گندم کی درآمدی قیمت میں اضافہ خوش آئند ہے‘ میاں زاہد حسین

گندم کی درآمدی قیمت میں اضافہ خوش آئند ہے‘ میاں زاہد حسین

  



ملتان(نیوز رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م کے صدر اوربزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت میں (بقیہ نمبر51صفحہ12پر)

پانچ سال بعد 50 روپے من کا اضافہ خوش ا?ئند ہے جس سے کاشتکاروں کوکچھ ریلیف ملے گا تاہم اس سے روٹی کی قیمت میں اضافہ بھی ممکن ہے جسکی قیمت گزشتہ ایک سال کے دوران دو بار بڑھائی جا چکی ہے۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کے مطابق ملک میں گندم کے وافر اسٹاک موجود ہیں تاہم نجی شعبہ کی جانب سے بحران کا اندیشہ ظاہر کرنے کے بعدصورتحال کی دوبارہ تخمینہ کاری کی جا ئے تاکہ نئی فصل ا?نے تک طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ حکومت کے مطابق اسکے پاس 45 لاکھ ٹن گندم موجود ہے جو اگلی فصل تک ملکی ضروریات کے لئے کافی ہے تاہم خراب موسم کی وجہ سے فصل میں تاخیریا کسی بھی غیر متوقع صورتحال کی وجہ سے مشکلات پیش ا? سکتی ہیں اس لئے نجی شعبہ کی جانب سے3 لاکھ ٹن تک گندم درا?مد کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس پر غور کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ گندم کی افغانستان ا سمگلنگ بھی جاری ہے جس سے اسٹاک پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ سندھ میں گندم کے ذخائرکی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے۔پنجاب میں 45لاکھ ٹن گندم موجود ہے، خیبر پختونخواہ میں صرف 2 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ ہے جبکہ حکومت سندھ میں 8 لاکھ ٹن گندم کی موجودگی کا دعویٰ کر رہی ہے جس پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ سندھ کی حکومت نے گزشتہ سیزن گندم کی خریداری نہ کر کے غیر یقینی صورتحال کو ہوا دی ہے جس سے کراچی کے تاجر پریشان ہیں جہاں ماہانہ ایک لاکھ ٹن گندم استعمال ہوتی ہے۔اسٹاک کے مقابلے میں گندم کم ہونے کی افواہوں نے بھی گندم کی قیمت کو بڑھادیا ہے اور حکومت کی جانب سے مداخلت نے صورتحال پر کوئی مثبت اثر مرتب نہیں کیا جس کے نتیجہ میں عوام کو مہنگا ا?ٹا خریدنا پڑ رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت صورتحال پر قابو پانے کے لئے دو سے تین لاکھ ٹن گندم کی ڈیوٹی فری امپورٹ کی اجازت دے تاکہ افواہوں اور سٹے بازی کی حوصلہ شکنی ہو اور ا?ٹے کی قیمت کم کی جا سکے اور غریب عوام کو ایک نئی افتاد سے بچایا جاسکے۔

زاہد حسین

مزید : صفحہ اول /ملتان صفحہ آخر