14ماہ بعد بھی حکمران فیڈر چھوڑنے کو تیار نہیں‘ سراج الحق

14ماہ بعد بھی حکمران فیڈر چھوڑنے کو تیار نہیں‘ سراج الحق

  



ملتان(پ ر) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے حکمرانوں کومشورہ دیا ہے کہ فریڈم کا نوائے لیکر ایل او سی پر جائیں۔فریڈیم کانوائے اقوام متحدہ اوراو آئی سی کے راہنما ؤں سمیت انسانی حقوق کی ملکی و عالمی تنظیموں، ریڈ کراس اور ہلال احمر کے نمائندوں پر مشتمل ہو۔ فریڈم کا نوائے میں خوراک،ادویات اور ضروریات زندگی کشمیریوں تک پہنچائی جائیں۔اب تک کی حکومتی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ حکمرانوں نے بے حمیتی کی چادر اوڑھ رکھی ہے ان چراغوں میں تیل نہیں ہے،حکمران زندہ لاشیں ہیں (بقیہ نمبر37صفحہ12پر)

۔مودی چند مہینوں کے اندر کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دے گا اور پھر سقوط غرناطہ اور ڈھاکہ کی طرح کشمیر بھی قصہ پارینہ بن جائے گا۔حکمران کالی پٹیاں باندھ کر سلطان ٹیپو اور دفتر سے نکل کر آدھا گھنٹہ احتجاج کرکے محمود غزنوی بننے کی کوشش کررہے ہیں۔غزہ میں تین دن میں 40فلسطینی مسلمانوں کو شہید کردیا گیا ہے۔مگر دنیا کی طرح 57مسلم ممالک کے حکمران بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ 14ماہ بعد بھی حکمران فیڈر چھوڑنے کو تیار نہیں۔مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اور وزراء عوام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر میں ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کی چیخیں آسمان سن رہا ہے مگر ہمارے حکمران بہرے اور گونگے بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں کرفیو کو ایک سو تین دن گزر چکے ہیں، حکمرانوں نے آج تک قوم کو کوئی لائحہ عمل اور روڈ میپ نہیں دیا۔اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر کے بڑے چرچے ہوئے لیکن اس کاکوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔دوسری طرف مودی لاکھوں ہندؤں کو کشمیر میں زمین الاٹ کررہا ہے اور تاریخی مقامات کو ہندؤں کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے دنوں میں کشمیر میں ہندو اکثریت میں اور مسلمان دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں نے پوری قوم کو ایک فریب میں مبتلا کررکھا ہے۔عوام پر غربت بھوک اور خوف مسلط ہے۔ظلم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔غریب کی کسی جگہ شنوائی نہیں۔عدالتوں کے دروازے سونے کی چابی سے کھلتے ہیں اس لیے غریب خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔رہزن رہبر بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 72سال گزر گئے ملک پر ابھی تک ظالمانہ استحصالی نظام اور انگریز کے ذہنی غلام مسلط ہیں۔مائیں بچے جنتی ہیں مگر ظالم جاگیرادوں اور بے رحم سرمایہ کاروں کی غلامی کے لیے۔سامراجی مالیاتی نظام اور سودی معیشت سے غریب کی غربت اور امیر کی دولت میں اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاست،جمہوریت،پٹوارخانے اور تھانے سب کرپٹ مافیاز کے ہاتھو ں یرغمال ہیں۔جن عظیم مقاصد کے لیے اللہ تعالیٰ سے اسلامی نظام نافذ کرنے کے وعدے پر پاکستان حاصل کیا گیا تھا،اس سے انحراف پاکستان کو دولخت کیا اور آج باقی ماندہ ملک بھی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔

مزید : صفحہ اول /ملتان صفحہ آخر