قومی اسمبلی،حساب برارب،اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد،حکومت نے منظور کرائے گئے 9آرڈیننس اور 2بل واپس لے لئے

قومی اسمبلی،حساب برارب،اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد،حکومت ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)حکومت اور اپوزیشن  کے درمیان قومی اسمبلی کے ماحول کو بہتر بنانے اور قانون سازی کے طریق کار پر اتفاق رائے ہوگیا  جس کے بعد اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر کیخلاف  عدم اعتماد کی تحریک اور حکومت نے بلوں کی شکل میں منظور کروائے گئے   9آرڈیننسوں سمیت  11 بل واپس لے لئے۔حکومت تمام آرڈیننس واپس لیکر ان کو مزید غور وخوض  کیلئے  قائمہ کمیٹیوں کو بھجوائے گی جس میں بحث کے بعد انہیں منظور کرنے یا ناکرنے کا فیصلہ ہو گا۔جمعہ کو قومی اسمبلی  اجلاس سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے مابین مسلسل دوسرے دن اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کیخلاف عدم اعتماد کی  قرار داد اور حکومت کی طرف سے 7 نومبر 2019ء کو ہونے والی قانون سازی سے متعلق مشاورت کی گئی،اجلاس  میں حکومت اور اپوزیشن میں معاملات طے پا گئے۔جس کے بعد سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا،جس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ فیصلہ ہوا ہے کہ 7 نومبر کو جو بل اور آرڈیننسز ایوان میں منظور ہوئے انہیں چار کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے تحت میڈیکل ٹربیونل بل  اور میڈیکل کمیشن بل کو بھی ایوان میں زیر بحث لاکر اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔ لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن آرڈیننس کے حوالے سے فیصلہ ہوا ہے کہ یہ بل واپس لے کر اسی دن کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر بحث لاکر اتفاق رائے سے منظور کیا جائے گا۔ اسی طرح انفورسٹمنٹ آف وومن پراپرٹی رائٹس آرڈیننس بھی آئندہ سیشن میں حکومت واپس لے کر اسی دن اتفاق رائے سے منظور کرے گی۔ لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی آرڈیننس‘ اعلیٰ عدالتیں لباس اور انداز مخاطب آرڈیننس  ابھی تک کمیٹی میں زیر بحث ہے اس کو بھی واپس لے کر اتفاق رائے سے منظور کرایا جائے گا۔ وسل بلوور آرڈیننس پر بھی مزید بحث کراکے اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل ٹریبونل آرڈیننس کو بھی واپس لے کر کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس بھی حکومت واپس لے کر کمیٹی کے سپرد کرے گی۔  پیپلزپارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ تمام امور اتفاق رائے سے طے پائے ہیں۔ دو بل باقی ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اعظم سواتی نے کہا کہ بے نامی ٹرانزیکشن امتناع (ترمیمی) آرڈیننس کو بھی دوبارہ پیش کرکے کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔  قومی احتساب آرڈیننس بل‘ بھی واپس لے کر کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن)کے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ سات نومبر کو ایوان میں ہونے والی قانون سازی کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کا اتفاق ہوگیا ہے بلوں پر مزید غور ہوگا،متعلقہ کمیٹیاں اب ان بلز کو دیکھیں گی اور بلز متفقہ طور پر منظور ہوں گے یا مسترد ہوں گے۔   ہم نے اس حوالے سے ڈپٹی سپیکر کے خلاف احتجاجاً تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی اگر حکومت ہماری بات مان لیتی تو ایسی نوبت ہی نہ آتی۔ ہم بھی ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک واپس لے لیتے ہیں۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن کے شکرگزار ہیں۔ کل بھی اجلاس ہوا آج بھی اجلاس ہوا‘ ہم اسمبلی کے ماحول کے حوالے سے اتفاق رائے تک پہنچ گئے۔ ہم مل جل کر اسمبلی کا ماحول بہتر بنائیں گے۔ مستقبل میں کسی طرف سے بھی اسمبلی کا ماحول خراب نہیں ہوگا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اسمبلی بہتر انداز میں چلے کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایوان کا ماحول بہتر بنانے کیلئے اتفاق رائے ہو گیا‘ ہماری کوشش ہے کہ مل جل کر پاکستان کو ترقی کی منازل سے ہمکنار کریں گے اور ایوان میں کسی جانب سے بھی کوئی ایسی بات نہیں ہوگی جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔پیپلز پارٹی کے  راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جن جن ارکان اور رہنماؤں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کے لئے کردار ادا کیا ہے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پارلیمنٹ کی عزت و توقیر پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی عزت و توقیر ہے۔ ہمیں عوام کے مفادات کے لئے قانون سازی کرنی چاہیے۔ قانون سازی واپس لے کر حکومت نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی طرح ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے کر اپوزیشن نے بھی بڑے پن کا مظاہرہ کیا۔ تحریک انصاف کے  رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے پر اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ حکومت کی عددی اکثریت میں کوئی شک و شبہ نہیں تاہم سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کو ہم متنازعہ نہیں بنانا چاہتے۔ قاسم خان سوری نے ڈپٹی سپیکر کے طور پر اپنے فرائض احسن طور پر انجام دیئے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ہمارا نظریہ اور دلیل مضبوط ہے۔ اپوزیشن کو ہمارا نظریہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔  معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو گیا تاہم جس چیز کا مینڈیٹ لے کر آئے ہیں اس کو پورا کرنا ہے،حکومت 5سال مکمل کرے گی۔ مسلم لیگ (ن)کے سردار ایاز صادق نے کہا کہ ہم حکومت کو خوش اسلوبی سے چلانا چاہتے ہیں اور اس بات کے خواہاں ہیں کہ اجلاس میں قانون سازی ہونی چاہیے۔ وقفہ سوالات بھی بامعنی ہونا چاہیے۔ اس سے پارلیمنٹ کا وقار بڑھے گا،جے یو آئی (ف) کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا وقار تب ہی بلند ہوگا جب یہاں ہم بہترین طریق کار اور بہترین انداز گفتار کے ذریعے اپنا کردار ادا کریں گے  ہمیں مشترکات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ ایم کیو ایم کے  امین الحق نے کہا کہ ایم کیو ایم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تاہم ہم جمہوری روایات پر چلتے ہوئے پارلیمنٹ کی بالادستی کے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ف) کے رکن غوث بخش مہر نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن نے اہم اقدام اٹھایا ہے۔ ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپسی احسن ہے۔واضح رہے کہ اپوزیشن نے 7نومبر کی قومی اسمبلی کی کارروائی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، 7 نومبر کو حکومت نے 9 آرڈیننس اور 2 منظور کروائے تھے۔جس کے بعد مسلم لیگ (ن)انتقاما مرتضی جاوید عباسی اور محسن شاہنواز رانجھا کے ذریعے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائے تھے۔دریں اثناحکومتی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ فنکشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو غیر مشروط طور پر علاج کیلئے بیرون ملک روانہ کیا جائے اور اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر ایم کیو ایم کے رکن  امین الحق نے کہا کہ ایم کیو ایم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تاہم ہم جمہوری روایات پر چلتے ہوئے پارلیمنٹ کی بالادستی کے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ ہمیں قائمہ کمیٹیوں کو مضبوط کرنا چاہیے۔ ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے کا اقدام حسن ہے۔ اس ایوان کے جو ارکان کسی وجہ سے گرفتار ہیں ان کے پروڈکشن آرڈر کا اجراء کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا یہ اعلان ہے کہ کسی بیمار شخص پر سیاست نہ کی جائے۔ ہم نے نواز شریف کی صحت یابی کے لئے دعا کی۔نواز شریف کو علاج کے لئے غیر مشروط باہر جانے کی اجازت دی جائے۔  مسلم لیگ (ف) کے رکن غوث بخش مہر نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن نے اہم اقدام اٹھایا ہے۔ ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپسی احسن ہے۔ نواز شریف کو علاج کے لئے غیر مشروط باہر بھیجا جائے اس پر سیاست نہ کی جائے۔  بی این پی کی رکن ڈاکٹر شہناز بلوچ نے کہا کہ اتفاق‘ مینڈیٹ سے عوام کے مسائل کا حل اسی ایوان میں ہے۔ اختر مینگل کے چھ نکات پر بہت سست روی سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔ مفاہمت کا جو عمل آج چلا ہے یہ ہماری کامیابی ہے۔

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،آئی این پی)قومی اسمبلی کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ ملک کو صرف سیاستدانوں نے ہی نہیں لوٹا بلکہ اور بھی لوگ ہیں جنہوں نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے‘ بیرون ملک جن جن لوگوں نے ملک کو لوٹ کر رقم منتقل کی ہے وہ رقم واپس لانے کے لئے کوشش کی جارہی ہے، مختلف اداروں میں اصلاحات کے لئے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیٹی کے اب تک 1350 سے زائد اجلاس ہوچکے،2018-19ء کے دوران بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحقین میں 104 ارب روپے کی رقم ادا کی گئی‘ بی آئی ایس پی کا نیا سروے2020ء میں مکمل ہوگا،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو وزیر مملکت کا درجہ دیا گیا ہے، دوہری شہریت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جارہا ہے‘ عدالت نے دوہری شہریت رکھنے والوں کو ملازمت ترک کرنے کی ہدایت نہیں کی بلکہ پالیسی سازی کے فیصلے کا معاملہ حکومت پر چھوڑ دیا ہے‘ یہ معاملہ سیکرٹریز کمیٹی کے پاس زیر التواء ہے‘ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پابند ہیں کہ وہ اس حوالے سے متعلقہ قواعد و ضوابط یا پالیسیوں یا ایس او پیز کی ترمیم کے امکانات تلاش کریں اور نئے قانون‘ قواعد و ضوابط اور پالیسیاں متعارف کرائیں۔