ضمانتی بانڈ کی شرط،نواز شریف کی درخواست قابل سماعت قرار،وفاق اور نیب کے اعتراض مسترد

ضمانتی بانڈ کی شرط،نواز شریف کی درخواست قابل سماعت قرار،وفاق اور نیب کے ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی اور مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے ضمانتی بانڈکی شرط عائد کرنے کے وفاقی حکومت کے اقدام کے خلاف دائر درخواست پروفاقی حکومت کا اعتراض مستردکرتے ہوئے اس درخواست کو لاہور ہائی کورٹ میں قابل سماعت قراردے دیا۔فاضل بنچ نے میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف کے وکلاء کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے قراردیا کہ آئین کے آرٹیکل 199کے تحت لاہور ہائی کورٹ کو اس درخواست کی سماعت کا مکمل اختیار حاصل ہے۔عدالت نے تھوڑی دیر کے لئے محفوظ کیا گیا اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اس درخواست کو قابل سماعت قراردے دیا،عدالت آج 16نومبر کوصبح 11بجے اس کیس کی مزید سماعت کرے گی۔درخواست کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد میاں نواز شریف کے وکیل اشتراوصاف علی نے فاضل بنچ سے کہا کہ کیامیں وفاقی کابینہ کے آرڈر کو معطل کرنے کی استدعا کرسکتاہوں،جس پر فاضل بنچ نے کہا کہ ہم نے اس پر دلائل نہیں سنے اس لئے اس موقع پر وفاقی کابینہ کا آرڈر معطل نہیں کیاجاسکتا،گزشتہ روز وفاقی حکومت کی طرف سے اس درخواست کے لاہور ہائی کورٹ میں قابل سماعت ہونے کے معاملہ پر اعتراض اٹھایا گیا،وفاقی حکومت کے وکیل نے ان درخواستوں کی سماعت کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالتوں سے ایون فیلڈ ریفرنس اور العزیزیہ کیس میں سزائیں ہوچکی ہیں،ان کی اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہیں،اس لئے یہ درخواست لاہور ہائی کورٹ میں قابل سماعت نہیں ہے،اس معاملے کی شنوائی کا اختیار اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس ہے جبکہ درخواست گزار میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف کے وکلاء نے اس کے جواب میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل199کے تحت لاہور ہائی کورٹ کو اس درخواست کی سماعت کا اختیار حاصل ہے،اس سے قبل وفاقی حکومت کی طرف سے 45اورنیب کی طرف سے 4صفحات پر مشتمل تحریری جوابات ہائی کورٹ میں پیش کئے گئے جبکہ امجد پرویز ملک کی طرف سے میاں نوازشریف کا وکالت نامہ بھی عدالت میں پیش کردیاگیا،اس موقع پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا وکالت نامہ آنے کے بعد وفاق کا یہ اعتراض توختم ہو گیا ہے کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے،فاضل بنچ نے حکومت اورنیب کے جواب کی نقول درخواست گزاروں کے وکلاء کو فراہم کرنے کاحکم دیتے ہوئے ان کے وکیل امجد پرویز ملک سے پوچھا کہ کیا وہ جواب پڑھنا چاہیں گے،جس پر امجد پرویز ملک نے کہا کہ سوشل میڈیا پرسارا آرڈر موجود ہے، ہمیں اپنے سارے کیس کا پتہ ہے، فاضل جج نے درخواست گزاروں کے دوسرے وکیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امجدپرویز سے کہا کہ آپ اشتراوصاف سے مشورہ کر لیں، جو چیزیں ہمارے سامنے تحریری شکل میں پیش کی گئی ہیں،ہم نے ان کودیکھنا ہے، جو میڈیا پر چل رہا ہے ہم نے اس کونہیں دیکھنا، اس کے ساتھ ہی فاضل بنچ نے کیس کی مزید سماعت ایک گھنٹے کے لئے ملتوی کردی،تقریباًساڑھے 3بجے دوپہرکیس کی دوربارہ سماعت شروع ہوئی تو فاضل بنچ نے درخواست گزار وں کے وکلاء سے کہا کہ عدالت سے سب سے پہلے اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے معاملہ کو دیکھے گی،درخواست گزاروں کے وکیل امجد پرویز ملک نے موقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت لاہور ہائیکورٹ اس کیس کی سماعت کر سکتی ہے، تمام ہائی کورٹس وفاق اوروفاقی اداروں کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کرسکتی ہیں،اس سلسلے میں اعلی عدالتوں کے فیصلے موجودہیں،عدالتی فیصلوں میں نظیر موجود ہے کہ کراچی کے رہائشی کا لاہور ہائیکورٹ نے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا،اگر صرف اسلام آباد ہائیکورٹ ہی اس کیس کی سماعت کر سکتی ہے تو پھر جس بھی شہری کا جہاں کیس ہوگا اسے وہاں ہی جانا پڑے گا، انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف اور ماڈل واداکارہ ایان علی کے مقدمات کا بھی حوالہ دیاجس پر فاضل بنچ نے کہا کہ آپ کیسے سمجھتے ہیں پرویز مشرف کیس اس کیس کے لئے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے؟ پرویز مشرف کو کسی عدالت نے سزا نہیں سنائی،آپ کاموکل نوازشریف تو سزا یافتہ ہے، عدالت نے استفسار کیا میاں نواز شریف کا نام نیب اسلام آباد یا نیب لاہور میں سے کس کی سفارش پر ای سی ایل میں شامل کیا گیا؟امجد پرویز نے کہا کہ خط سے لگتا ہے وہ نیب کا خط اسلام آباد سے جاری ہوا، نیب لاہوربھی اس میں آن بورڈ تھا،امجد پرویز نے مزید کہا نیب نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے اور نکالنے کے فیصلے میں اس کاکوئی کردار نہیں، نیب کی سوچ میڈیا ذرائع اور رپورٹس پر کھڑی ہے، فاضل بنچ نے کہا نیب نے سارامعاملہ حکومت پر ڈال دیاہے،امجد پرویز ملک نے کہا کہ وفاقی حکومت نے نواز شریف کی تشویش ناک حالت کوتسلیم کیاہے اور اس نکتہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان سے استفسارکیا کہ یہ درخواست کیسے قابل سماعت نہیں ہے؟اگر کوئی درخواست گزار کراچی کا رہائشی ہو توکیا وہ وفاق کے خلاف اپنے قریبی علاقے کی ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کر سکتا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ہر کیس کو اس کے حالات کے مطابق دیکھا جائے گا،عدالتی نظیر موجودہے،سندھ ہائی کورٹ نیب اسلام آباد کے خلاف ایک درخواست خارج کرچکی ہے،درخواست گزار کے وکیل نے جتنے کیسز کا حوالہ دیا ہے ان کی نوعیت زیر نظر کیس سے مختلف ہے، میاں نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالتوں نے سزا سنائی،اپیلیں بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں،اس لئے یہ درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر ہوناچاہیے تھی،لاہورہائی کورٹ کو اس کی سماعت کا اختیار نہیں ہے۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے اپنے ابتدائی دلائل کا اعادہ کیا کہ میاں نواز شریف سزایافتہ ہیں،ان کی قید کی سزا معطل ہوئی ہے،جرمانے کی سزا برقرارہے،وفاقی حکومت کی طرف سے 45 صفحات پر مشتمل جواب میں بھی درخواست کو ناقابل سماعت قراردے کر مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے،وفاقی حکومت کے جواب میں کہاگیاہے کہ نواز شریف کے خلاف مختلف عدالتوں میں مقدمات زیر سماعت ہیں۔ اسلام آباد کی عدالتوں سے انہیں سزاہوچکی ہے،جس میں جرمانہ کی سزا بھی شامل ہے، جرمانہ ختم ہونے تک انہیں ضمانتی بانڈ کے بغیر باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،وہ سزایافتہ مجرم ہیں انہیں انڈیمنٹی بانڈ کے بغیرباہرجانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،حکومت نے نواز شریف کو علاج کی خاطرچار ہفتے کے لئے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی ہے،نواز شریف کا نام نیب کے کہنے پر ای سی ایل میں شامل کیاگیا،لاہور ہائیکورٹ کو اس درخواست کی سماعت کا اختیار نہیں،فاضل بنچ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیاجو تھوڑی دیر بعد سنا دیاگیا،فیصلہ سنانے کے بعد فاضل بنچ نے کہا کہ ہم یہ تاثر دینا نہیں چاہتے کہ نواز شریف کی درخواست کی سماعت میں جلدی کی گئی،ہم فریقین کو وقت دیناچاہتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمدخان نے استدعا کی کہ درخواست کی سماعت پیر تک ملتوی کردی جائے،شریف برادران کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ کیس کی سماعت ہفتہ کے روز رکھ لی جائے،جس پر فاضل بنچ نے کہا ہفتہ کو عدالتی امور نہیں نمٹائے جاتے ہم غیر معمولی کام نہیں کرسکتے جس پرامجد پرویز نے کہا کہ یہ معاملہ غیر معمولی نوعیت کا ہے،یہ انسانی زندگی کا معاملہ ہے،جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے انسانی بنیادوں پر ہی نواز شریف کو انڈیمنٹی بانڈ کی شرط کے ساتھ باہر جانے کی اجازت دی ہے،اگر اتنی جلدی تھی تو یہ اسی وقت جا کر بانڈز جمع کروادیتے،عدالت نے شہباز شریف کے وکیل اشتراوصاف علی سے کہا کہ آپ وفاقی حکومت کے وکیل کو منالیں،ہم ہفتہ کو کیس کی سماعت کرلیں گے،جس پر اشتر اوصاف علی نے کہا کہ کیا اب وفاقی حکومت کے وکیل عدالت کو ڈکٹیٹ کریں گے، جس پر فاضل بنچ نے کیس کی مزید سماعت آج 16نومبربروز ہفتہ پرملتوی کردی،عدالت آج صبح 11بجے اس کیس کی سماعت کرے گی،فاضل بنچ نے تین صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں مختلف عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے قراردیا کہ صوبائی ہائی کورٹس کو وفاق کے خلاف رٹ درخواستوں کی سماعت کا اختیار حاصل ہے،فاضل بنچ نے قراد دیاکہ درخواست گزار میاں شہباز شریف اورمیاں محمدنواز شریف دونوں لاہور کے رہائشی ہیں،میاں نواز شریف کے خلاف چودھری شوگرملز کیس کی انکوائری بھی نیب لاہور کررہاہے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے جب 29اکتوبر 2019ء کو میاں نواز شریف کی عبوری ضمانت منظور کی تو انہوں نے کچھ مزید اقدامات اور کارروائی کے لئے معاملہ پنجاب حکومت کو ریفر کیا، ایسی صورت میں اس درخواست کی سماعت کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار پراعتراض کی تائید نہیں کی جاسکتی،سماعت کے دوران مسلم لیگ (ن)کے راہنماانجینئر امیر مقام، احسن اقبال، عظمیٰ بخاری،پرویزملک اورعطاء اللہ تارڑ بھی عدالت میں موجود رہے۔

لاہور(جنرل رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ہے کہ نواز شریف کی صحت روز بروز خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے اور یہاں تک کے رگیں بلاک ہوتی جا رہی ہیں جس سے ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے اس امر کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز میڈیا کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دماغ کو خون سپلائی کرنے والی رگیں پچاس سے اسی فی صد بند ہو چکی ہیں، شوگر کی وجہ سے نواز شریف کے گردے کام نہیں کر رہے جب کہ ان کے پلیٹیلیٹس کیوں کم ہو رہے ہیں اس کی تشخیص نہیں ہو پا رہی۔انھوں نے کہا کہ نواز شریف کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے، انہیں پلیٹیلیٹس کی کمی کی وجہ سے دل کا دورہ بھی پڑا، حکومتی میڈیکل بورڈ بھی اس نتیجے پر پہنچا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں نہیں ہو سکتا جس کی وجہ سے بورڈ نے نوازشریف کے بیرون ملک علاج کے لیے سفر کرنے کی سفارش کی، اس میں تاخیر نواز شریف کی صحت اور زندگی پرسنگین مضر اثرات مرتب کرسکتی ہے۔۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر طاہر شمسی نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے جسم پر سوجن اور ادویات کے منفی اثرات نمایاں ہیں۔اس حوالے سے ترجمان مسلم لیگ نون مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ شریف میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹرز کا اجلاس ہوا، انہوں نے نواز شریف کا طبی معائنہ کیا، پلیٹ لیٹس کم ہونے کی تشخیص کے بغیر ادویات دے کر خطرہ مول لیا جا رہا ہے، طبی لحاظ سے بار بار اسٹیرائڈز کی ہائی ڈوز انتہائی خطرناک ہے، مرض کی تشخیص کے بغیر یہ خطرہ مول لیا جا رہا ہے۔مریم اورنگزیب نے قوم سے خصوصی دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا ڈاکٹرز نواز شریف کے جسم پر سوجن میں کمی لانے کی کوشش کر رہے ہیں، بیرون ملک علاج میں تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا پلیٹ لیٹس بڑھانے کی کوشش میں ہارٹ اٹیک کے خطرات بڑھ گئے ہیں، ڈاکٹر نے واضح کیا ہے کہ جلد ہی نواز شریف کو بیرون ملک منتقل نہ کیا گیا تو معاملہ پاکستانی ڈاکٹرز کے ہاتھ سے نکل جائے گا، گردوں اور دیگر اعضا کے متاثر ہونے کے خطرات میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔اس سے قبل پروفیسر طاہر شمسی نے جاتی امراء جا کر سابق وزیر اعظم کا تفصیلی طبی معائنہ کیا جبکہ نوازشریف کے میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا عمل دوبارہ دوہرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ڈاکٹر عدنان کے مطابق سابق وزیراعظم کے جسم پر سوجن اور دیگر اثرات کے پیش نظر ادویات میں ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے پروفیسر شمسی آج ہفتہ صبح دوبارہ محمد نوازشریف کا معائنہ کریں گے اور مختلف ٹیسٹوں کا جائزہ لیں گے۔ڈاکٹرز کے مطابق نواز شریف کو لا حق مرض کی تشخیص میں مزید تاخیر کی قطعاًگنجائش نہیں اور ہر لمحہ خطرہ بڑھ رہا ہے۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف نے جاتی امراء میں اپنے بڑے بھائی نواز شریف کی عیادت کی اور ڈاکٹروں سے بھی مشاور ت کی۔ شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف،بھتیجی مریم نواز کو لاہو رہائیکورٹ میں گزشتہ روز ہونے والی سماعت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔

مزید : صفحہ اول