سکھ یاتریوں نے کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں ناقص انتظامات کے پول کھول دیئے

  سکھ یاتریوں نے کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں ناقص انتظامات کے پول ...

  



لاہور (جاویداقبال)متروکہ وقف املاک بورڈکے افسروں کی غفلت اور مبینہ طور پر رقم بچانے کے لالچ نے کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں سکھ مہمانوں کو ناقص کھانا فراہم کر دنیا بھر میں ملک کا مذاق اڑوایا، متروکہ وقف املاک کے افسروں کی کوتاہی نے دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں نے اپنے ممالک میں پاکستان کی جنگ ہنسائی کی، متروکہ وقف املاک کے افسروں نے خود کو بچانے کیلئے ملبہ گوردوارہ کمیٹی پر ڈال دیا جبکہ اس بد عنوانی میں میں ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر فراز،ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن پرچیز اور سیکرٹری ملوث ہیں اس امر کا اظہار اور انکشاف پاکستان آئے ہوئے سکھ یاتریوں نے مختلف تقریبات میں کیا۔لندن اور دبئی سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں کے وفودبوٹا سنگھ رنجیت سنگھ ملوترا نے وزیراعظم پاکستان کو اپنی شکایاتی مراسلوں میں لکھا ہے کہ کرتار پور دربار صاحب راہداری کے افتتاح کے موقع پر دنیا بھر سے سات ہزار کے قریب سکھ آئے جن میں اکثریت بھارت سے آئے ہوئے یاتریوں کی تھی، محکمہ متروکہ وقف املاک کے افسروں نے انتہائی ناقص انتظامات کیساتھ ساتھ دیا جانے والاکھانا بھی غیرمعیاری تھا۔باباجی کے لنگر کے لیے لاکھوں روپے متروکہ وقف املاک کے بعض افسر کھا گئے، فنڈز متروکہ املاک بورڈ نے دیئے اور فنڈز ہضم کرنے کے لئے نام گردوارہ کمیٹی کا استعمال کیا گیا کہ کھانا کے انتظامات گردوارہ کمیٹی نے کیے ہیں، دوسری طرف کھانا کم پڑ گیا جس سے درجنوں سکھ یاتری بھوکے رہے۔دوسری طرف یہ عالم ہے کہ اس غیر معیاری اور ناقص کھانا کھانے سے درجنوں سکھ یاتری پیٹ کے امراض میں مبتلا ہوکر ہسپتالوں میں پہنچ گئے،انتظامیہ کی بدانتظامی کا یہ عالم تھا کہ سینکڑوں سکھ یاتری اپنے جوتوں سے محروم ہوگے متروکہ املاک کے افسروں سمیت دیگر عملے نے گردوارے میں آئے ہوئے سکھ یاتریوں کے مہنگے ترین امپور ٹڈ جوتے چوری کرا دئے جوواش روم بنائے گئے تھے وہاں انتہائی گندے اور پانی سے محروم تھے،صاف پینے کے پانی کی بھی شدید قلت تھی موقع پر لگائے گئے امدادی کیمپ میں ادویات تک نہ تھی،مراسلوں میں مطالبہ کیا گیا کہ افتتاحی تقریب کے موقع پر ہونیوالی  بدانتظامیوں کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرکے قومی خزانے سے کھانے کے نام پر لوٹا گیا پیسہ فوری واپس لیا جائے۔ اس حوالے سے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر فراز سے بات کی گئی انہوں نے کہا کہ میں ذمہ دار نہیں ہوں، ذمہ دار ایڈ منسٹریٹر اورسیکرٹری طارق وزیر ہیں کیونکہ میراکام صرف دعوت نامہ تقسیم کرنا تھا جبکہ کھانے وغیرہ کے انتظامات کی ذمہ داری سیکرٹری کی تھی اس پر سیکرٹری طارق وزیر سے بات کی گئی انہوں نے کہا کہ کھانا گردوارہ کمیٹی نے بنایا اور تقسیم کیا اگر کوئی بدانتظامی ہوئی ہے تو وہ ذمہ دار ہیں کیونکہ گردوارہ کمیٹی نے جتنے فنڈ مانگے ہم نے انہیں دئیے،ہمارا کام سکیورٹی فراہم کرنا تھا کھانا دینانہیں پھر بھی اگر کوئی معاملہ ہے تو دیکھ لیں گے کیونکہ جہاں تک میرا خیال ہے کھانا اور انتظامات اچھا تھا۔

ناقص انتظامات 

مزید : صفحہ اول