رقص اعضا کی شاعری کا نام‘ہر کسی کو نہیں آسکتا،بینش سجاد

رقص اعضا کی شاعری کا نام‘ہر کسی کو نہیں آسکتا،بینش سجاد

  



لاہور(فلم رپورٹر)رقص اعضاء کی شاعری کا نام ہے جو ہر کسی کو نہیں آسکتی اس وقت ڈانس کے نام پر مذاق کیا جارہاہے۔ان خیالات کا اظہار معروف کوریوگرافر و پرفارمر بینش سجاد نے ایک ملاقات کے دوران کیا۔ایک سوال کے جواب میں بینش سجاد نے کہاکہ میں نے میں عرصہ 10 سال سے کوریو گرافی کررہی ہوں مجھے ڈانس سکھانے میں نامور کوریوگرافرپرنس سجادکا سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔بینش سجاد نے کہاکہ میں اب تک بہت سارے شوزمیں پرفارم کرچکی ہوں اور ڈانس کی ہر صنف پر عبور حاصل کیا ہوا ہے جن میں صوفی،ہپ ہوپ،کلاسیکل،ویسٹرن اور ہر طرح کا رقص شامل ہے۔بینش سجاد نے مذید کہاکہ رقص ایک آرٹ ہے جسے بین الاقوامی سطح پر پرموٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس لئے ہم سب کوریو گرافرز کی حکومت سے اپیل ہے کہ ڈانس اکیڈمیوں کو حکومتی سطح پر پذیرائی دی جائے تو یہاں پر اچھا سکھانے والے موجود ہیں جن کو بہترین روزگار مل سکتا ہے اس وقت بہت ساری اکیڈمیاں سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے بند ہو چکی ہیں وہ دوبارہ شروع ہو سکیں۔

مزید : کلچر