بھارتی ظلم و بجر کو 104روز ہو گئے،امریکی کانگریس کا مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے کا مطالبہ

بھارتی ظلم و بجر کو 104روز ہو گئے،امریکی کانگریس کا مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ...

  



سرینگر،واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظلم اور جبر کو 104مکمل روز ہو گئے۔ امریکی کانگریس کے انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ وادی سے کرفیو ہٹانے اور مواصلاتی رابطے بحال کرنے کا مطالبہ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق104 روز ہونے کے باوجود مقبوضہ وادی میں جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں، سرینگر سمیت تما م بڑے شہروں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے، موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ معطل ہونے کی وجہ سے کشمیریوں کا ساری دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔دوسری جانب واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے انسانی حقوق کمیشن میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، امریکی کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے وادی سے پابندیاں اٹھانے اور صحافیوں کے داخلے کا مطالبہ کیا ہے۔امریکی اراکین کانگریس نے مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورت حال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے وادی میں عائد کی جانے والی پابندیاں انتہائی قابل مذمت ہیں۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی کانگریس کی حقوق انسانی سماعتی کمیٹی کے اجلاس کے دوران رکن کانگریس پر امیلاجے پال نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات انتہائی باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا وادی میں بغیر مقدمات کے لوگوں کو گرفتار کرنا، مواصلاتی پابندیاں اور کسی تیسرے فریق کو وہاں کے دورے کی اجازت نہ دینا ہمارے قریبی اور حساس تعلقات کیلئے بھی خطرناک ہے۔ ڈیموکریٹس رکن کانگریس شیلاجیکسن نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وادی کشمیر میں بھارتی اقدامات سے مسلم کمیونٹی کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کے اقدامات سے ایسا لگ رہا ہے کہ بھارتی ہونے کیلئے ہندو ہونا یا ہندونظریات کا ماننا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے کشمیر میں اپنا موجودہ رویہ برقرار رکھا تو کشمیریوں کے حقوق اور آزادی کیلئے یہ سنگین خطرہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کو مزید خطرناک ہونے سے روکنے کیلئے عالمی برادری کو بھی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں برطانیہ کے سابق سفیر نے بھی مسئلہ کشمیر کو فوری حل کرنے پر زور دیا ہے،اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سابق سفیر سر مارک لائل گرانٹ نے کہا ہے عالمی برداری مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں مدد کرے ورنہ مستقبل میں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی

مقبوضہ کشمیر / امریکی کانگریس 

مزید : صفحہ اول