سوسائٹی آف نیورو سرجری کی کانفرنس، دماغ کی رسولیاں نکالنے کا عملی مظاہر ہ کیا گیا

سوسائٹی آف نیورو سرجری کی کانفرنس، دماغ کی رسولیاں نکالنے کا عملی مظاہر ہ ...

  



 لاہور(جنرل رپورٹر)پاکستان سوسائٹی آف نیورو سرجری کی 32ویں انٹرنیشنل کانفرنس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک سے طبی ماہرین نے بڑی تعداد میں شرکت کی جہاں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے ناک کے ذریعے دماغ کے پچھلے حصے سے انڈوسکوپی سے رسولیاں نکالنے کا عملی مظاہرہ کیا۔برطانیہ سے پروفیسر شاز احمد اور پروفیسر امجد شاد،پشاور سے پروفیسر ممتاز علی نے بھی دماغ سے رسولیاں نکالنے کے عمل میں حصہ لیا جبکہ300سے زائد طبی ماہرین نے شرکت کی جن میں امریکہ،اٹلی، ترکی، مصر،چین،سپین،فرانس،افریقہ اور دیگر ممالک شامل تھے۔

 جبکہ پی آئی این ایس کے تینوں نیورو سرجری یونٹس سے 8تحقیقی مقالہ جات پیش کیے گئے جبکہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے ٹراما کانفرنس میں بھی لیکچر دیا اور بالخصوص حادثات کی شکل میں نیورو سرجری کی اہمیت اور نالج اپ ڈیٹ کرنے کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہو اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے معروف نیورو سرجن پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں دماغی امراض کے بارے میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے الحمد اللہ پاکستان اس شعبے میں کسی سے پیچھے نہیں،پہلی مرتبہ پی آئی این ایس میں مریض کو بیہوش کئے بغیر اُس کے دماغ سے رسولیاں نکالنے کے کامیاب آپریشن ہو چکے ہیں اور اپنی نوعیت آپ کی اس انڈوسکوپی میں یہ ادارہ بازی لے گیا ہے پنجاب ہی نہیں ملک بھر سے برین ٹیومر اور دیگر دماغی امراض کے مریض بڑی تعداد میں آتے ہیں۔انہوں نے اس طرح کے کانفرنسوں کے انعقاد کو سراہا جس سے طبی ماہرین کو ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہونے اور جدیدطبی تحقیق سے استفادہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے تفصیلی پریزنٹیشن میں ڈاکٹروں کے سوالوں کے جواب بھی دئیے اور سر کھولے بغیر دماغ کے پچھلے حصے سے رسولیوں کو نکالنے کے عمل کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1