سلیکٹڈ کو نکال دینگے،اگلے سال نیا وزیر اعظم ہوگا:بلاول

  سلیکٹڈ کو نکال دینگے،اگلے سال نیا وزیر اعظم ہوگا:بلاول

  



اسلام آباد (آن لائن) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی سول نا فرمانی میں مولانا فضل الرحمن کی حمایت نہیں کریگی،مولانا نے پلان بی اور سی سے متعلق ہمیں نہیں بتایا، تفصیلات جانے بغیر ان کی حمایت پر بات نہیں کرسکتا، آزادی مارچ کامیاب رہا، سلیکٹڈ وزیراعظم کے ہٹنے کے امکانات بڑھے ہیں، کم نہیں ہوئے،یقین سے کہتا ہوں کہ سلیکٹڈ وزیراعظم اگلے سال تک نہیں رہے گا اگلے سال نیا وزیراعظم ہو گا، مولانا کے پلان بی کے حوالے سے مولانا کا رابطہ (ق) لیگ سے ہے، پیپلز پارٹی کو نہیں بتایا گیا کہ (ق) لیگ سے کیا بات ہوئی ہے، پیپلز پارٹی 30 نومبر کو اپنا یوم تاسیس آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ منائے گی اورا س میں اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھے گی، ملک میں پہلی مرتبہ سلکیٹڈ حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں، ملک کی خارجہ پالیسی تاریخی بحران سے گزر رہی ہے دنیا میں کوئی ایسا قانون نہیں کہ جرم کہیں اور ہوا ہو اور اس کا ٹرائل کہیں اور ہو رہا ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی میں پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری اور فرحت اللہ بابر کی بہت اچھی کوآرڈینیشن رہی جس کو ہم سراہتے ہیں ہم نے مولانا فضل الرحمن سے وعدہ کیا تھا کراچی سے لے کر اسلام آباد تک ان کے ساتھ رہیں گے اور میں نے دھرنے میں دو بار تقریر کی اور پیپلز پارٹی کے کارکن جگہ جگہ استقبال کرتے رہے، پیپلز پارٹی کی عوامی رابطہ مہم جاری ہے گلگت بلتستان سے لے کر تمام صوبوں میں احتجاجی پروگرام ہوں گے انہوں نے کہاکہ یوم تاسیس کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھے گی۔ پیپلز پارٹی کا موقف کشمیری عوام کے سامنے ہو گا کیونکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھی ہے جب تک ان کو انصاف نہیں مل جاتا۔ 

بلاول 

مزید : صفحہ اول