حکومت کے پاس فسادی عناصر سے متعلق بنیادی سوالوں کا جواب کیوں نہیں:چیف جسٹس

حکومت کے پاس فسادی عناصر سے متعلق بنیادی سوالوں کا جواب کیوں نہیں:چیف جسٹس

  



اسلام آباد(سٹاف ر پورٹر) فاٹا، پاٹا ایکٹ سے متعلق سپریم کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر جاری کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے کیس سے متعلق کاغذوں میں تو اچھی چیزیں دکھائی ہیں۔ عملی طور پر کیا ہوتا ہے یہ د یکھنا الگ چیز ہے۔ وفاقی حکومت کیا 25 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کر رہی ہے اگر فاٹا، پاٹا ایکٹ کے تحت چیزیں لیگل ہیں تو وفاق اور صوبائی حکومت کے پاس فسادی اور غیر ریاستی عناصر کے حوالے سے بنیادی سوالوں کا جواب کیوں نہیں؟چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جواب پتہ کر لیں اگر جواب نہ ملے تو سمجھ لیں گڑ بڑ ہے۔ معاملہ کی سماعیت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے کہ زیر حراست افراد کی تفصیلات ان کے خاندان کی ڈیمانڈ پر افشاں نہ کی جائیں۔ 25 ویں آئینی ترمیم کے بعد راتوں رات حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے۔ چیف جسٹس نے ایک موقع پر کہا کہ عدالت کے سامنے سوال حراستی مراکز کی آئینی حیثیت کا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکیس دیئے کہ غیر ریاتی عناصر کو کوئی ا یکٹ بھی تحفظ نہیں دیتا۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حراستی مراکز کے کام کے طریقہ کار سے متعلق عدالت کو وڈیو بھی دکھاؤں گا۔ معاملہ کی سماعت بدھ تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔ 

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول