پارلیمینٹ میں مفاہمت کی فضا؟

پارلیمینٹ میں مفاہمت کی فضا؟

  



چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کی مشترکہ کمیٹی کی طرف سے وزیراعظم اور قائد حزبِ اختلاف کو الگ الگ خط لکھ کر الیکشن کمیشن کے دو اراکین کی نامزدگی کے لئے تین تین نام مانگ لئے ہیں تاکہ مشاورت کا عمل مکمل کر کے بلوچستان اور سندھ سے ایک ایک رکن نامزد کیا جا سکے۔ یہ دونوں نشستیں جنوری سے خالی چلی آ رہی ہیں، جب دو ارکان (سندھ+بلوچستان) ریٹائر ہوئے تھے، اس نامزدگی کے لئے قائد حزبِ اقتدار اور قائد حزبِ اختلاف کی مشاورت ضروری ہے۔تاہم یہ عمل یوں مکمل نہ ہوا کہ فریقین کی باہمی ملاقات نہ ہوئی اور بالواسطہ طور پر نام دیئے اور مانگے جاتے رہے،بالآخر وزیراعظم کی سفارش پر سندھ سے خالد محمود صدیقی اور بلوچستان سے منیر احمد کاکڑ کو نامزد کر دیا گیا،جب یہ دونوں اراکین حلف کے لئے گئے تو چیف الیکشن کمشنر نے حلف لینے سے انکار کر دیا اور تقرری آئین کی منشاء کے مطابق نہیں ہوئی، اس پر تنازعہ اُٹھ کھڑا ہوا اور بات اسلام آباد ہائی کورٹ تک پہنچی۔چیف جسٹس مسٹر جسٹس اطہر من اللہ نے اپنا فیصلہ دیا کہ آئین پر عمل کیا جائے اور منتخب حضرات خود طے کریں۔ یہ فیصلہ سینیٹ چیئرمین اور سپیکر قومی اسمبلی کو بھیجا گیا،اب ان کی طرف سے اگلا قدم اٹھایا گیا ہے۔ہمارے خیال میں اس عمل کو مطعون کرنے یا اس کا مذاق اڑانے کی بجائے اس کی حمایت کرنا چاہئے کہ عدالتی ہدایت پر ہی سہی حزبِ اقتدار کی طرف سے یہ تسلیم کر لیا گیا کہ پہلی تقرری درست نہیں تھی اور اب مشاورت کا عمل شروع کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بہتر نتیجہ نکل سکتا ہے اور طویل عرصہ سے خالی نشستیں پُر ہو کر الیکشن کمیشن مکمل ہو جائے گا، ابھی تو چیئرمین الیکشن کی تقرری کا مسئلہ بھی آنے والا ہے۔ موجودہ چیئرمین کی مدت تقرری بھی پوری ہونے والی ہے اور پھر نئے چیئرمین کے لئے بھی یہی مرحلہ درکار ہو گا۔جہاں تک حالیہ صورتِ حال کا تعلق ہے تو یہ یوں خوش آئند ہے کہ آئینی تقاضہ کے مطابق مشاورت سے دونوں رکن نامزد ہو گئے تو چیئرمین کے تقرر کی بھی توقع کی جا سکتی ہے، ہم دونوں فریقوں خصوصاً قائد حزبِ اقتدار،وزیراعظم عمران خان سے کہیں گے کہ وہ اب پارلیمینٹ اور آئین کی روح کے مطابق مشاورت میں عار محسوس نہ کریں،جہاں تک چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کا تعلق ہے تو اب تک ان کی طرف سے بہتر کردار ادا کیا گیا، حتیٰ کہ حالیہ دِنوں میں ڈپٹی سپیکر کی صدارت میں آٹھ آرڈیننس اور تین مسودات قانون مختصر وقت میں منظور کرا لینے پر بھی تنازعہ حل کرا دیا گیا ہے۔ سپیکر کی مداخلت پر حزبِ اختلاف ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے پر تیار ہو گئی اور حزبِ اقتدار نے ان گیارہ مسودات کو واپس لے کر مجالس قائمہ کے سپرد کرنے کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔پارلیمینٹ میں اگر سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ان محافظوں کی یہ کوشش مکمل طور پر بار آور ہوتی ہے تو اس سے مفاہمت کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں،لہٰذا ہم سب کو اس عمل کی حمایت کرنا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