ایمسٹرڈم،9سالہ لڑکا دنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ

ایمسٹرڈم،9سالہ لڑکا دنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ

  



ایمسٹرڈم(آئی این پی)ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا 9 سالہ لارینٹ سائمنس رواں سال دسمبر میں ایندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بن جائے گا۔ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈم سیتعلق رکھنے والا لارینٹ سائمنس ایک باصلاحیت بچہ ہے جوصرف 9 سال کی عمر میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بننے کے لیے تیار ہے۔لارینٹ سائمنس نے 8 سال کی عمر میں سیکنڈری اسکول کی تعلیم مکمل کی تھی اور صرف 9 ماہ میں اپنا گریجویشن کا پروگرام مکمل کیا ہے، 9 سالہ لارینٹ سائمنس کا ارادہ ہے کہ وہ اب الیکٹریل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کریں گے اور اس کے ساتھ ہی میڈیسن کی تعلیم بھی حاصل کریں گے۔لارینٹ کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے 4 سال کی عمر میں اسکول کا آغاز کیا تھا اور صرف 12 ماہ میں ہی 5 سال کی تعلیم مکمل کرلی تھی، لارینٹ کے دادا دادی کہتے ہیں کہ ان کو یہ پوتا خدا کی طرف سے تحفہ ملا ہے جس کو خدا نے بے شمار صلاحیتیں دی ہیں جبکہ لارینٹ کے اساتذہ بھی اس کی ذہانت کی بہت تعریف کرتے ہیں۔طالب علم کے والدین نے مزید بتایا کہ لارینٹ کے اساتذہ نے اس کی ذہانت کا تعین کرنے کے لیے اس کے مختلف امتحان لیے اور اس نے سارے امتحان پاس کرلیے۔ایندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر سوجیرڈ ہلشوف کا کہنا ہے کہ لارینٹ ان کے پاس سب سے تیزرفتار طالب علم ہے جو ناصرف انتہائی ذہین ہے بلکہ ایک ہمدرد لڑکا بھی ہے۔لارینٹ کا آئی کیو لیول 145 ہے اور وہ یونیورسٹی آف الاباما سے انتہائی کم عمر میں گریجویشن مکمل کرنے پر عالمی ریکارڈ بنانے کا اعزاز حاصل کرے گا۔لارینٹ کو دنیا کی نامور یونیورسٹیوں کی جانب سے تعلیم حاصل کرنے کی آفرز دی جا رہی ہیں۔

مزید : علاقائی