لاہور ہائیکورٹ کی امتحانی و ایڈمنسٹریشن کمیٹی سے ججز تعناتی کا ازسر نوجائزہ لینے کا مطالبہ

لاہور ہائیکورٹ کی امتحانی و ایڈمنسٹریشن کمیٹی سے ججز تعناتی کا ازسر نوجائزہ ...

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کور ٹ بار ایسوسی ایشن نے ایڈیشنل ڈسڑکٹ اینڈ سیشن ججوں کی خالی اسامیوں پرصرف8امیدواروں کو کامیاب قرار دینے کے لاہور ہائی کورٹ کے اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عدالت عالیہ کی امتحانی کمیٹی اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے ممبران سے نئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی تعیناتی کا ازسر نو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے، لاہور ہائی کورٹ بار کے صدرحفیظ الرحمن چودھری، سیکرٹری، فیاض احمد رانجھا،نائب صدر کبیر احمد چودھری اور فنانس سیکرٹری عنصر جمیل گجرنے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کڑے اور مشکل ترین امتحان میں تقریباً1300امیدواروں میں سے 40 نے تحریری امتحان میں کامیابی حاصل کی لیکن انٹرویوکے مرحلہ سے گزرنے کے بعد آٹھ امیدواران کو بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تعینات کیا گیا۔ حالانکہ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی 100 سے زائد اسامیاں خالی ہیں، تحریری امتحان میں تمام 40 کامیاب وکلاء کو تعینات کیا جائے تو زیرالتواء مقدمات میں کمی واقع ہو سکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایڈیشنل سیشن ججوں کی اسامیوں پر بھرتی کے لئے یہ امتحانات وکلاء کے کوٹہ کے تحت منعقد ہوئے تھے۔دریں اثناء لاہور ہائی کورٹ بار کے صدرحفیظ الرحمن چودھری، سیکرٹری، فیاض احمد رانجھا،نائب صدر کبیر احمد چودھری اور فنانس سیکرٹری عنصر جمیل گجرنے مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ کو بطور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نامزد گی پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ان تعیناتی سے لاہور ہائیکورٹ کا امیج نہ صرف وکلاء بلکہ سول سوسائٹی میں بھی مزید بہتر ہوگا۔

ہائیکورٹ بار

مزید : صفحہ آخر