ان خیالات کا اظہار وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔ رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے 200 ارب ڈالر منتقل ہونے والے غیر ملکی اثاثوں کی واپسی کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر مملکت علی محمد خان نے بتایا کہ مبینہ طور پر کابینہ ڈویژن کی جانب سے 27 اگست کو ٹاسک فورس قائم کی گئی، 200 ارب ڈالر یا 300 ارب ڈالر ریکارڈ پر موجود نہیں ہے، پاکستان کو صرف سیاستدانوں نے نہیں لوٹا‘ باقی بھی جن جن لوگوں نے ملک کو لوٹا ہے ان کی رقم واپس لانے کے لئے کوشش کی جارہی ہے۔رکن محمد افضل کھوکھر کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت علی محمد خان نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے جو مختلف اداروں میں اصلاحات کے لئے سفارشات تیار کر رہی ہے۔ اب تک تھنک ٹینکس‘ سٹیک ہولڈرز‘ تربیتی اداروں اور پیشہ وارانہ گروپوں پر مشتمل اس کمیٹی کے اب تک 1350 اجلاس منعقد ہوئے ہیں۔رکن شنیلا رتھ کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت علی محمد خان نے بتایا کہ وفاقی ملازمتوں میں اقلیتوں کا پانچ فیصد کوٹہ ہے۔ ایک ہزار 821 سرکاری ملازمین اور خودمختار اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد 315 ہے۔ وفاقی حکومت کے زیر انتظام خودمختار اداروں میں کام کرنے والے اقلیتی ملازمین کی تعداد 25ہزار 828 ہے۔ تمام وزارتوں کو چیئر کی جانب سے یہ احکامات جاری کئے جائیں کہ وہ اقلیتوں کے کوٹہ کے حوالے سے تفصیلات فراہم کریں۔رکن شمیم آراء کے سوال کے جواب میں علی محمد خان نے بتایا کہ 2018-19ء کے دوران بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحقین میں 104 ارب روپے کی رقم ادا کی گئی۔ وسیلہ تعلیم پروگرام 50 اضلاع میں آپریشنل ہے۔ بی آئی ایس پی کا نیا سروے کیا جارہا ہے جس میں کوشش کی جارہی ہے کہ سیاسی بنیادوں پر نام شامل نہ ہوں اور مستحق لوگ شامل ہوں۔ اس سروے کے لئے ملک کو آٹھ گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ سروے 2020ء میں مکمل ہوگا۔ رکن عبدالکریم بجاڑ کے سوال کے جواب میں علی محمد خان نے بتایا کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو دی جانے والی مراعات قانون کے مطابق ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو وزیر مملکت کا درجہ دیا گیا ہے جسے وہ وفاقی وزراء اور وزراء مملکت ایکٹ 1975ء کے تحت عموماً وزیر مملکت کو دستیاب تنخواہ‘ الاؤنسز اور مراعات کا استحقاق رکھتی ہیں۔ یہ تصدیق کی جاتی ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان خصوصی معاون وزیراعظم برائے اطلاعات و نشریات کو وزیر انچارج وزارت اطلاعات و نشریات کے اختیارات تفویض نہیں کئے گئے ہیں۔رکن محمد اسلم خان کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں دوہری شہریت کا حامل فرد اہم عہدہ نہیں رکھ سکتا۔ اگر کوئی سیکرٹری یا پارلیمنٹرین دوہری شہریت کا حامل ہے تو یہ اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے کارروائی کے طریق کار 1973ء کے تحت اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ معاملہ غور و خوض کے لئے سیکرٹریز کمیٹی کو بھجوایا جائے اور سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق پالیسی سفارشات وضع کی جائیں۔ عملہ ڈویژن نے نو مارچ 2019ء کو سیکرٹریز کو ورکنگ پیپر بھیج دیا تھا۔ سیکرٹریز کمیٹی نے 20 جون 2019ء کو اپنے اجلاس میں مشاہدہ کیا کہ سپریم کورٹ کا حکم استقراریہ نوعیت کا نہ تھا۔ مزید یہ کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ہر ممکن زاویوں اور نتائج پر غور و فکر کے بعد کوئی اور قدم اٹھانا چاہیے۔ سیکرٹری کمیٹی نے معاملات پر غور کرنے کے لئے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جس کی سفارشات ابھی تک موصول نہیں ہوئیں۔ عدالت نے دہری شہریت رکھنے والوں کو ملازمت ترک کرنے کی ہدایت نہیں کی بلکہ پالیسی سازی کے فیصلے کا معاملہ حکومت پر چھوڑ دیا ہے۔ یہ معاملہ سیکرٹریز کمیٹی کے پاس زیر التواء ہے۔جیمز اقبال کے سوال کے جواب مین وزارت تعلیم نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ اس وقت ملک بھر میں 124 سرکاری یونیورسٹیاں ہیں،پنجاب میں 34،وفاق میں 27،سندھ میں 23،خیبر پختونخوا میں 27،بلوچستان میں 8اور آزاد جموں و کشمیر میں 5سرکاری یونیورسٹیاں ہیں۔

وقفہ سوالات

مزید : صفحہ اول