حکومتی وسائل میں نان ٹیکس ریونیو بڑھانا اولین ترجیح:وزیر اعظم

حکومتی وسائل میں نان ٹیکس ریونیو بڑھانا اولین ترجیح:وزیر اعظم

  



اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزا یجنسیا ں) وزیراعظم عمران خان نے ہوا سے 360میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے، وزیراعظم نے کہا ہے کہ ماضی میں الیکشن جیتنے کیلئے مختصر مدتی اور صرف 5سالہ منصوبوں کو ترجیح دی گئی جس سے ملک کو نقصان ہوا اور طویل المدتی منصوبے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت سے بھی پیچھے چلا گیا، موجودہ حکومت نے ایک سال کا سخت وقت گزارنے کے بعد معیشت کو درست سمت پ لے آئی ہے اور آج پاکستانی روپیہ اوپر جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے ہوا سے 360 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے سپر سکس منصوبے کے معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں اور اس پر اپنے ملک کیلئے بہت خوش ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تین بار چین کا دورہ کیا اور وہاں کی تھنک ٹینکس سے ملاقاتیں کیں،چین میں 70لاکھ لوگوں کو غربت سے نکالنا دنیا کی تاریخ میں بہت بڑا معجزہ ہے، چین نے طویل مدتی پالیسیوں کی وجہ سے کامیابیاں حاصل کیں لیکن پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ ہم نے کم مدتی پلاننگ کی تھی، پانچ سال کی پالیسی بنائی جاتی ہے اوراس پ الیکشن دوبارہ جیتنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہی پاکستان اور چین کے درمیان واضح فرق ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے ماضی میں کچھ تو ایسا غلط کیا ہو گا جو ہم ایشیا میں سب سے سستی بجلی سے سب سے مہنگی بجلی کی طرف چلے گئے اور اس کی وجہ شارٹ ٹرم منصوبے بنائے،ہم نے طویل مدتی منصوبے نہیں بنائے، آنے والی نسلوں اور ویلتھ ایمبرڈ کرنے کی کوشش نہیں کی، سنگاپور کی 300 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ہے جبکہ پاکستان کی صرف 25ارب ڈالر کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سپرسکس منصوبے کے تحت سستی بجلی ملک میں آئے گی اور یہ منصوبہ ہے کہ 2030تک 60فیصد سستی بجلی پیدا کی جائے جبکہ یہ بجلی ماحول دوست ہو گی کیونکہ آنے والے دنوں میں گلوبل وارمنگ  شدید خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوا سے بجلی کی پیداوار نہ صرف ماحول دوست بلکہ سستی بھی ہوگی، ہماری حکومت کا اقتصادی لحاظ سے پہلا سال بہت مشکل تھا، لیکن اب 14ماہ کے بعد ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے، اب ہماری کوشش ہے کہ اپنے غریب عوام کی ہر طح مدد فراہم کرے اور ملک میں سرمایہ کاری اور ٹیکس کے نظام کو بہتر بنا کر معیشت کو درست سمت پر جاری رکھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس منصوبے میں شامل تمام لوگوں ار ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے بڑا مشکل وقت گزارا ہے اور ہمیں 20ارب ڈالر کاخسارہ ملا تھا، لیکن ہم نے کوشش کی کہ اس کو بہتر بنائے اور اب بہتر معاشی پالیسی سے پاکستانی روپیہ جو گرتا جا رہا تھا دوبارہ سے مستحکم اور اوپر کی طرف جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی چوری روکنے سے 120ارب روپے کی بچت کی ہے جس پر وفاقی وزیر توانائی عمر اویب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور یہ بہت ان کی وزارت کی بہت بڑی کامیابی ے جس پر حکومت اور عوام کی طرف مبارکباد پیش کرتا ہوں، قبل ازیں وزیراعظم نے ہوا سے 310میگاواٹ بجلی پیدا کرنے سپرسکس منصوبے کی معاہدے پر دستخط کئے، جس کے 6 منصوبوں پر 45کروڑ ڈالر لاگت آئے گی اور اس منصوبے میں عالمی مالیاتی کارپوریشن اور عالمی مالیاتی بینک تعاون کرے گا اس منصوبے کیلئے 32کروڑ ڈالر عالمی مالیاتی بینک فراہم کرے گا۔