیاتھا، جس سے عیسائی دنیا میں ایک کہرام مچ گیا۔ پورے یورپ سے عیسائی جنگجو صلیب کے نام پر اکٹھے ہوئے، پوپ کے فتویٰ کے مطابق یروشلم کی بازیابی کو ایک مذہبی فریضہ قرار دیا گیا اور اس طرح عیسائی جنگجوؤں کا ٹڈی دل عازم یروشلم ہوا اور انہوں نے 1099ء میں مسلمانوں سے یروشلم واپس لے لیا۔ جب صلیبی جنگجو شہر مقدس میں داخل ہوئے تو انہوں نے مسلمانوں کا قتل ِ عام کیا، حتیٰ کہ شہر میں گھوڑ وں کے گھٹنوں تک خون جمع ہونے لگا۔ یہ لوگ جنہو ں نے شہر پر قبضہ کیا کروسیڈر،یعنی ”مسیح کے سپاہی“ کہلاتے تھے۔ کروسیڈ یعنی صلیب کی جنگ خالصتاً مذہبی جذبے پر لڑی گئی، اس کے بعد یہاں فرانسیسی گاڈفر حکمرا ن ہوا، اس خاندان نے یہاں 1187ء تک حکمرانی کی حتیٰ کہ صلاح الدین ایوبی نے تین ماہ تک شہر کا محاصرہ کرکے صلیبیوں کو شکست دی اور یروشلم سے لا طینی بادشاہت کا تسلط ختم کیا۔

اس کے بعد پورے یورپ میں ایک بار پھر صف ماتم بچھ گئی۔ عیسائی تاریخ دانوں کے مطابق صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں سقوط یروشلم کی خبر سن کر پوپ اربن سوم صدمے سے جاں بحق ہوگیا، پھر پوپ گریگوری سوم نے تیسری صلیبی جنگ کے لئے فتویٰ جاری کیا اور پورے یورپ سے صلیب کے سپاہی اکٹھے ہونے لگے۔ برطانوی بادشاہ رچرڈ شیردل جرمن، حکمران فریڈرک باربروسا اور فرانسیسی فلپ آگسٹس نے فوجیں جمع کیں اور برطانوی بادشاہ رچرڈ شیر دل کی قیادت میں عازم یروشلم ہوئے۔ یہاں یہ بات ذہین نشین کرنا ضروری ہے کہ برطانیہ اور جرمنی آپس میں دشمن تھے، لیکن یروشلم کے نام پر انہوں نے اپنی دشمنی ختم کی اور کافر مسلمانوں سے شہر مقدس واپس لینے کے عظیم مشن کی کامیابی کے لئے اکٹھے ہوئے۔ اس وقت کی تاریخ میں سکندر ِ اعظم کے علاوہ شاید ہی کوئی شہنشاہ ہو، جس نے بذات خود لشکر کی قیادت کی ہو، لیکن رچرڈ نے جو ایک انتہائی سفاک، بہادر، زیرک حکمران ہی نہیں، سپہ سالار بھی تھا، متحدہ صلیبی لشکر کی قیادت کی، لیکن وہ تیسری صلیبی جنگ میں کامیاب نہ ہوسکا، صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اوّل کی حفاظت کا فریضہ بطریق ِ احسن سر انجام دیا۔ صلیبی لشکر نامراد لوٹ گیا، حتیٰ کہ 1918ء کی جنگ عظیم اوّل میں عیسائی جنرل ا یلن بی نے یروشلم پر قبضہ کیا۔ پھر 1948ء میں ریاست اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی اس شہر ِ مقدس کو صیہونیوں کی تحویل میں دینے کا عمل جاری ہوا اور ہنوز یہ عمل جاری ہے۔ صلاح الدین ایوبی کے وارثوں میں اب وہ دم خم نہیں ہے کہ وہ عیسائیوں اور صیہونیوں کی سازشوں کا مقابلہ کر سکیں۔ ایشو تعداد یا وسائل کا نہیں، عزم و حوصلے کا ہے، غیرت و حمیت کا ہے، ہم مسلمان ایک ارب 40کروڑ سے زیادہ ہیں، 62ممالک میں مسلمان حکمران ہیں، قدرتی اور انسانی وسائل کی بہتات ہے، لیکن کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں ہے۔ یروشلم آج بھی کسی صلاح الدین ایوبی کا منتظر ہے جو اسے ناپاک صیہونی و صلیبی وجود سے نجات دِلاسکے۔

مزید : رائے /کالم