وزیراعظم عمران خان کی ”وارننگ“

وزیراعظم عمران خان کی ”وارننگ“

  



وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس سے پیشتر کہ بہت دیر ہو جائے، دُنیا کو بھارت کا راستہ روکنا ہو گا۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بھارت ہے، اور (وزیراعظم) مودی کے ہوتے ہوئے دوستی کا ہاتھ بڑھانا مشکل ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستانہ تعلقات کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ہمیں ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے اکٹھے ہو کر غربت، بھوک اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف لڑنا چاہیے۔وہ اسلام آباد میں ”مارگلہ ڈائیلاگ2019ء جنوبی ایشیا مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں امن اور ترقی“ کے زیر عنوان منعقدہ ایک بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کو خبردار کیا کہ بھارتی رویے کی وجہ سے(ہمارے) خطے میں ایک انتہائی خطرناک صورتِ حال جنم لے رہی ہے۔ یہ موزوں ترین وقت ہے کہ بین الاقوامی کمیونٹی آگے بڑھے، وگرنہ پوری دُنیا کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارت انتہا پسندوں، اور نسل پرستوں کے چنگل میں پھنس گیا ہے۔یہ ”نفرت کی آگ“ دہکا رہے ہیں، کسی کو پتہ نہیں کہ بھارت کہاں جا کر رُکے گا۔ہر شخص خوفزدہ ہے۔میڈیا کو بھی خوف میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہو گا،اور خود بھارت بھی اس کا سامنا کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ بھارت کے ”نظریہئ نفرت“ اور مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان بھی خطرے میں ہے۔بھارتی وزیراعظم ایک اندھی گلی میں داخل ہو چکے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے لوگ100دن سے کرفیو میں رہ رہے ہیں۔ان کے انسانی حقوق کا انکار کیا جا رہا ہے۔ان کی شہری آزادیاں چھین لی گئی ہیں۔ ان کی تمام لیڈر شپ جیلوں میں ٹھونسی جا چکی ہے، اور نوجوانوں کو رات کے اندھیرے میں چُن چُن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔وزیراعظم کے سامعین میں تیرہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے سیکیورٹی اور سلامتی امور کے معروف ماہرین شامل تھے، اور یوں ان کی آواز دور دور تک سنی جا رہی تھی۔وزیراعظم نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو درپیش مسائل پربھی گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان(اب) کسی جنگی تنازع میں اپنے آپ کو نہیں الجھائے گا،وہ اس کا بہت مزہ چکھ چکا ہے۔دہشت گردی اور جنگی کارروائیوں نے پاکستان کی ترقی کو شدت سے متاثر کیا ہے، کہ کوئی سرمایہ کار یہاں آنے کو تیار نہیں تھا۔

جنابِ عمران خان نے مختلف حوالوں پر گفتگو کرتے ہوے جو کچھ کہا پاکستان میں بہت کم لوگ اس سے اختلاف کر پائیں گے۔ افغانستان میں سوویت فوجوں کے داخلے کے بعد جو حالات پیدا ہوئے،اور پاکستان نے عالمی برادری کے ساتھ کھڑے ہو کر افغان مزاحمت کی جس طرح پشت پناہی کی، وہ عالمی تاریخ کا ایک ناقابل ِ فراموش حصہ ہے۔اگر پاکستان افغان مہاجرین (اور مجاہدین) کے لیے اپنے دروازے نہ کھولتا تو آج خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔سوویت فوجوں کو واپسی پر مجبور کرنے میں پاکستان کا کردار قائدانہ تھا، سرفروشانہ تھا، لیکن بدقسمتی سے افغانستان کو سنبھالنے کے لیے عالمی کولیشن برقرار نہ رہ سکی، جو سوویت فوجوں کے انخلا سے پہلے موجود تھی۔ افغان مجاہدین کے آپسی اختلافات اور پھر طالبان حکومت کے خلاف امریکہ اور نیٹو کی کارروائیوں کے اثرات بھی سب سے زیادہ پاکستان کو برداشت کرنا پڑے۔ اس کے ہزاروں شہری لقمہ ئ اجل بنے۔ سیکیورٹی فورسز نے شہادتوں کے نذرانے پیش کیے،اربوں ڈالر کا نقصان معیشت نے اٹھایا، اور ابھی تک پاکستان اس کے اثرات سے نجات حاصل نہیں کر پا رہا۔اس خطے میں کسی نئے تصادم میں انگلیاں جلانے کا تصور ہی اب ناقابل ِ تصور بن چکا ہے۔

افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری تناؤ سے قطع نظر پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ بھارت کی ہمسائیگی سے درپیش ہے، وہاں انتہا پسندوں کے برسر اقتدار آنے کے بعد حالات مزید دِگر گوں ہوئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کو براہِ راست نئی دہلی کے زیر انتظام لانے کے اقدام نے خود بھارتی آئین کی فراہم کردہ ضمانت کی دھجیاں اُڑا دی ہیں۔کشمیر پر بھارتی قبضے کو مزید سخت کرنے کے لیے یک طرفہ طور پر جو کچھ کیا گیا،اسے مقبوضہ علاقے میں تسلیم کرنے پر کوئی بھی تیار نہیں سو،پورا علاقہ قید خانہ بنا ڈالا گیا ہے۔پاکستان میں اس وقت جذبات اُبل رہے ہیں،ہر پاکستانی اپنے کشمیری بھائیوں کے دُکھ میں برابر کا شریک ہے اور خود کو (نفسیاتی طور پر) بھارتی قید خانے میں محصور سمجھتا ہے۔وزیراعظم نریندر مودی مذاکرات کا دروازہ بند کیے بیٹھے ہیں، اور کسی بھی دستک کا جواب دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ پاکستان مسلسل عالمی رائے عامہ کو اس طرف متوجہ کر رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کچھ ہی عرصہ پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب کیا تھا،اور عالمی ضمیر کو شدت سے جھنجھوڑا تھا،لیکن دُنیا اپنے اپنے مفادات میں الجھی ہوئی ہے۔ابھی تک بھارت پر ایسا دباؤ نہیں ڈالا جا سکا کہ وہ اپنے رویئے پر نظرثانی کے لیے مجبور ہو جائے۔پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ممالک ہیں۔دونوں میں سے کوئی کسی کو ”ڈکٹیٹ“ نہیں کر سکتا۔دونوں کو طاقت کے بجائے دلیل اور مکالمے سے مسائل حل کرنا ہیں۔ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اہل ِ کشمیر کا یہ حق تسلیم کر چکی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ آپ کرنے کا حق رکھتے ہیں،بھارت سلامتی کونسل کی قراردادیں تسلیم کرنے کے باوجود عملاً مسلسل انکار کرتا چلا آ رہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہٹ دھرمی ترک کی جائے، اور پورے جنوبی ایشیا کے مستقبل کو داؤ پر نہ لگایا جائے۔وزیراعظم عمران خان کی وارننگ پر عالمی طاقتیں اور عالمی برادری جس قدر جلد کان دھریں گی،اُسی قدر نہ صرف اس خطے، بلکہ پوری انسانیت کے لیے بہتر ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