شہباز کی جگہ ہو تا تو گارنٹی دے کر بھائی کا علاج کرواتا:وزیر اعظم

شہباز کی جگہ ہو تا تو گارنٹی دے کر بھائی کا علاج کرواتا:وزیر اعظم

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افسوس ہے شریف خاندان نواز شریف کے علاج کے بجائے اس پر سیاست کر رہا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ن لیگ کی جانب سے ضمانتی بانڈ نہ دینے کی کوئی منطق سمجھ سے بالا ہے، حکومت نے ان سے کون سے پیسے مانگ لیے ہیں؟انہوں نے کہا کہ لگتا ہے شریف خاندان نواز شریف کی صحت پر اپنی سیاست چمکا رہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ اگر وہ شہباز شریف کی جگہ ہوتے تو کسی بھی قسم کی گارنٹی دے کر اپنے بھائی کا علاج کرواتے۔انہوں نے کہا کہ شریف خاندان عدالت سے ریلیف لینا چاہتا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، وہ عدالت کے فیصلے کو من و عن تسلیم کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف بیمار ہیں اور ان کو بہتر علاج کیلئے باہر جانا چاہیے، میری نظر میں نواز شریف کی جان زیادہ عزیز ہے، سیاست ہوتی رہتی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت نے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے لیے قانون میں لچک ڈھونڈی۔وزیر اعظم نے حکومتی ترجمانوں کو نواز شریف کی صحت پر بیان بازی سے اجتناب کی ہدایت بھی کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ملک میں سڑکیں بند کر کے عوام کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں۔نجی کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں نوازشریف کی صحت، ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نام نکالنے اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ ف) کے دھرنے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وزیراعظم نے خیبرپختونخوا، پنجاب اور وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کا عندیہ دیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ’پہلے بھی کہا تھا جس کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہوگی اسے فارغ کریں گے، میں نے اپنا کام مکمل کر لیا،بہت جلد اس کا اعلان کروں گا‘۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پارٹی عہدیدار ضلعی انتظامیہ سے مل کر ذخیرہ اندزوں کی نشاندہی کریں، ملک میں مصنوعی مہنگائی دکھا کرحکومت کو ناکام بنانے کی سازش ہورہی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آزادی مارچ کے دوران جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کی تقاریر پر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے دوران موجودہ سیاسی صورتحال پر کھل کر اظہارخیال کیا۔ اجلاس میں نواز شریف کی بیماری اور ای سی ایل میں نام کے معاملے پر مشاورت بھی کی گئی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کی اداروں پر تنقید کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے دوران کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے دوران مذہب کارڈ استعمال کیا، جے یو آئی (ف) کے دھرنے سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس کے دوران میڈیا کے امور دیکھنے کیلئے 4 رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔4 رکنی کمیٹی میں مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین، سابق وفاقی وزیر خزانہ اور پی ٹی ا?ئی کے سینئر رہنما اسد عمر، وفاقی وزیر فواد چودھری کمیٹی ممبران میں شامل ہونگے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی عوامی فلاح کے لیے اقدامات کی میڈیا پر آگاہی سے متعلق حکمت عملی طے کرے گی، حکومت کی کارکردگی کو عوام میں بہتر طور پر پیش کرنے اے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سینیٹر شبلی فراز اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پارلیمانی امور سے متعلق حکمت عملی اور قانون سازی سے متعلق حکمت عملی مرتب کریں گے۔

وزیراعظم

مزید : صفحہ اول