کلیریکل مسٹیک،لاہور ہائیکورٹ  کے فیصلے میں العزیزیہ کیس کی  بجائے ایون فیلڈ ریفرنس کا نام

  کلیریکل مسٹیک،لاہور ہائیکورٹ  کے فیصلے میں العزیزیہ کیس کی  بجائے ایون ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کی طرف سے میاں نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکلوانے کے لئے دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے کی بابت جوتحریری فیصلہ جاری کیا گیاہے اس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 29اکتوبر2019ء کے العزیزیہ کیس میں فیصلے کوغلطی سے ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے سے منسوب کیا گیاہے،عدالت عالیہ کے ڈویژن بنچ نے اپنے تحریری فیصلہ کے صفحہ نمبردو پر قراردیاہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جب رٹ درخواست نمبر3716/19کا29اکتوبر2019ء کو فیصلہ سناتے ہوئے میاں نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطل کی تو اسلام آباد ہائی کورٹ نے کچھ مزید اقدامات اور کارروائی کے لئے معاملہ پنجاب حکومت کو ریفر کیا۔دراصل اسلام آباد ہائی کورٹ نے 29اکتوبر2019ء کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نہیں بلکہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی 8ہفتوں کے لئے عبوری ضمانت منظورکی تھی، ایون فیلڈ ریفرنس میں تواسلام آباد ہائی کورٹ سے ستمبر2018ء میں میاں نواز شریف کی سزامعطل ہوگئی تھی جس میں پنجاب حکومت کو معاملہ ریفر نہیں کیاگیا تھا،اسلام آبادہائی کورٹ نے29اکتوبر 2019ء کو العزیزیہ ریفرنس میں میاں نواز شریف کو احتساب عدالت سے ملنے والی سزا معطل کرتے ہوئے معاملہ پنجاب حکومت کو ریفر کیا تھا اور8ہفتوں کی عبوری ضمانت میں توسیع کے لئے میاں نواز شریف کو پنجاب حکومت سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی،عدالتی ذرائع کا کہناہے کہ لاہورہائی کورٹ کے عبوری فیصلے میں العزیزیہ ریفرنس کی بجائے ایون فیلڈ ریفرنس کا تحریر کیا جانا محض "کلیریکل مسٹیک "ہے،جسے حتمی فیصلے میں درست کرلیا جائے گا۔

کلیریکل مسٹیک

مزید : صفحہ اول