کتے کے کاٹنے کا لرزہ خیز واقعہ،سنھ کی سیاست میں ہل چل

کتے کے کاٹنے کا لرزہ خیز واقعہ،سنھ کی سیاست میں ہل چل

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی کے گڑھ اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے شہر لاڑکانہ میں پیش آئے واقعے میں بچے کو ویکسین تک نہ مل سکی۔6سالہ حسنین کو کراچی منتقل کیا گیا ہے جو تاحال نجی اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہے۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق بچے کو طبی امداد دی جا رہی ہے، بچے کے چہرے کا ایک حصہ کتے کے کاٹنے سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔نجی اسپتال کی انتظامیہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ جسم کے دیگر مقامات پر بھی کتے کے کاٹنے کے زخم ہیں، ابتدائی طور پر بچے کو نیورو کے مسائل لگتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سندھ کے شہر لاڑکانہ میں بچے کو کتے کے کاٹنے کا واقعہ پیش آیا جہاں 6 سے 7 کتوں نے کمسن بچے حسنین بگھیو پر حملہ کیا اور اس کا منہ کھا گئے، دربدر کی ٹھوکروں کے بعد متاثرہ بچے کو این آئی سی ایچ اسپتال کی ایمرجنسی سے آئی سی یو منتقل کردیا گیا۔آٹھ سالہ متاثرہ بچے کے والدین کو دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑیں، متاثرہ بچے کو لے کر والدین کو ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال بھیجا گیا، ابتدائی طور پر والدین لاڑکانہ سے انڈس اسپتال آئے، انڈس اسپتال سے کچھ دیر بعد فارغ کرکے بچے کو سول اسپتال بھیجا گیا، بعد ازاں سول اسپتال انتظامیہ نے بھی بچے کا کیس لینے سے انکار کردیا۔سول اسپتال انتظامیہ نے بچے کو جناح اسپتال لے جانے کا مشورہ دیا، بعد ازاں والدین بچے کو لے کر این آئی سی ایچ اسپتال پہنچے۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق حسنین ایمرجنسی میں ہے، طبی امداد دی جارہی ہے، بچے کے چہرے کا ایک حصہ بری طرح متاثر ہوا ہے، بچے کے ٹیسٹ کرلیے ہیں، رپورٹس آنے میں کچھ وقت لگے گا، ابتدائی طور پر بچے کو نیورو کے مسائل لگتے ہیں، بچے کے علاج کے لیے حکمت عملی بنارہے ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق حسنین کی حالت تشویش ناک ہے، علاج کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے گی، ڈاکٹرز کی مشاورت کے بعد بچے کی سرجری کا فیصلہ ہوگا۔بچے کے چچا صدام حسین نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حسنین کی حالت بہت خراب ہے، حسنین کو دوائیاں اور انجکشن دیئے گئے ہیں، ہم بہت غریب لوگ ہیں، ہمارے ساتھ تعاون کیا جائے۔متاثرہ بچے کے والد غلام حسین نے بتایاکہ بچے کے علاج کے لیے خون کی10بوتلیں منگوائی گئی ہیں، والد نے اعلی حکام سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ خون کی بوتلیں کہاں سے لائیں؟ ہمارا کوئی مسیحا بنے۔والدنے کہاکہ کمسن بیٹے حسنین بگھیو کو آوارہ کتوں نے کاٹ کر زخمی کیا، کھیتوں میں موجود لوگوں نے حسنین کو آوارہ کتوں سے چھڑایا، پہلے بچے کو تشویشناک حالت میں چانڈکا اسپتال لے کر گئے، جہاں بچے کو اینٹی ربیزویکسین سمیت دیگر طبی سہولیات فراہم کی گئیں، حکومت آوارہ کتوں کا خاتمہ کرے تاکہ دیگر بچوں کو بچایا جاسکے۔دوسری جانب وزیراعلی کے مشیر مرتضی وہاب نے افسوسناک واقعے کا ذمہ دار وفاقی حکوت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوائیں امپورٹ کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے، جس کی ادائیگی سندھ حکومت کرچکی ہے۔ دریں اثنا پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہرنے جناح اسپتال میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی جیسے شہر میں بھی کتے کے کاٹنے کی ویکسین موجود نہیں ہے۔راجہ اظہر نے کہا کہ بچے کے اہل خانہ اسپتالوں میں دربدر پھرتے رہے، حکومت سندھ بچے کو فوری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے، جناح اسپتال انتظامیہ بچے کو بچانے کے لیے ہرممکن اقدام کرے۔دریں اثناء: پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے آفتاب صدیقی نے سگ گزیدگی کا شکار بچے حسنین بگھیو کے علاج معالجے کا خرچہ اٹھانے کا اعلان کردیا۔ایم این اے آفتاب صدیقی نے متاثرہ بجے کے علاج معالجے کا بیڑا اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کی ہرممکن مدد کریں گے۔ ان کا سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لاڑکانہ میں لوگ بھوک بیماریوں کے بعد کتے کے کاٹے سے مرنے لگے ہیں۔

مزید : صفحہ اول