بعدازاں وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نجکاری عمل میں پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی وسائل میں نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، نجکاری کا مقصد روزانہ کی بنیاد پر سرکاری خزانے کو بھاری خسارے سے بچانا ہے، یہ تاثردرست نہیں نجکاری کے تحت حکومت محض نقصان کے حامل اداروں سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتی ہے،اثاثوں اور اداروں کی نجکاری کے عمل میں شامل تمام وزارتوں کے متحرک کردار اور بھرپور تعاون کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، معاون خصوصی برائے اطلاعات  ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری، سیکرٹری نجکاری رضوان ملک و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔اجلاس میں نجکاری عمل میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم کو نجکاری کے لئے نشاندہی کی جانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل میں اب تک کی پیش رفت کی رپورٹ پیش کی گئی۔وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نجکاری کا مقصد جہاں روزانہ کی بنیاد پر سرکاری خزانے کو کروڑوں اربوں روپے کے خسارے سے بچانا ہے وہاں اس عمل کا مقصد ان اداروں کو کہ جن کی کارکردگی ان کی استعداد کے مطابق نہیں ان کو متعلقہ شعبوں میں اہل افراد کے حوالے کرنا ہے تاکہ ان اداروں کے پوٹینشل کو صحیح معنوں میں برؤے کار لا کر ان سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثردرست نہیں کہ نجکاری کے تحت حکومت محض نقصان کے حامل اداروں سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ نجکاری کے عمل سے ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی جن کی کاکردگی عدم توجہ کے باعث گذشتہ سالہا سال سے ان کی اصل استعداد سے کم رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ نجکاری عمل کی جلداز جلد تکمیل سے حکومتی مالی وسائل خصوصاً نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا جس سے حکومت کی جانب سے عوامی فلاح وبہبود کے زیادہ منصوبے شروع کرنے اور صحت، تعلیم و دیگر سہولتوں کی عوام تک فراہمی میں آسانی پیدا ہوگی۔وزیرِ اعظم نے سیکرٹری نجکاری کو ہدایت کی کہ نجکاری کیلئے نشاندہی کئے جانیوالے تمام اداروں کی نجکاری کو مقررہ ٹائم فریم میں مکمل کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے حکومت نجکاری ڈویژن کو درکار تمام ضروری وسائل فراہم کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اثاثوں اور اداروں کی نجکاری کے عمل میں شامل تمام وزارتوں کے متحرک کردار اور بھرپور تعاون کو بھی یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہونے کے سبب وزیرِ اعظم آفس کو نجکاری عمل کی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جائے اور اس ضمن میں کسی بھی دقت کو ہنگامی بنیادوں پر دور کیا جائے۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کو تمام تر توجہ لوکل باڈیز کے الیکشن کے انعقاد پر مرکوز کرنے اور پنجاب کے تمام اضلاع میں تنظیم سازی بھی جلدازجلد مکمل کرنے کی ہدایات کی گئی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے ہدایت ملنے کے بعد وزیر اعلی پنجاب بھی نئی مقامی حکومتوں کے نظام لانے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں۔مزید برآں وزیراعظم عمران خان سے معاون خصوصی یوتھ افیئرزعثمان ڈار نے ملاقات کی،وزیراعظم کو کامیاب جوان پروگرام کی ماہانہ رپورٹ پیش کر تے ہوئے پروگرام کی شفافیت میرٹ اور درخواستوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔اس موقع پروزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ یقین ہے کامیاب جوان پروگرام معیشت کی بہتری میں سازگار ثابت ہوگا،نئے کاروبار سے اقتصادی صورت حال میں بھی بہتری آئیگی،نوجوانوں کے درپیش روزگار کے مسائل حل کرنا ترجیح ہے، میرٹ اور شفافیت پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،نوجوانوں کیلئے وہ سب کریں گے جس سے کامیابی کی راہ ہموار ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان ملک کا اثاثہ ہیں حکومتی سرپرستی ہر حال میں یقینی بنائیں گے،نوجوان ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان

مزید : صفحہ اول